17

نیا بجٹ اور درآمدات پر پابندی

تحریر ۔۔منظور احمد طاہر
اقتدار کے ایوانوں سے لے کر گھروں کے ڈرائنگ رومز تک اس وقت چیئر مین تحریک انصاف کے مریم نواز کے حوالے سے دیا گیا حالیہ بیان زیر بحث ہے عمران خان کے اس بیان سوشل میڈیا پر سخت تنقید کا سامنا ہے سوشل میڈیا کو تحریک انصاف کی طاقت سمجھا جاتا ہے ان پلیٹ فارمز سے اس بیان کو ڈیفنڈ نہ کیا جاتا کہ پاکستان قوم بھی اخلاقی سطح پر نہ قابل برداشت حد تک گراوٹ کا شکار نہیں ہوئی۔ ہمارے معاشرے خواتین کے احترام و عزت کو سیاسی وابستگیوں سے بالا تر سمجھا جاتا ہے لیکن یہاں سوال یہ ہے کہ عوام اپنی ذمہ داریوں کا مظاہرہ کرتے دکھائی دیتے ہیں لیکن سیاست دان کب اپنی ذمہ داری کا احساس کریں گے ۔ عورت کو اللہ تعالیٰ نے چادر چار دیواری کا حکم فرمایا ہے یہ حکمران عورتوں کو پہلے ہی سبق دیتے ہیں انہیں روڈ پر ننگے سر ڈانس کریں گانے گائیں مردوں کی نظروں میں رہیں اس طرح سے ملکی آزادی حاصل ہو گی معذرت ہے کہ ایسا عورتوں کو نہیں کرنا چاہیئے ۔ ہمارا مذہب اسکی اجازت نہیں دیاتا۔ سب کی مائیں بہنیں سب کی عزت برابر ہے ۔ یہ مناسب الفاظ استعمال کرنے پر معذرت کی جاتی ہے۔ اقتدار کی ہواﺅں کا رخ بدلنے کے لئے زیادہ وقت درکار نہیں ہوتا حکومتی اتحاد کی خواہشوں کے برعکس حالیہ چند فیصلوں نے بے یقینی کیا صورتحال کو بڑھا دیا ہے اس کے علاوہ مریم نواز کا حال ایک جلسے سے خطاب بھی یہ اشارہ دے رہا ہے کہ پچھلی حکومت کی ناکامیوں کا بوجھ موجودہ حکومت کے کندھوں پر ڈالنے سے بہتر ہے کہ حکومت چھوڑ دی جائے۔ یہ ہماری ملکی معیشت کے لئے کیسا ہے اس پر آگے چل کر بات کروں گا۔ لیکن انتخابات کے لئے یہ بیانہ انتہائی کامیاب ہو سکتا ہے ۔ پی ڈی ایم بالخصوص مسلم لیگ ن حکومت ختم کر کے عوام کی عدالت میں پیش ہو جائے اس نے عوام پر مہنگائی کا بوجھ ڈالنے کی بجائے اقتدار کو خیر باد کہنے کو ترجیح دی تو عوام کی بڑی سپورٹ اسے حاصل ہو سکتی ہے۔ انتخابات کا اعلان کر کے نگران حکومت سے سخت فیصلے لئے جا سکتے ہیں۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ملک کے استحکام کے لئے ضروری دکھائی دے اگرچہ یہ عوام پر بوجھ ہے لیکن پٹرول کی قیمتیں 150سے 210روپے فی لیٹر تک پہنچنے میں بھی عوام نے صبر کا مظاہرہ کیا۔ پاکستانی معیشت پٹرولیم مصنوعات میں اضافے کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اصل مسئلہ تنخواہ دار طبقے کا ہے ان کے پاس مہنگائی کا بوجھ کسی اور پر منتقل کرنے کی صلاحیت نہیں ہوتی وہ یا تو زندگی گزارنے کے معیار میں کمی لائیں یا کہ ڈبل نوکریاں کریں۔ مہنگائی بڑھنے کے ساتھ اگر سرکار تنخواہ دار طبقے کی تنخواہوں میں معقول اضافے کو یقینی بنائے غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق آئندہ ہفتے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھانے کا اعلان ہو سکتا ہے اس کے علاوہ بجٹ بھی 10جون تک پیش کرنے کی اطلاع ہیں عوام کو ریلیف دیا جائے عوام دوست بجٹ پیش نہ کیا جائے۔ ٹیکس آمدن میںکمی کو مزید ٹیکس لگا کر پورا کرنے کا خواہاں ہے بجٹ سے پہلے لگژری اشیاءکی درآمدات پر پابندی لگا دی گئی ہے تا کہ کرنٹ اکاﺅنٹ خسارہ کم کیا جائے۔ مزید برآن ڈالر کی اڑان کی رفتار کو کم کیا جائے۔ پنجاب سے پی ٹی آئی کے 25ارکان کی نا اہلی کے فیصلے نے ایک مرتبہ پھر بے یقینی کی کیفیت پیدا کر دی۔ ڈالر مافیا کو روکنے کا کوئی موثر طریقہ زیر بحث نہیں۔ اس کے علاوہ پابندیاں لگانے کے بعد اشیاءکی سمگلنگ کے راستے بھی بند کرنے کی ضرورت ہے افغانستان سے قالینوں کی درآمدات کے راستے کھلے ہیں قالینوں کے نام پر لگژری آئیٹمز براستہ افغانستان درآمد ہونے کے خدشات ہیں اور ڈالر غیر قانونی طریقے سے بیرون ملک سمگل ہو سکتا ہے موجودہ بحران سے نکلنے کے لئے حکومت اگر بات کرے تو زر مبادلہ کے ذخائر بڑھانے کے لئے ایکسچینج کمپنیاں اپنا کردار ادا کرنے کو تیار دکھائی دیتی ہیں جو سہولتیں اور ڈسکاﺅنٹ بینکوں کو دیئے جاتے ہیں اگر ان میں سے آدھی سہولتیں بھی ایکسچینج کمپنیوں کو دی جائیں تو وہ ایک سال میں کم از کم مزید چار بلین ڈالر ز پاکستان لا سکتی ہیں ڈالرز کو باہر جانے سے روکنے کی نسبت ڈالرز کو ملکی خزانے میں لانے کےلئے اقدامات کئے جانے کی ضرورت ہے۔ اس سے مقامی صنعت کو فروغ مل سکتا ہے۔ بہتر معیار کی چیزیں پاکستان میں بنانے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ ملک میں اگر مسائل ہیں تو ان کا حل بھی موجود ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں