10

سیاسی کرسی کی جنگ

تحریر۔۔سید نورالحسن گیلانی
جنگ جیسی بھی ہو اس کا نتیجہ تباہی کے سوا کچھ نہیں ملتا۔ جنگ کی کئی اقسام ہیں جن میں ایک قسم اقتدار کی جنگ ہے جس کے کئی نام ہیں مثلا طاقت کی جنگ کرسی کی جنگ وغیرہ، قیام پاکستان سے لیکر اب تک کئی بار اقتدار کی جنگیں ہوتی رہی ہیں لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ان ساری جنگوں میں جیت لڑنے والوں کی اور ہار پاکستان کی ہوتی رہی ہے۔ حالات حاضرہ میں پھر سے کرسی کے حصول کے لیے تمام تر اقدار کا جنازہ نکال کر ہمارے قومی لیڈروں کی جانب سے بڑی قوت کے ساتھ اقتدار کی جنگ جاری ہے اور مجھے ڈر یہ ہے کہ ہمیشہ کی طرح نقصان پھر سے کہیں پاکستان کا نہ ہوجائے۔ہندوستانی آزادی ایکٹ 1947ءکے تحت وزیراعظم کے عہدے کو قیام پاکستان کے فوراً بعد تخلیق کیا گیا جس کا مقصد تو ملکی و عوامی مسائل سے نمٹنا تھا لیکن یہ معاملہ کہیں اور چل پڑے گا یہ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا۔14اگست 1947 کے بعد قلیل مدت کے لیے حالات قدرے بہتر رہے اور ابتدائی کچھ عرصے میں کرسی کی کھینچاتانی اس طرح نہیں رہی جیسے رفتہ رفتہ بڑھی اور آج روایات بن چکی ہے۔ جیسے ہی قائداعظم جہان فانی سے رخصت ہوئے تو وطن عزیز میں قیادت کی تبدیلی آئی اور پھر محلاتی سازشوں کا جو سلسلہ شروع ہوا وہ تاحال چل سو چل ہے، لیاقت علی خان سے لیکر عمران خان تک جتنے بھی حکمران آئے ان کو کرسی کے دفاع کے لیے چوکس رہنا پڑا یہاں تک کہ کچھ پھانسی چڑھ گئے کچھ کو قصہ پارینہ بنا دیا گیا کچھ کو باہر بھجوا دیا گیا۔ حکمرانوں کی اس لڑائی میں ایک غیر سیاسی قوت بھی بڑی سرگرم رہی ہے اور عموما ان کی آشیرباد سے ہی نظریے بدلتے ہیں کرسیاں بدلتی ہیں نئے راستوں کے تعین ہوتے ہیں اور ایک اشارہ آتا ہے اور رادھا ناچنے لگ جاتی ہے۔اب آپ غور کریں پاکستان اور بھارت نے ایک ساتھ ہی جنم لیا لیکن بدقسمتی سے پاکستان اقتدار کی ہوس کے مارے سیاست دانوں اور طاقتور قوتوں کے ہتھے چڑھ گیا جس کا ہمیں ٹھیک ٹھاک خمیازہ بھگتنا پڑا ابھی بھی پڑرہا ہے اور شاید یہ سلسلہ تھم نہ سکے۔ پاکستان جب اپنے پاوں پر ٹھیک طرح سے کھڑا بھی نہیں ہوپایا تھا اس وقت بھی ہمارے نام نہاد لیڈران کرسی کی کھنچا تانی میں اس طرح اندھے ہوگئے تھے کہ 1947 سے 1958 تک سات وزرائے اعظم آئے اور چلے گے جبکہ پڑوسی ملک بھارت میں صورتحال بلک مختلف تھی۔ یہ ملکی مفاد کو داو پر لگاکر ذاتی مفاد اور کرسی کی جنگ کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ پہلے گیارہ سالوں میں سات وزرائے اعظم آئے اور اس عرصے میں نقصان ملک کا ہوتا رہا۔ بات یہاں تک نہیں رکی یہاں سے بات ایک اور ڈگر پر چل پڑی اور پھر سیاستدانوں کی چھٹی ہوئی۔سیاستدانوں کی رخصتی کے بعد میرے عزیز ہم وطنوں کا زمانہ آیا پہلا آئین معطل ہوا تو دوسرا آئین صدارتی نظام کے ساتھ نافذ ہوا یہ بات بھی سچ ہے کہ ترقیاتی کاموں کے حوالے سے قدرے بہتر کام ہوا لیکن قوم کی تقسیم جس کی بنیاد 1947 سے رکھ دی گئی تھی اس کو ہوا ملتی رہی اور نقصان ملک کا ہوتا رہا۔ وہ دور ملک کو دولخت کرکے ختم ہوا تو جمہور کا ایک بار پھر سے دور آیا لیکن مسئلہ وہی رہا اقتدار کی جنگ اور یہی صورتحال آگے بڑھتی رہی اور ملک کا نقصان ہوتا رہا ۔اس وقت ملک میں جو حالات بنے ہوئے ہے جس طرح کرسی کے حصول کے لیے سیاست دان کوششیں کررہے ہیں اس سے مجھے ڈر یہ ہے کہ اللہ نہ کرے کہیں پھر سے نقصان اس ملک کا نہ ہوجائے جس طرح سے ملکی مفاد کو داو پر لگادیا گیا ہے جس طرح کرسی کے حصول اور کرسی بچاو مہم میں اخلاقیات، اقدار کی دھجیاں اڑائی جارہی ہے اللہ ہی رحم کرے حالات آہستہ آہستہ جس جانب جارہے ہیں وہ ان سیاست دانوں کے لیے تو ٹھیک ہونگے لیکن پاکستان کے لیے کسی صورت نہیں بس خدا اس ملک کہ خیر کرے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں