15

والد کا مقام اورعالمی دن

تحریر۔۔راجہ شہزاد معظم
قارئین محترم! والد کی عظیم خدمات کے اعتراف میں اٹھاون سے زائد ممالک میں ہر سال جون کے تیسرے اتوار کو فادر ڈے کے طور ر منایا جاتا ہے۔بلا شبہ باپ دنیا کی وہ عظیم ترین ہستی ہے جو اپنے بچوں کی بہترین پرورش اور ان کی راحت کے لئے ہمہ وقت کوششوں ،کاوشوں اور مشکلوں میں رہ کر زندگی بسر کرتا ہے۔اور ضرورت پڑنے پر جان کی قربانی تک دریغ نہیں کرتا۔ہر باپ کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنے بچے کو اعلیٰ سے اعلیٰ اور معیاری زندگی فراہم کرے تا کہ وہ معاشرے میں با عزت زندگی بسر کر سکے،اور معاشرتی ترقی میں بہتر طور پر اپنا کردار ادا کر سکے۔
بیسویں صدی کے اوائل میں ماں کے عالمی دن کی کامیابی کے بعد والد کی عظمت کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے اس دن کے منانے کا سلسلہ امریکہ سے شروع ہوا،تاہم 1966میں اس دن کو عالمی سطح پر مقبولیت اس وقت ملنا شروع ہوئی جب امریکی صدر لنڈن جونسن نے جون کے تیسرے اتوار کو با ضابطہ طور پر فادر ڈے قرار دیا۔ جبکہ 1972سے اس دن کو قومی تعطیل قرار دیا گیا۔ اگرچہ اس دن کے موقع پر والد کے ساتھ الفت و محبت اور ان کے جزبے کو خراج تحسین پیش کیا جاتا ہے،لیکن جتنے زور و شور سے دنیا میں مدرز ڈے منایا جاتا ہے،اور جس شدت سے بچے ماں کے دن کا انتظار کرتے ہیں، ویسا جوش و خروش اور تحائف باپ کے حصے میں کم ہی آتے ہیں۔پیارے مذہب اسلام میں باپ کو بڑا درجہ حاصل ہے۔جبکہ حدیث مبارکہ میں باپ کی ناراضگی اللہ تعالیٰ کی ناراضگی اور باپ کی خوشنودی اللہ کی خوشنودی قرار دیا گیا ہے۔
قرآن پاک کے احکامات اور نبی کریم کے ارشادات کی روشنی میں والدین یعنی دونوں کی خوشنودی کا حکم دیا ہے۔اگر ماں کی طرح باپ کی عظمت کا پاس رکھتے ہوئے اس کی اطاعت،فرمانبرداری،خدمت اور تعظیم کر کہ رضا حاصل کی جائے تو اللہ کی طرف سے ہمیں دین و دنیا کی کامیابیاں،سعادتین اور جنت کی بے شمار نعمتیں نصیب ہو سکتی ہیں۔ایک بار ایک آدمی نبی کریم کی خدمت میں حاضر ہوا اور شکایت کی کہ میرے والد نے میرا سب مال لے لیا ہے۔نبی اکرم نے ارشاد فرمایا کہ اپنے والد کو بلا کر لاﺅ۔اسی وقت جبرئیل ؑ تشریف لائے اور عرض کیا اے اللہ کے رسول جب اس لڑکے کا والد آجائے تو آپ اس سے پوچھیں کہ وہ کلمات کیا ہیں جو اس نے دل میں کہے ہیں۔اور اس کے کانوں نے بھی ان کو نہیں سنا۔ جب وہ نوجوان اپنے والد کو لے کر آیا۔ تو نبی کریم نے فرمایا آپ کا بیٹا آپ کی شکایت کرتا ہے، کیا آپ چاہتے ہیں کہ اس کا مال چھین لیں۔والد نے عرض کیا یا رسول اللہ آپ اسی سے پوچھ لیں کہ میں اس کی پھوپھی،خالہ یا اپنے نفس کے سوا کہیں خرچ کرتا ہوں۔نبی کریم نے فرمایا کہ بس حقیقت معلوم ہو گئی۔
اس کے بعد آپ نے اس کے والد سے دریافت فرمایا وہ کلمات کیا ہیں جو تم نے دل میں کہے اور تمہارے کانوں نے بھی ان کو نہیں سنا۔اس نے کہا یا رسول اللہ جو بات کانوں نے بھی نہیں سنی اس کی اطلاع آپ کو ہو گئی۔پھر اس نے کہا میں نے چند اشعار دل میں پڑھے تھے،نبی کریم نے فرمایا وہ اشعار ہمیں بھی بتاﺅ۔اس صحابی ؓ نے عرض کیا میں نے دل میں یہ کہا تھا ،میں نے تمہیں بچپن میں غذا دی اور جوان ہونے کے بعد تمہاری ہر ذمہ داری اٹھائی ،تمہارا سب کچھ میری کمائی سے تھا۔ جب کسی رات تمہیں کوئی بیماری پیش آ گئی تو میں نے رات نہ گزاری اور سخت بیداری اور بیقراری کے عالم میں۔
مگر ایسے کہ بیماری تجھے نہیں لگی مجھے لگی ہے،جس کی وجہ سے تما م شب روتے ہوئے گزار دیتا۔میرا دل تمہاری ہلاکت سے ڈرتا رہا،اس کے باوجود کہ میں جانتا تھا کہ موت کا ایک دن مقرر ہے،جب تو اس عمر کو ہنچ گیا تو ھر تم نے مجھے بدلہ سخت روئی اور سخت گوئی سے دیا۔گویا کہ تم ہی مجھ پر احسان اور انعام کر رہے ہو۔اگر تم سے میرا حق ادا نہیں ہو سکتا تو کم از کم اتنا ہی کر لیتے جتنا کہ ایک شریف پڑوسی کرتا ہے۔تم نے مجھے پڑوسی کا حق ہی دیا ہوتا۔ میرے ہی مال میں مجھ سے بخل سے کام نہ لیا ہوتا۔نبی اکرم نے جب یہ سنا تو بیٹے سے کہا ،انت و مالک لا بیک، کہ تو اور تیرا مال سب تیرے باپ کا ہے۔
قارئین کرام! دیکھئے کہ اولاد کے ستائے ہوئے باپ کے دل سے نکلے ہوئے الفاظ کس طرح عرش الہیٰ تک جا پہنچے۔اور رحمت الہیٰ جوش میں آئی۔اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ والدین دنیا کی سب سے بڑی نعمت ہیں۔اگر کسی کو یہ نعمت حاصل ہے اور وہ ان کی خدمت اور اطاعت کر رہا ہے تو وہ بہت بڑا سعادت مند اور اللہ کا بندہ ہے۔قرآن پاک کے احکامات اور فرامیں رسول میں جا بجا والدین کی خدمت اور اطاعت کا حکم دیا گیا ہے۔اولاد کی بہترین تعلیم و تربیت کے لئے والد کا کردار ذرا سخت ہوتا ہے۔جبکہ ماں کی حد سے زیادہ نرمی اور لاڈ پیار بچوں کو ندر اور بے باک بنا دیتی ہے۔جس کی وجہ سے اس کی تعلیم،تربیت اور کردار سے بچوں کی زندگی پر اثر پڑتا ہے۔جب کہ والد کی نگہداشت،سختی اور آنکھوں کی تیزی سے اولاد کو من مانیاں کرنے کا موقع نہیں ملتا۔
شاید یہی وجہ ہے کہ اولاد باپ سے زیادہ ماں کے قریب ہوتی ہے۔لیکن اولاد یہ نہیں جانتی کہ اس کے والد کو گھر چلانے اور تعلیم و تربیت کا مناسب انتظام کرنے کے لئے کتنے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں۔وہ باپ ہی ہوتا ہی جو اپنے اہل و عیال اور اولاد کو پالنے کے لئے خود بھوکا رہ کر یا روکھی سوکھی کھا کر گزارہ کرتا ہے۔لیکن وری کوشش کرتا ہے کہ اس کے بچوں کو اچھا کھانا ،پینا،تعلیم اور تربیت میسر ہو۔اولاد کے فرائض میں شامل ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ اور پیارے رسول کی نا فرمانی کے سوا والدین کے ہر حکم کی تعمیل کریں۔ان کی رائے کو ترجیح دیں،اور خاص طور ر جب والدین بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو پھر ان کے احساسات کا خیال رکھتے ہوئے ان سے محبت اور احترام سے پیش آئیں۔اور اپنی مصروفیات سے وقت نکال کر ان کے لئے خاص دعائیں کیا کریں۔ان کی دل و جان سے خدمت و اطاعت کریںکہ اسی میں دین و دنیا کی کامیابی ،سعادت اور فلاح ہے۔
اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ کما حقہ ہمیں اپنے والدین کی بھرپور خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ان کی چھوٹی چھوٹی خواہشات کا اھترام کرنے کی تفیق دے۔ اس سے اللہ بھی ہم سے خوش ہو گا اور دنیوی اور اخروی زندگی میں ہمیں کامیاب اور کامران کرے گا۔دعا کریں کہ خدا نخواستہ ہمارے اعمال کی وجہ سے ہمارے والدین کا دل نہ دکھے ورنہ ہم نہ اس جہان میں کامیاب ہوں گے اور نہ آخرت کی ابدی زندگی میں کامیابی ہمارا مقدر بن سکے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں