14

باپ جنت کا دروازہ

تحریر ۔۔امتیاز یٰسین فتح پور
خود تکالیف اُٹھا کر موسموں کی شّدت کی پرواہ کئے بغیراولاد کے سکھ و آرام کے لئے سختیاں جھیلنے باپ پیکر محبت و وفا ہے۔باپ ہی ہے جو اپنی اولاد کوکامیابی و کامرانی اور فیروز مندی پر سرفراز کرنے کے لئے اپنا تن من دھن سب قربان کر ڈالتا ہے۔اولاد کا معمولی دکھ،ان کے دنیاوی جَنجال،بکھیڑے اسے کربناک ،مغموم اور گھائل کر دینے والے مُضطربُ الحال سے دوچار کر دیتے ہے جبکہ اولاد کی خوشی باپ کو مسرت سے نہال کر دیتی ہے۔ ہمدرد و غمگساری کا بحرِ بیکراں ہے۔ اپنے تئیںاولاد کی پرورش اور تعلیم و تربیت میںقوی جذبہ، جانفشانی کے ساتھ کوئی دقیقہ فروگذاشت و پہلو تہی نہیں کرتا ۔ اولاد کے لئے جود و سخا کا کوہِ گراں ہے ۔باپ جیسی عظیم و مقدس نعمت کے لئے اللہ تعالیٰ نے قرآن میںاولاد کو ان کے لے مغفرت کی دعا ءبتائی اور ان کی قدر و منزلت کے پیش نظر نماز کے بعد سب سے زیادہ احکام والدین کے ساتھ بے پناہ اجر حسنِ سلوک کی تاکید و وعید ہے۔والد کی ناراضگی و نافرمانی کو کبیرہ گناہ قرار دیا گیا۔ حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے حضور پاک نے فرمایا رب کی خوشی والد کی خوشی ، اور رب کی ناراضگی والد کی ناراضگی میں ہے۔اللہ تعالیٰ کے بعد اولاد کا دنیا میں سب سے بڑا محافظ اور خیر خواہ اس کا باپ ہے۔ اولاد کی مَص¿وُن میں اپنا ثانی نہیں رکھتا۔ باپ کی اپنے کنبہ کے حوالے سے سماجی و معاشی ذمہ داریاں کس قدر ہیں اس کا اندازہ یوں لگایا جا سکتا ہے کہ پرودگار نے انسانیت کی تخلیق کی شروعات بنی نوع انسانی کے باپ حضرت آدم علیہ السلام کو پہلے پیدا فرمایا بعد میں امّاں حوا کو۔حضرت یعقوب علیہ السلام اپنے بیٹے حضرت یوسف کے جدائی و فراق میں شفقت و محبتِ پدری سے مغلوب ہو کر دن رات اللہ کے حضور گڑ گڑاتے ،عبادات و دعاو¿ں کا حاصل بیٹے سے وصل کی چاہت و خواہش ہو کر رہ گیا۔ حتیٰ کہ غم و اندوہ کے سبب اپنی آنکھوں کی بینائی تک گنوا بیٹھے۔ حضرت نوح علیہ السلام کا بیٹا یام کنعان بن نوح اپنے باپ اور دین سے سرکشی کی وجہ سے بار بار کہنے کے باوجود ایمان لایا نہ کشتی میں سوار ہوا تو طوفانِ میں غرق ہو گیا۔باپ کی محبت نے حضرت نوح کوبیٹے کی ہلاکت پرغم میں ڈبو دیا۔ بارگاہ الٰہی میں شکوہ کناں ہوئے میرا بیٹا تو ایمان لانے والوں میں تھا تو جواب میں اللہ نے انہیں تنبیہہ کی کہ وہ منکرین میں ہونے کی وجہ سے انجام سے دوچار ہوا ہے۔حضرت ابراہیم بن رسول اللہ کا جب ایک سال نو ماہ بیس دن کی عمر میں انتقال ہوا تو آپ ؓکے والد رحمتِ دوجہاں کو صحابہ کرام نے آنسو مبارک بہاتے دیکھا اور کہا اے ابراہیم ؓہم تیری جدائی کے سبب غمگین ہیں۔ برِ صغیر کے تیمور خاندان کے سردار مغلیہ سلطنت کے بانی معروف فہیم حکمران ظہیر الدین بابر اپنے بیٹے ہمایوں کی لا علاج بیماری سے اس کی زندگی کی امید کھو بیٹھا تو سچے دل سے اللہ سے دعا کی کہ باری تعالیٰ میری صحت میرے بیٹے اور میرے بیٹے کی بیماری مجھے عطا کر دے۔صاحبِ فراش بیمار بیٹے کے بستر علالت کے گرد شہنشاہِ وقت نے سات چکر لگائے اور باپ بیٹے کی صحت اور بیماری کا تبادلہ ہونا شروع ہوئی۔ یوںباپ نے بیٹے کی محبت میں نہ صرف تخت قربان کر دیا بلکہ اپنی زندگی بھی نچھاور کر دی۔ یہ ہیں باپ کی اولادکے لئے یونیورسل سچائی کی حقانیت سے مشابہہ چند مثالیں۔ فرمان نبوی کے مطابق باپ جنت کے دروازوں میںبیچ کا دروازہ ہے یعنی والد کی فرمانبرداری اولاد کے لئے یقینی جنت کے رستے کی راہ ہموار کرتی ہے۔ بعض مرتبہ جہاندیدہ ،کہنہ مشق اور ستودہ صفات کا آئینہ دار باپ اولاد کی فلاح کے لئے سچے جذبے اور عزم کے ساتھ سخت فیصلے کرتا ہے جو بظاہر اس فعل کے نتائج سے لا بلد اولاد کے لئے خلافِ طبع ہوتی ہے لیکن شیخ سعدیؒ باپ کی ڈانٹ ڈپٹ اور سرزنش اولاد کے لئے اس قدرم مفید قرار دیتے ہیں جیسے کھیتی کو پانی۔باپ اپنے پانچ بچوں کو پالتا ،اور پڑھاتا ہے لیکن جب وہ غایت درجہ مشفق و مہربان کردار بڑھاپے کی دہلیز کو پہنچتا ہے تو اولاد جسے وہ اپنی جان اور شان سمجھتا تھا اپنے اسی حقیقی محسن ، جنت کی کنجی اور دعاو¿ں کی قبولیت کے اس فیض گستر خزانہ کو یکسر بھول کر ایک باپ کو بوجھ تصور کرنے لگتے ہیں ۔ مغرب کی تقلید میں انہیں اولڈہوم اور دارالامان کی راہ دکھاتے ہیں۔نا خلفی میں گستاخانہ رویہ اپناتے ہوئے اپنی دنیا و آخرت کی بربادی کا سامان پیدا کر لیتے اور گناہِ کبیرہ کے مرتکب ٹھہرتے ہیں۔ ان کی ادویات،خوراک ،حقوق اور دیگر سہولیات و ضروریات کا خیال نہیں رکھا جاتا۔ جو ہماری خاطر اپنے خون پسینے کی کمائی پانی کی طرح بہاتا رہا آج ہم اسے پیرانہ سالی ا ور غائی عمر میں دست و پا شکستہ چھوڑ دیتے ہیں ۔جبکہ ہمارا مذہب تو ان کے بڑھاپے میں ان کے آگے اونچا بولنے سے بھی منع کرتا اور عاجزی اپنانے ، اُف تک نہ کہنے کا حکم دیتا ہے ہے۔معزز قارئیں بلا شبہ تاریک راہوں میں روشنی کا یہ مینارہ نور چشم پوشی والی نہیں بلکہ قدم و چشم بوسی والی ہستی ہیں۔یہ رحمت و برکت کا گنجِ خزینہ بار بار نہیں ملتا اور نہ ہی اولڈ ہوم کا سامان ہے۔ ویسے بھی دنیا مکافاتِ عمل یہاں جو بوتا ہے ۔وہ پوری دیانت داری اور ایوارڈ ریوارڈ کے ساتھ وہی کاٹتا ہے ۔آج والدکے ساتھ حسنِ سلوک کر کے اللہ اور والد کی خوشی مول لیکر مستقبل میں اپنی اولاد سے ایسے ہی سلوک کی امید کے دامن کو لبا لب بھر لیا جائے یہی عقلمندی کا تقاضا ہے بصورت دیگر بعد میں نیر بہانے کا کوئی فائدہ ہوتا ہے نہ دستِ تاس¿ف ملنے کا کوئی حاصل۔ یہ کوئی گم گشتہ مال نہیں جو دوبارہ یا نعم البدل مل جائے گا یہ دولت جب چھن جاتی ہے تو پھر کھبی نہیں ملتی ، ہاںکھبی نہیں ملتی۔راقم کو اب یہ نعمت غیر مترقبہ مغلوب دلِ نا صبُورا ور دلِ کبیدہ کے ساتھ شہر خموشاں میں آسودہ خاک ملتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں