20

مہنگائی غرےب کو بھکاری بنا رہی ہے

تحریر۔۔ظفراقبال ظفر
دوکاندار حضرات اس بات سے زےادہ واقف ہےں جبکہ مارکےٹوں بازاروں گلی محلوں مےں بھی آپ اس کثرت کی تصدےق کر سکتے ہےں کہ بھکارےوں کی تعداد مےں روز بروز اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے اقتدار کے گھوڑوں کی لگامےں پکڑنے والوں کی غرےب دشمنی مہنگائی کے زرےعے اپنے ظلم کا اعلان کرتی جا رہی ہے جس کی وجہ سے غرےب لوگ بے روزگارہوکر مہنگائی سہنے کی برداشت کھو تے جا رہے ہےں اور خودکشی کے قرےب جا کر اپنے بچوں کے لےے واپس لوٹ آتے ہےں کام مانگنے والے بھےک مانگنے پر آمادہ ہو کر اجنبی شہروں کا رُخ کرلےتے ہےں۔عورتےں چھوٹے چھوٹے بچوں کو ساتھ لےے راشن کے واسطے پےسے مانگتی پھرتی نظر آتی ہےں۔مےں اپنے آپ کو اُن کارو باری افراد مےں شمار کرتا ہوں جو ظلم خرےد کر ظلم بےچنے پر خود کو راضی نہ کرکے ناکام کاروباری کہلاتے ہےں کےونکہ چےزےں اپنی مالےت اور فائدے کی قےمت سے بھی آگے نکل چکی ہےںجو مہنگائی نہےں ظلم کا روپ ہےں اور اسی ظلم نے غرےب کو غربت کی لکےر سے بھی نےچے بھکاری پن کے حلقے مےں لا کھڑا کےا ہے۔ مےں اپنے کاروبار کے اڈے پر بےٹھا روز راشن تلاش کرنے والے مستحق لوگوں کی جذبہ انسانےت سے حسب توفےق مدد کرنا اپنے حقوق العباد کا فرض سمجھتا ہوں اور غرےب لوگوں سے خرےداری کرناےعنی اپنی ضرورت کے بنا اُن کی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے چےزےںخرےدنا بھی ثواب مانتا ہوں تاکہ کسی کو بھےک سے بچانے والی عزت نفس سلامت رہے۔ چند روز پہلے اےک انتہائی غرےب مجبور صاحب اولاد شخص بھےک مانگتے آےا جو بےٹھی ہوئی دےمی آواز مےں اپنی حاجت بےان کرنے لگتا تو الفاظ گلے مےں اٹک جاتے اس کی صدا پر کوئی پانچ کا سکہ تھما دےتا تو کوئی دس کا نوٹ اور کوئی لاکھوں کے کاروبار پر بےٹھ کر کہتا کہ معاف کرو۔اسے دےکھتے ہوئے مجھے اےسا محسوس ہونے لگا کہ وطن غرےباں مےں کوئی بھی سکھی نہےں ہر غرےب سےنے مےں کوئی سلگتا ہوا زخم لئے پھرتا ہے اور حساس لوگوں کے لےے تو دنےا مےں قدم قدم پر دوزخ کا دروازہ کھلتا ہے۔ مہنگائی بے روزگاری کے جبڑوں مےں پسے ہوئے اس مجبور غرےب کے چہرے پر غم کی کونپلےں پھوٹتی دےکھائی دے رہی تھےں مےں نے بڑی عزت و محبت سے اسے پاس بےٹھا کر مشروب پےش کرتے ہوئے کہا قبول فرمائےے پھر بڑی اپنانےت سے اس کی اُداسی کا سبب پوچھاتو اس نے نگائےں جھکا لےں مجھے اس کا حال پوچھنا غلطی لگ رہا تھا کہ جےسے مےں نے اس کی بے بسی کے پھوڑے کو چھےڑ دےا ہو۔اس کا چہرہ مےری نگاہوں کو جو محسوسات سونپ رہا تھا مجھ پرعےاں ہو رہی تھےں کہ ڈستی ہوئی خاموشی مےں وہ احساس غم کی دھار پر اپنی توقعات کو خود ہی زخمی کرتے ہوئے بولنے کی ناکام کوشش کرتا اور پھر سے ہمت ہار کر دوبارہ خاموشی مےں چلا جاتا۔ وہ بھکاری نہےں مزدور تھااور اپنے غم کا پردہ رکھنا جانتا تھا مےں نے اسے مزےد مجبور نہ کےا اور اپنی جےب سے اس دن کی ساری کمائی اس کے ہاتھوں مےںتھماتے ہوئے کہا قبول کر لےں گے تو مجھ پر احسان ہوگااس نے وہ رقم دےکھی تو آنکھوں مےں ہلکی سی چمک آئی اور چہرہ مرجھاہٹ کو توڑتے ہوئے کسی مصےبت کے کچھ روز ٹل جانے کے ےقےن کا احساس دےنے لگا اس کے حوصلے نے ہوش پکڑا اور بولامزدور تو روز اپنا کنواں کھود کر بھوک کی پےاس بجھاتا ہے اور اس پر وہ شکوہ بھی نہےں کرتا۔ مگر جب مزدوری نہ ملے اور قرض کوئی اس لےے نہےں دےتا کہ واپس دےنے کے حالات کا بندہ نہےںہوں۔ ہم غرےب لوگ نسلوں سے ٹےکس دے کر ملک کو پال رہے ہےں اور ےہ محب وطن ہم غرےبوں کو بے روزگاری کے چند دن بھی نہےں پال سکتے۔ جب بھی حاکم وقت نے ملک کے نام پر ہم غرےبوں کے تن ننگے کرنے کی کوشش کی تو ہمارا سخت جان افلاس کبھی بے پردگی پر آمادہ نہ ہوا ہم لاچاروں کا لباس چھےنا گےا تو ہم برہنہ جےنے کی بجائے شرم کا کفن اوڑھ کر زمےن کی گود مےں چھپ گئے اور زمےن کے اوپر والوں کو آسمان کے اوپر والے کے فےصلے پر چھوڑ دےا۔ہم غرےبوں کے لےے مزدوری ا ور کاروبار کے لےے کون تگ و دو کرئے گا ےہ سےاسی مذہب کے لوگوں کو تو اپنے اقتدار کے داغدار مزار پر سفےد ی کر نے سے ہی فرصت نہےں ملتی ۔اس آنکھےں رکھتے اندھے زمانے کا کےا علاج کہ ےہاں لےاقت کی قدر ہے نہ شرافت کی ہر بازار مےں طاقت کا سکہ چلتا ہے ۔غربت بھی کےا تلخ سزا ہے کہ کشمکش حےات ہر وقت کلےجہ چھنی کےے رکھتی ہے مےرا دل کہتا ہے کہ اس ملک مےں اےمانداری کے ساتھ زندگی جی جانے والے پر جنت واجب ہو جاتی ہو گی کےونکہ قدرت غرےبوں سے محرومےوں کا حساب نہےں لےتی بلکہ انعام دےتی ہے دنےا مےںتوغرےب کی قسمت کا فولاد صاحب اختےار لوگ اپنے عہدے کے مقناطےس سے کھےنچ لےتے ہےںاورغرےبوں کے سامنے ہی ان کا رزق ان کی کمزور گرفت سے چھلانگےں لگا کر بھاگتا ہے تو ان کی ضرورتےں ماتم کرنے لگتی ہےں۔کون نہےں جانتا کہ اس ملک مےں صاحب اختےار اور صاحب اقتدار لوگ باتوں کا کاروبار کرتے کرتے عےش کی زندگی جےتے رہتے ہےںاور ان کے گمراہ پےروکار ان کی شرافت کے قصےدے پڑھتے نہےں تھکتے جبکہ ان کی شرافت شر اور آفت کا مجموعہ ہوتی ہے اگر ےہ حقےقت کی نظروں سے دےکھ سکےں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں