13

بارانی علاقوں میں مونگ اور ماش کی کاشت

(زرعی فیچر سروس )
مونگ اور ماش خریف کی اہم دالیں ہےں اورصوبہ پنجاب میں انہیں ہر سال وسیع رقبہ پر کاشت کیا جاتا ہے۔ مونگ میں دیگر معدنی اجزاءکے علاوہ 20 تا 25 فیصد پروٹین پائی جاتی ہے اس لئے اس کا بطور خوراک استعمال غذا کو متوازن بناتا ہے۔ اسی طرح ماش میں بھی 20 تا 25 فیصد پروٹین انسانی غذا کا اہم جزو ہوتا ہے۔بڑھتی ہوئی آبادی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے ان دالوں کی اہمیت میں اور بھی اضافہ ہوگیا ہے۔ پنجاب میں دیگر علاقوں کی طرح بارانی علاقوں میں بھی مونگ اور ماش کی کاشت کو بڑھانے کی ضرورت ہے۔ بارانی علاقوں کے کاشتکار بارشوں سے حاصل ہونے والے وتر سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مونگ اور ماش کی کاشت کو فروغ دیں۔ مونگ اور ماش کی کاشت رےتلی ےا ہلکی مَےرا زمےنوں سے لےکر بھاری مَےرا زمےنوں تک ہر قسم کی زمےن میں کی جا سکتی ہے لےکن مَےرا زمےن ان کے لےے زےادہ موزوں ہے۔ بہت زےادہ رےتلی ےا ہلکی مَےرا زمےن ان کی نشوونما پر اور زےادہ بھاری مَےرا زمےن پھول اور بےج بننے کے عمل پر منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔کلراٹھی اور سیم زدہ زمین مونگ اور ماش کی کاشت کےلئے مناسب نہیں ہے۔ مونگ اور ماش کی کاشت کے لےے زمےن کو زےادہ تےاری کی ضرورت نہےں ہوتی۔ اےک دفعہ مٹی پلٹنے والا ہل اور بعد ازاں اےک ےا دو دفعہ عام ہل چلا کر سہاگہ کی مدد سے زمےن کو ہموار کر لےا جائے۔ کھےت کی سطح کا ہموار ہونا نہاےت ضروری ہے۔ بارانی علاقوں مےں عموماً کھےت نا ہموار ہوتے ہےں۔ بارشوں کی وجہ سے کھےت کے اُونچے حصوں سے نمکےات پانی مےں حل ہو کر نچلے حصوں مےں جمع ہوتے رہتے ہےں اور ان حصوں مےں نمکیات کی زیادتی کی وجہ سے پودوں کی نشوونما بہتر انداز میں نہیں ہوسکتی جبکہ نشےبی حصوں مےں پانی کھڑا رہ جانے کی صورت مےں پودے ےا تو سوکھ جاتے ہےں ےا ان کی نباتاتی بڑھوتری بہت زےادہ ہو جاتی ہے۔ بارانی علاقوں میں فصلوں کی کاشت کا دارومدار بارشی پانی پر ہونے کی وجہ سے کھیت کی ہمواری کی بہت زیادہ اہمیت ہے۔ کھیت ہموار ہونے کی صورت میں پانی، کھاد، بیج اور دیگر ضروری اجزاءکی فصل کو فراہمی یکساں اور مناسب ہوتی ہے جس سے فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ ممکن ہے اس لئے بارانی علاقوں میں مونگ اور ماش کی کاشت کے لئے جس حد تک ممکن ہو کھیتوں کو ہموار کیا جائے۔مونگ و ماش کی فی ایکڑ زیادہ پیداوار حاصل کرنے کے لئے محکمہ زراعت کی طرف سے منظور شدہ اقسام کی کاشت ضروری ہے۔ منظور شدہ اور ترقی دادہ اقسام علاقوں کی آب و ہوا، درجہ حرارت اور دیگر موسمی و زمینی حالات کو مدنظر رکھ کر منظور کی جاتی ہیں۔ بارانی علاقوں کے کاشتکار مونگ کی کاشت کے لئے این ایم 2011 اور چکوال ایم۔6 کاشت کریں جبکہ ماش کی ترقی دادہ اقسام چکوال ماش اور ماش97 ہیں۔ ےہ اقسام اچھی پےداواری صلاحےت کی حامل ہونے کے ساتھ بےمارےوں کے خلاف قوتِ مدافعت بھی رکھتی ہےں۔ بارانی علاقوں مےں مونگ اور ماش کی کاشت مون سون کی پہلی بارش کے بعد زمےن وتر آنے پر شروع کی جاتی ہے۔ مونگ اور ماش کی بہتر پےداوار حاصل کرنے کے لےے مونگ کا بیج 10 سے 12 کلو گرام فی ایکڑ اور ماش کا بیج 8 سے10 کلوگرام فی ایکڑ استعمال کریں۔ بےج خالص ،صاف ستھرا اور صحت مند ہونا چاہےے۔ اگر بےج ٹوٹا ےاکےڑا وغےرہ لگا ہو تو کاشت سے پہلے اس کی شرح روئےدگی معلوم کر کے اس کے مطابق شرح کا تعےن کر لےنا چاہےے۔ مونگ اور ماش دونوں کا تعلق پھلی دار اجناس کے خاندان سے ہے۔ اس لےے ان کو نائٹروجن کھاد کی زےادہ ضرورت نہےں پڑتی بلکہ ےہ اپنی ضرورت کے لےے نائٹروجن اپنی جڑوں کی مخصوص ساخت کے ذرےعے زمےن مےں موجود بےکٹرےا (Rhizobium) کی مدد سے ہوا سے حاصل کر لےتی ہےں تا ہم پودوں کی ابتدائی بڑھوتری کےلئے شروع مےں 8تا11کلو گرام نائٹروجن فی اےکڑ ضرور استعمال کرنی چاہےے۔ ان فصلوں کو نائٹروجنی کھاد کی نسبت فاسفورسی کھاد کی زےادہ ضرورت ہوتی ہے۔ فاسفورس پےداوار بڑھانے اور فصل کو جلد پکنے مےں مدد ےتی ہے۔ دونوں فصلوں کےلئے 23کلوگرام فاسفورس فی اےکڑ استعمال کریں۔ بارانی علاقوں مےں مونگ اور ماش کی کاشت بذرےعہ پور، کےرا ےا ربےع ڈرل کرنی چاہےے۔ قطاروں کا درمےانی فاصلہ 30سےنٹی مےٹر (اےک فٹ)اور بےج کی گہرائی 3سے5سےنٹی مےٹر (ڈےڑھ انچ سے دو انچ) رکھی جائے۔ ان فصلوں کی کاشت بذرےعہ چھٹہ ہر گز نہ کی جائے کےونکہ اس طرےقہ کاشت سے فی اےکڑ بےج زےادہ استعمال کرنا پڑتا ہے۔ بےج کا اگاو¿ ےکساں نہےں ہوتا جس کی وجہ سے فصل بےک وقت نہےں پکتی۔ جڑی بوٹےوں کی بہتات ہو جاتی ہے اور ان کی تلفی نا ممکن حد تک دشوار ہوجاتی ہے۔ پودوں کا درمےانی فاصلہ اےک جےسا نہ ہونے کی وجہ سے غذائی عناصر کی تقسےم ےکساں نہےں ہوتی۔ نتےجتاً پےداوار مےں کمی واقع ہو جاتی ہے۔پودے جب 8سے10دن کے ہو جائےں تو چھدرائی کا عمل ضروری ہے۔ قطاروں مےں پودوں کا آپس مےں فاصلہ8 سے 10سےنٹی مےٹر (3تا4انچ) رکھنا چاہےے۔ ےہ فاصلہ رکھنے کے لےے زائد پودے نکال دئےے جائےں۔ فصل کو جڑی بوٹےوں سے پاک کرنا نہاےت ضروری ہے۔ اس مقصد کے لیے فصل کی کاشت کے لئے زمےن کی تےاری سے پہلے اےک مرتبہ گہرا ہل چلانے سے جڑی بوٹیوں پر کافی حد تک قابو پاےا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ فصل کے اُگنے کے پندرہ بےس دن بعد اےک مرتبہ گوڈی کر دےنی چاہےے اور اگر ضرورت ہو تو فصل کے اگاو¿ کے 30سے 40دن کے بعد دوسری گوڈی کی جا سکتی ہے۔ البتہ فصل مےں پھول آنے کے بعد گوڈی ہر گز نہ کی جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں