17

الیکشن کمیشن اور اساتذہ کی بے توقیری

تحریر۔۔روہیل اکبر
ہمارے ہاں استاد کی بے قدری اتنی زیادہ ہے جتنی اس وقت پوری قوم کی سیاستدانوں کے ہاتھوں ہو رہی ہے جو قوم اپنے اساتذہ کو عزت نہیں دیتی وہ کبھی ترقی کا راستہ نہیں دیکھ سکتی میں نے تھانیداروں کے ہاتھوں استاد کی عزت مٹی مٹی ہوتے بھی دیکھی پاکستان میں کوئی محکمہ ایسا نہیں جہاں استاد کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہو گذشتہ روز الیکشن کے سلسلہ میں لگنے والی ڈیوٹیوں پر صرف حاضری لگانے کا منظر دیکھ کر میرے پاﺅں سے زمین نکل گئی الیکشن کمیشن کے عملہ کی بے حسی بھی کسی سے کم نہیں تھی جو وہ ٹیچروں بلخصوص خواتین کے ساتھ رواں رکھے ہوئے تھے ویسے تو اساتذہ کی عزت انکے محکمہ کے کلرکوں کے ہاتھوں ہی بہت ہو جاتی ہے انکی عزت نفس کو انکا محکمہ ہی ختم کرنے کے لیے کافی ہے یہی وجہ ہے کہ جہاں بھی استاد کی توہین ہو رہی ہو کسی کو کوئی فرق نہیں پڑتا اور جسکے ساتھ ہو رہی ہو وہ بھی شکر کرتا ہے کہ بچت ہوگئی ہم بحیثیت قوم مردہ ضمیر بن چکے ہیں جب تک ایک دوسرے کو ذلیل و رسوا نہ کرلیں ہمیں دلی طور پر سکون محسوس نہیں ہوتا الیکشن کمیشن میں آنکھوں دیکھا حال لکھنے سے پہلے استاد کی عزت کے حوالہ سے تین واقعات پڑھ لیں کہ استاد بادشاہ تو نہیں ہوتا مگر بادشاہ بنا تاضرور دیتا ہے فاتح عالم سکندر اعظم ایک مرتبہ اپنے استاد ارسطو کے ساتھ جنگل سے گذر رہا تھا کہ راستے میں ایک برساتی نالہ آگیا جوبارش کی وجہ سے طغیانی پہ آیا ہوا تھا استاد اور شاگرد کے درمیان بحث چھڑ گئی کہ خطرناک نالہ پہلے کون پار کریگا سکندر بضد تھا کہ پہلے وہ جائیگاآخر کار ارسطو نے سکندر کی بات مان لی اور سکندر پہلے نالہ پار کرگیا پھر ارسطو نے نالہ عبور کرکے سکندر سے پوچھا کیا تم نے نالہ پہلے پار کرکے میری بے عزتی نہیں کی ؟سکندر نے جواب دیا نہیں استاد مکرم میں نے اپنا فرض ادا کیا ہے ارسطو رہے گا تو ہزاروں سکندر تیار ہوسکتے ہیں اور کئی سکندر ملکر ایک بھی ارسطو تیار نہیں کرسکتے۔اشفاق احمدصاحب لکھتے ہیں کہ روم (اٹلی) میں میرا چالان ہوگیا اور مصروفیت کے باعث وقت پر فیس بھی نہ جمع کروا سکا اور جب میں جج کے سامنے پیش ہوا تو اس نے تاخیر کی وجہ پوچھی تو میں نے کہا کہ میں پروفیسر ہوں مصروف ایسا رہا کہ وقت ہی نہ ملا میرا بس اتنا کہنا تھااور بات ابھی مکمل بھی نہیں ہوئی تھی کہ جج نے کہا کہ ایک ٹیچر میری عدالت میں اور پھر سب لوگ کھڑے ہوگئے جج صاحب نے مجھ سے معافی مانگ کر چالان کینسل کردیا اور اس روز میں اس قوم کی ترقی کا راز جان گیا اب علامہ اقبال صاحب کا بھی قصہ پڑھ لیں جب انہوں نے شمس العلما کے خطاب کے لیے اپنے استاد میر حسن کا نام پیش کیا تو کمیٹی کے اراکین نے پوچھا انکی کوئی تصنیف ؟علامہ اقبال نے جواب دیا میں ہوں انکی تصنیف یہ جواب سن کر اراکین حیرت میںپڑ گئے اور علامہ اقبال کی فراست کی داد دی اور ایک ہم ہیں کہ اپنے اساتذہ کو استاد نہیں بلکہ نوکر سمجھتے ہیں انکی ترقیوں کا معاملہ ہو ،امکی پنشن کا معاملہ ہو ،انکے تبادلوں کا معاملہ ہو یا انکی چھٹیوں کا کوئی مسئلہ ہو ہر جگہ میں نے انہیں پریشان ہی دیکھا کوئی ادارہ ،کوئی فرد یہاں تک انکے اپنے ڈی ای او ،اے ای او سے لیکر کلرک بادشاہوں تک سبھی ان شریف انسانوں کو پریشان کرتے ہوئے نظر آتے ہیں رہی سہی کسر الیکشن کمیشن نے پوری کررکھی ہے الیکشن کمیشن وہ ادارہ ہے جو ہر الیکشن کے بعد متنازعہ بن جاتا ہے ایک کونسلر کے الیکشن سے لیکر قومی اسمبلی اور سینٹ کے الیکشن تک انہیں جھرلو الیکشن ،ٹھپہ الیکشن اور دھاندلی زدہ الیکشن کا نام ملتا رہا یہ ایک الگ بحث ہے میرا مقصد صرف اتنا بتا نا ہے کہ الیکشن کے سلسلہ میں جن خواتین اور مرد اساتذہ کی ڈیوٹیاں لگائی جاتی ہیں انہیں عزت دیں آجکل ڈیجٹل میڈیا کا دور ہے ہر کام آپ موبائل ایپ سے کر سکتے ہو تو پھر کیا وجہ ہے کہ اساتذہ کی ڈیوٹیاں لگانے کے بعد انہیں حاضری لگوانے کے لیے بلوا کر سخت گرمی میں ذلیل و رسوا کیا جائے صرف اتنا کہونگا کہ الیکشن کمیشن میں جو ہورہا ہے وہ اچھا نہیں ہے دنیا ترقی کرگئی اور آپ ابھی تک پرانے نظام کو سنبھالے ہوئے ہیں الیکشن کمیشن ہے کیا اور اسکی ذمہ داری کیا ہے اس پر بھی بات کرلیتے ہیں الیکشن کمیشن آف پاکستان ایک آزاد، خود مختار، مستقل اور آئینی طور پر قائم کردہ وفاقی ادارہ ہے جو قومی پارلیمان، صوبائی مقننہ، مقامی حکومتوں اور صدر پاکستان کے دفتر کے انتخابات کے انعقاد کا ذمہ دار ہے اسکے ساتھ ساتھ حلقوں کی حد بندی اور انتخابی فہرستوں کی تیاری پاکستان کے آئین میں بیان کردہ اصولوں کے مطابق انتظامات کرتا ہے کہ انتخابات ایمانداری، انصاف کے ساتھ، منصفانہ اور قانون کے مطابق ہوں اور بدعنوانی کے عمل کو روکا جائے الیکشن کمیشن 23 مارچ 1956 کو تشکیل دیا گیا تھا اور پاکستان کی پوری تاریخ میں کئی بار اس کی تشکیل نو اور اصلاحات کی گئی ہیں الیکشن کمیشن آف پاکستان (ECP) کے کاموں اور فرائض کی وضاحت آئین پاکستان کے آرٹیکل 219 میں کی گئی ہے جو کمیشن کو انکے فرائض کی ذمہ داری دیتا ہے الیکشن کمیشن امیدواروں کو جو ضابطہ دیتا ہے اس پر سوائے چند ایک کے باقی سب دھجیاں آرا کر رکھ دیتے ہیں بلکل ایسے جیسے آجکل الیکشن ڈیوٹیوں کے سلسلہ میں اساتذہ کے ساتھ کیا جارہا ہے خدا کا خوف کریں دنیا کے ساتھ چلنے کا ہنر سیکھ لیں اور جو ٹاﺅن شپ میں خواتین کے ڈگری کالج میں ہوا اسے ختم کریں آپ کے پاس تو سرکاری گاڑیاں سرکاری پیٹرول اور ٹھنڈے کمروں میں ٹھنڈا پانی اور گرم چائے موجود ہوتی ہے ان قوم کے معماروں کو اتنی بڑی سزا نہ دیں آپ بھی کسی نہ کسی استاد کے ہاتھوں پڑھ کر اس عہدے کا مزہ لے رہے ہیں اس میںکونسی اتنی بڑی سائنس ہے جو کسی کو سمجھ نہیں آتی ٹیکینالوجی کا دور سے آزمائیں آپ اگر پرانے دور کے ہیں تو اپنی جگہ کسی نوجوان کو آنے دیں ہماری نئی نسل میں بہت صلاحیت ہے خدارا ہم پر عذاب بن کر مسلط نہ رہیں بلکہ اپنی جگہ کسی اہل کو آنے دیں جو فیصلے بھی خود کرسکے اور عملدرآمد بھی رہی بات اساتذہ کی انہیں یوں بلوا کر ذلیل نہ کریں وہ پہلے ہی آپ سے تنگ ہیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں