14

واہ رے امریکہ

تحریر۔۔راجہ شہزاد معظم
قارئین!ملک عزیز کو معرض وجود میں آئے کم و بیش انہتربرس ہونے کو ہیں۔ میں پیدا ہوا تو دادا جی بتایا کرتے تھے کہ امریکہ ایک ملک ہے جس سے ساری دنیا ڈرتی ہے۔ اس وقت سے میرے دل میں امریکہ ڈریکولا کی مانند خوابوں میں آتا رہتا ہے۔کبھی مجھے چٹکی کاٹ کر بھاگ جاتا ہے،کبھی میرے گال پر طمانچہ مار کر رو پوش ہو جاتا ہے اور کبھی مجھے پیسے دے کر میری دھرتی ماں کے خلاف مجھے اکساتا ہے۔دادا جی کو فوت ہوئے کافی عرصہ بیت گیا مگر امریکہ فوت ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا۔ بلکہ شائد جب میں دادا بنوں گا تو اپنے پوتے پوتیوں کو امریکہ بہادر کی کہانیاں سنایا کروں گا۔
پیدائش سے لے کر آج تک میں اور میری ساری قوم اس امریکہ کی غلام ہے۔ شنید ہے کہ آنے والی سات نسلیں بھی اس کی غلامی میں زندگی کے ایام بتائیں گی۔جس طرح حضرت ابراہیم خلیل اللہ کبھی چاند کو ،کبھی سورج کو اور کبھی کسی بھی دیو ہیکل شے کو خدا سمجھتے تھے اسی طرح میں اور میری بیچاری قوم نام نہاد سپر پاور امریکہ کو نعوذ باللہ خدا تصور کئے ہوئے ہے،اور وائٹ ہاﺅس کے ایک اشارے پر امریکی بدمعاش ریمنڈ ڈیوس کو باوجود اس کے کہ اس نے دن دیہاڑے قتل و غارت گری کی سپیشل چارٹرڈ طیارے کے ذریعے امریکہ بھیج دیا گیا۔
ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے کس کو گولی ماری یا بم سے اڑایا؟ ہمارے صاحب لوگوں نے اسے امریکہ کے حوالے کیا ،جہاں اس حافظ قرآن اور دنیا کی عظیم نیورو سرجن کا نروس بریک ڈاﺅن کرنے کے لئے نہ صرف امریکی عالمی امن کے ٹھیکیداروں نے اس پر جسمانی تشدد کی انتہاءکی بلکہ اس با عصمت خاتون کی جنسی تذلیل کی گئی۔ مسلمانو آپ کوکیا ہو گیا؟سندھ سے چل کر سترہ سالہ محمد بن قاسم ایک عورت کی جان بچانے کے لئے راجہ داہر کی طاقت ور فوجوں سے ٹکرا گیا۔ آپ بھی تو اسی کے شجرے سے متعلق ہیں،پھر آپ کی غیرت کدھر کھو گئی؟
کاکول اکیڈمی سے صرف سترہ کلو میٹر دور امریکہ نے آ کر اسامہ کے خلاف آپریشن کیا۔ اور ہم دیدے پھاڑ پھاڑ کر دیکھنے کے علاوہ کچھ بھی نہ کر سکے۔ یہاں تک کہ ہمارے وزیر اعظم نے خصوصی بیان میں دنیا کو بتایا کہ ہم نے دنیا کے خطر ناک دہشت گرد کو مار دیا ہے۔اور اس کے بعد جو رپورٹ دفتر خارجہ میں جمع کرائی گئی اسے عوام سے امریکیوں کے خوف سے چھپا کر رکھا گیا۔جو کہ حال ہی میں منظر عام پر آئی۔مجھے بتائیے ہم غلام ہیں یا آزاد؟ ہم تو امریکہ کے دم چھلے بلکہ ٹشو پیپر ہیں جسے وہ بوقت ضرورت استعمال کرنے کے بعد ڈسٹ بن میں پھیک دیتا ہے۔
کیا کوئی ملک دوستی کا دعویٰ بھی کرے اور یہ بھی کہے کہ اگر ہمیں افغانستان پر حملے کا راستہ نہ دیا گیا تو ہم تمہیں پتھر کی دنیا میں دھکیل دیں گے۔ ایسے دوست اور ایسی دوستی پر میں تو ایک کروڑ مرتبہ تھوکتا ہوں۔ آپ کا جی چاہے تو صرف ایک مرتبہ تھوک کر محب الوطنی کا ثبوت دے دیں۔لیکن مجھے پتہ ہے آپ ایسا نہیں کریں گے کیوں کہ وہ خوف جو میرے دادا جی نے میرے دل میں ڈالا تھا وہ آپ سب کے داداﺅں اور ناناﺅں نے آپ کے دل میں بھی ٹھونسا ہوا ہے۔
آپ مانیں یا نہ مانیں ہم امریکہ کے غلام ہیں۔غلام اگر برا لفظ ہے تو ہم امریکہ کی کٹھ پتلیاں ہیں۔ وہ جب چاہتا ہے ہم سے پتلی تماشہ کروا کہ معذوذ ہوتا ہے اور پھر ہمیں اپنا مقصد پورا کرنے کے بعد ٹھڈے مار کر دور کر دیتا ہے۔ جب اس کی ضرورت ہوتی ہے تو وہ ڈالرز کی صورت میں کچھ رقم ہمارے منہ میں ڈال دیتا ہے۔ یہ رقم اتنی ہوتی ہے جتنی کہ بڑے گوشت کی ہڈی۔ جب تک ہڈی ہمارے منہ میں رہتی ہے ہم امریکہ کے گن گاتے رہتے ہیں۔ جب ہڈی ختم ہوتی ہے تو ہم مزید ہڈی کی تلاش میں دو چار اور فہیم اور فیضان پھڑکا دیتے ہیں،یا کوئی عافیہ امریکہ کے حوالے کر دیتے ہیں یا پھر کسی حرام خور ڈیوس کو بغیر عدالتی ٹرائل کے اپنے وضح کردہ قانون کے تحت اپنے باس امریکہ کو دے دیتے ہیں۔
اگر ایسا کچھ بھی نہ ہو تو پیسے لے کر نیٹو سپلائی بحال کر دیتے ہیں۔ یا پھر اپنی سر زمین پر اسے ڈرون حملے کرنے کی اجازت دینے کے لئے قانون سازی کرتے ہیں۔ اے با غیرت پاکستانیو آپ کو او ر مجھے کیا ہو گیا ہے۔ کیا ہم بھنگ کے نشے میں بد مست ہیں یا ڈالرز کی خوشبو ہمیں اپنی عزت اور خودی سے زیادہ پیاری ہے؟ لگتا ہے کہ امریکہ رفتہ رفتہ ہمارے سارے احساسات کو کچل کر ہمیں گدھوں کی طرح بے حس کر دے گا یا ہمیں ٹرینڈ کتوں کی طرح اپنے اشاروں پر دم ہلانے پر مجبور کر دے گا۔
ایران کے پاس کیا ہے؟ وہ امریکہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرتا ہے اور جب صدر خامنی عربی میں تقریر کرتے ہیں تو ان کا اتنا رعب و دبدبہ ہوتا ہے کہ وائٹ ہاﺅس کے ذمہ داران کی پتلونیں گیلی ہو جاتی ہیں۔ یہ صرف خود داری ہے جس کا فلسفہ ایران نے ہمارے شاعر اسلام ڈاکٹر اقبال سے سیکھا ہے۔بھارت کے پاس کیا ہے کہ امریکہ بھارتی ظلم و جبر پر آنکھیں میچے ہوئے ہے۔ میں بتاتا ہوں بھارت کے پاس جذبہ حب الوطنی ہے جس کی وجہ سے امریکہ بہادر کو وہاں انسانی حقوق کی خلاف ورزی نظر نہیں آتی۔
اقبال سے معذرت کے ساتھ:
ہو حلقہ یاراں تو فولاد ہے مومن۔۔
رزم حق و باطل ہو تو بریشم کی طرح نرم
آج کا مسلمان اقبال کے اس شعر کی ترجمانی کر ہا ہے۔ حالانکہ اقبال حلقہ یاراں میں مومن کو بریشم کی طرح نرم کہتے تھے۔ لیکن جب افغانستان یا عراق کی باری ہو تو ہم اتحادیوں کے ساتھی بن کے فولاد بن جاتے ہیں۔ اور جب امریکہ، اسرائیل اور بھارت کا معاملہ ہو تو ہم بیک ڈور ڈپلومیسی یا اقبال کے الفاظ میں ریشم کی طرح نرم بن جاتے ہیں۔
ہم غلام ہیں۔ ہم غلام ہیں۔ ہم غلام ہیں۔ آپ نہ مانیں تو نہ سہی لیکن ہم امریکہ اور بھارت کے غلام ہیں۔ خداراہ ہوش کے ناخن لیں اور آئی ایم ایف پر تھوک کر اپنے وسائل سے اپنا کمائیں اور اپنا کھائیں۔ کیوں کہ بقول اقبال:
اے طائر لا ہوتی اس رزق سے موت اچھی
جس رزق سے آتی ہے پرواز میں کوتاہی
اللہ سے دعاہے کہ وہ ہمارے دلوں سے ان دنیاوی طاقتوں کا خوف محو کر دے اور ہم ایک خود دار آزاد قوم بن کر سر اٹھا کر جئیں۔آمین۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں