14

مہنگائی کا طوفان بپا۔۔پٹرول ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچا

تحریر۔۔پروفیسر ڈاکٹر زارا خالد خان
پاکستان میں مہنگائی کا طوفان چاروں سمت بپا ہے ایک عام اور غریب پاکستانی شہری کا اس مہنگائی میں گزر بسر انتہائی مشکل و ناممکن ہوتا جا رہا ہے موجودہ حکومت جب اقتدار میں آئی تھی اسے یہ چاہیئے تھا کہ مہنگائی کو کم کرنے پر عملی اقدامات کرے امیر امیر سے امیر تر غریب غریب سے غریب تر دن با دن ہوتا جا رہا ہے۔۔۔۔۔ پٹرولیم مصنوعات کے مہنگا ہونے سے پٹرول پمپس مالکان راتوں رات کھرب پتی بن تو رہے ہیں مگر غریبوں کا کوئی ولی وارث نہیں ہے۔۔۔۔۔ کہیں اس ملک میں ریاست مدینہ جیسا مذہب کارڈ استعمال کر کے غریبوں کے جذبات سے کھیلا جاتا رہا اور اب بھی کھیلا جا رہا ہے کہیں ایک مخصوص سیاسی جماعت نے نئے پاکستان کا نعرہ فقط کھوکھلا نعرہ بلند کر کے عوام کو دھوکے میں مبتلا کیا موجودہ ملکی بدترین معاشی صورتحال سے متوسط و غریب طبقہ جو ہیں تو پاکستان کے ہی شہری مگر معاشی لحاظ سے بری طرح متاثر ہو رہے ہیں کہنا غلط ہرگز نہ ہوگا کہ یہ حکومت ماضی کی طرح جھوٹے نعرے دعوے وعدے کرنے والوں کی نا اہل نا کام نا لائق ثابت ہوئی۔
میں سمجھتی ہوں کہ مہنگائی کی بنیادی وجہ پٹرولیم مصنوعات میں بے تہاشا اضافہ ہونا ہے پٹرول میں جب بھی اضافہ ہوا ہے اشیائے خورد ونوش سے لیکر اشیائے ضروریہ تک ہر چیز مہنگی ہو گئی ہے میں بطور ڈاکٹر سمجھتی ہوں کہ جتنی مہنگائی ہے اس مہنگائی پر قابو پانے اور ملکی معیشت کو مضبوط کرنے میں نوجوانوں کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیئے نوجوانوں اور ہر عمر کے افراد کو چاہیئے کہ وہ انٹرنیٹ پر آن لائن بزنس کی طرف آئیں فائیور، اپ ورک، گروڈاٹ کام ان ویب سائیٹس پر اپنی صلاحیتوں کا اظہار کر کہ پیسہ کمائیں اور ملک کی معیشت کو بہتر بنائیں نوکریاں اگر حکومت نہیں دے رہی یا نوجوانوں کو نوکریاں نہیں مل رہی تو وہ سائنسی طریقہ کار کو بروئے کار لاتے ہوئے روزگار کمائیں باہر ممالک سے پیسے کو پاکستان لائیں اور اس معاشی بحرانی صورتحال میں انٹرنیٹ اور آن لائن بزنس سے بہتر کوئی اور راستہ نوجوانوں کے روزگار کا ہو نہیں سکتا ہمارے معاشرے میں ایک رواج یہ چل پڑا ہے کہ خود پاکستانیوں نے کچھ کرنا نہیں اورحکومت کو برا بھلا کہنا ہے ہر شخص جب تک اپنے حصے کا چراغ روشن نہیں کرے گا تو روشنی نہیں ہو سکے گی اس وقت لوکل ٹرانسپوٹرز نے کرایوں میں بے تہاشا اضافہ کر دیا ہے کھانے پینے کی تقریباََ تمام اشیاءمتوسط و غریب طبقے کی پہنچ سے بالکل دور ہو چکی ہیں مگر یہ بھی دیکھا گیا کہ دوکان دار حضرات بھی ناجائز منافع خوری کرتے ہیں راتوں رات امیر ہونے کے خواب دیکھنے والے تاجر بھی تجارت کرتے تو ہیں مگر غریبوں کو دونوں ہاتھوں سے ناجائز منافع خوری کر کہ لوٹتے ہیں پاکستانی عوام تنقید، طنز اور مایوسی و نا امیدی کی باتیں کرنے میں ہمیشہ صف اوّل میں نظر آتے ہیں اور عملی کام کا اگر اس قوم سے کہہ دیا جائے تو واویلا مچا دیتے ہیں میاں محمد شہباز شریف نے ہفتے کی چھٹی ختم کر دی تا کہ پاکستانی قوم ہفتے والے دن آرام نہیں بلکہ کام کرے مگر یہ بھی دیکھنے میں آیا کہ سرکاری ملازمین نے ہفتے کی چھٹی بحال کروانے اور کام سے راہ فرار اختیار کرنے کے لیئے جلسے، جلوس اور ریلیاں نکالی حکومت آئے ہوئے جمعہ جمعہ آٹھ دن نہیں ہوئے تھے کہ لوگوں نے حکومتی کارکردگی کو ناقص کہنا شروع کر دیا اس ملک کے حالات تب بہتر ہو سکیں گے جب ایک سرکاری چپڑاسی سے لیکر وزیر اعظم تک ہر شخص ہر فرد اپنے کام کو خلوص نیت اور مکمل ذمہ داری و فرض شناسی سے ادا کریں گے مگر ایسا ہو نہیں سکتا اس قوم کو کام سے زیادہ آرام کی عادت ہے ہماری پاکستانی قوم با حیثیت سستی و کاہلی کا مظاہرہ تو کرتی ہے مگر عملاََ کام کرنے سے کتراتی ہے۔
مختلف یونیورسٹیز کے اسٹوڈنٹس اعلیٰ سے اعلیٰ تعلیمی ڈگریاں لیکر نکل رہے ہیں مگر وہ طالب علم اپنی ڈگریوں کو عملی زندگی میں استعمال نہیں کر پا رہے یا شاید حکومت پڑھے لکھے نوجوانوں کو مہارتوں و صلاحیتوں کے اظہار کے مواقع فراہم نہیں کر تی میرا خیال ہے کہ پاکستان کے اندر الیکٹریکل انجینئرز، مکینیکل انجینئرز کی تعداد زیادہ ہے ان اسٹوڈنٹس کو بجلی و دیگر شعبہ جات میں شامل کر کہ عملی کام لیا جا سکتا ہے اب بجلی مہنگی ہوئی، پٹرول مہنگا ہوا، سوئی گیس کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ان کی قیمتوں کو سستا کرنے کے لیئے حکومت کو پاکستان میں ہی پڑھے لکھے نوجوانوں کی رہنمائی سے پیداواری صلاحیت بڑھانا ہو گی بجلی کے نئے نئے منصوبے شروع کرنے چاہیئے تا کہ لوڈ شیڈنگ پر قابو پایا جا سکے چائنہ اور پاکستان کے درمیان جو سی پیک بن رہا ہے اس منصوبوں کو مزید تیز تر کرنا ہوگا سوئی گیس پیدا کرنے کی پیداواری صلاحیت کو بڑھنا کے نت نئے جدید طریقہ کار پر غور کرنا ہو گا سولر سسٹم اس وقت پاکستان کے ہر گھر کی ضرورت ہے حکومت کو چاہیئے کہ سولر سسٹم کو سستا کرے ۔
تا کہ ہر شہری سورج کی روشنی سے سولر سسٹم کے ذریعے بجلی حاصل کر کہ گھروں میں روشنیاں کر سکے ہمارے ملک میں پڑھی لکھی قیادت کا فقدان ہے ستم ظریفی یہی ہے کہ جو بھی ملک میں حکومت کرنے آیا اُس حکمران نے ملک میں سلطنت کرنے سے زیادہ لوگوں کے ذہنوں، خیالات و نظریات پر حکومت کی ہمارے ملک میں حکمرانوں نے ماضی سے لیکر حال تک عوام کو سیاسی جھوٹے نعروں وعدوں میں لگایا ہوا ہے
آج جو ملک کی معاشی بحرانی صورتحال ہے وہ حکمرانوں کی بھی نا اہلی کی وجہ سے ہے عمران خان سابق وزیر اعظم پاکستان اور چیئرمین پاکستان تحریک انصاف 149 روپے فی لیٹر پر پٹرول چھوڑ کر گئے مگر موجودہ نا اہل حکومت نے غریبوں پر ایسی بمباری کی مہنگائی کی کہ پٹرول ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح 235 روپے پر پہنچ گیا ہے۔۔۔ہمارے حکمران نا اہل و نا لائق ہیں ہی مانتی ہوں مگر عوام کو بھی پاکستان کے لیئے اور ملکی معیشت کو مضبوط کرنے میں اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں