15

ہارجیت کی پریم کتھا

تحریر۔۔سید عارف سعید بخاری
سوشل میڈیا پر آج کل دو ”ہاٹ ایشوز “ چل رہے ہیں۔ایک دُعا زہرہ کی ظہیر نامی ”کاکے “سے اپنی مرضی کی شادی اور دوسرا ڈاکٹر عامر لیاقت کا پراسرار قتل ۔دُعا زہرا کے معاملے میں اس کے گھر سے غائب ہونے سے لے کر برآمدگی تک بعض یوٹیوبرز اور سوشل میڈیا پرخواتین و حضرات نے جو اودھم مچارکھا ہے ۔اس نے ہر شخص کوآزردہ کر دیا ہے ۔دُعا زہرہ کے اغوا ءکو مرضی کی شادی ظاہر کرکے دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکی جا رہی ہے ۔یوں تو شروع دن ہر دوسرا شخص دُعازہرا کی مرضی کی شادی کو سپورٹ کرتا نظر آ رہا ہے ۔گذشتہ ایک ماہ کے دوران دُعا کے موقف کی تائیدکا ٹرینڈ چل رہاتھا ۔لیکن اچانک ایک معروف ماڈل ،آرٹسٹ اور جیو ٹی وی کے پیروڈی پروگرام میں پانچ سال سے اپنے فن کاجوہر دکھانے والی اینکر ”زنیرہ ماہم “کی طرف سے دُعا اور ظہیرکے ایک ایکسکلیوسو مگر پلانٹڈ انٹر ویو نے سارے کیس کا رخ ہی تبدیل کرکے رکھ دیا ہے ۔موصوفہ کی مذکورہ انٹرویو میں استعمال کی گئی زبان کو کسی صورت ایک تعلیم یافتہ اور مہذب صحافی کی زبان قرار نہیں دیا جا سکتا ۔موصوفہ نے دُعا کی والدہ یا یوں کہہ لیں کہ سبھی ماو¿ں کےلئے جو الفاظ استعمال کئے ،وہ انتہائی تکلیف دہ تھے ۔اس پروگرام کے بعد سوشل میڈیا سمیت عوا م و خواص نے توپوں کا رخ زنیرہ ماہم کی جانب موڑ دیا ۔اس کی وجہ یہ تھی کہ موصوفہ نے اس بات کا اعتراف کیا کہ وہ شروع دن سے اِس جوڑے کے ساتھ رابطے میں تھیں اور اُس کا یہ Sourceپولیس تھی ۔دوسری جانب پولیس کئی روز گذرنے کے بعد بھی دُعا زہرہ کو برآمد کرنے میں ناکام رہی ۔۔آئی جی سندھ اس نااہلی کی وجہ سے معطل ہوئے ،عدالت نے ان کی سرزنش کی ،جہاں پورے ملک میں دُعا زہرہ کی گمشدگی پر واویلا کیا جارہا تھا ۔۔اداروں تک کا سوال اُٹھ رہے تھے ،وہاں زنیرہ ماہم کا یہ دعویٰ کہ وہ اِس جوڑے ساتھ مسلسل رابطے میں تھیں ۔اس بات نے کئی سوال اٹھائے ہیں ۔اِس انٹرویو میں دُعا زہرا اور ظہیر نے انگلیوں سے ”وکٹری “کا نشان بنا کر جہاں اپنی” جیت “پر مسرت کا اظہار کیا، وہاں دنیا کو بھی بتا دیا کہ اُس کے والدین ہار گئے ۔وہ یہ ثابت کرنے میں ناکام رہے کہ اُسے ظہیرنے اغوا ءکیا تھا ۔دیکھا جائے تو دُعا کا کراچی سے فرار ہوکر لاہور آنا ہی اس امر کا بین ثبوت ہے کہ اُسے گھر سے فرار میں باقاعدہ ظہیر اور اس کے والدین سے زیادہ کسی ”پس پردہ “ہاتھ کی سپورٹ حاصل تھی، ورنہ وہ کبھی لاہور تک نہیں پہنچ پاتی ۔ واقعہ کا المناک پہلو یہ ہے کہ مبینہ طور پر ظہیر کی والدہ یونیورسٹی میں نائب قاصد جبکہ اُس کا والد مالی ہے ۔بچی کے فرار میں ملوث مافیا نے اپنا تمام اثر و رسوخ اس اغواءکو مرضی کی شادی کا لبادہ اڑانے اور ظہیر کو”کورٹ میرج“کی آڑ میں تحفظ فراہم کرنے پر صرف کر ڈالا ۔زنیرہ ماہم کے پروگرام کے بعد تو ہر شخص نے غم و غصے کا اظہار کیا کیونکہزنیرہ ماہم نے اپنے اس ا نٹرویو میں جوڑے سے سوال کم کئے اور”گائیڈ لائن “زیادہ دی ۔اُن کا سارا انٹرویو اِسی ایک بات کو” فوکس“ کئے ہوئے تھا کہ” بچی نے مرضی سے شادی کی ہے، کوئی گناہ نہیں کیا ۔والدین چونکہ اس پر تشدد کرتے تھے تواِس لئے وہ گھر سے بھاگی “۔گویا وہ والدین کے زیر سایہ حبس بے جا میں تھی اور فرار ہو کر محفوظ ہاتھوں میں آ گئی ہے ۔بیشتر اینکرز نے اس انٹرویو کی روشنی میں زنیرہ ماہم کو دن میں تارے دکھا دئیے ۔لیکن اس کے باوجود وہ بضد ہیں کہ انہوں نے جو کیا، درست کیا ہے،۔بلکہ دُعا کے والدین غلط کر رہے ہیں ۔سچ تو یہ ہے کہ لوگوں کی بچیوں کا تماشا لگانے والے یہ اینکر اپنے گریبان میں نہیں جھانکتے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر کبھی انہیں اینکرز ،عدلیہ ، وکلاءاور این جی اوز کے عہدیداران کے گھر میں بھی دُعا جیسی صورتحال پیدا ہوجائے تو کیا وہ اس وقت بھی یہی رویہ اپنا ئیں گے ۔؟معاشرے کی اصلاح اور عوام کی رہنمائی والدین اور اساتذہ کرام کے بعد میڈیا پرسنزکی بھی ذمہ داری ہے ۔ملک میں ناخواندہ لوگوں کی تعداد بہت زیادہ ہے اور یہ وہ طبقہ ہے جو میڈیا کو دیکھ اور سن کر اس کا باقاعدہ اثر لیتا ہے ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ میڈیا ،سوشل میڈیا اور یوٹیوبرز اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں اور قوم کے نونہالوںکی درست سمت میں رہنمائی کریں اور اخلاق باختہ حرکات و سکنات کی حوصلہ شکنی کریں،یہ لوگ اگر لوگوں کی تربیت اور رہنمائی پر دھیان دیں تو یہ اُن کا اپنے ساتھ ساتھ قوم پر بھی احسان ہو گا ۔ریٹنگ کے چکر میں منفی پروپیگنڈہ معاشرے کو تباہ و برباد کرنے کے سوا کچھ نہیں ۔تعلیم یافتہ اور ناخواندہ اینکرز سوشل میڈیا کے ذریعے جوکچھ دُنیا کو دکھا رہے ہیں ۔اورایک ایسا زہر آئندہ نسلوں کے دل و دماغ میں ڈال رہے ہیں جس کا خمیازہ آنے والی نسلیں اور ہماری اگلی صدی کے بزرگ بھگتیں گے ۔آزادی تحریر و تقریر کا مطلب یہ نہیں کہ ہم جو منہ میں آئے بکتے چلیں جائیں ۔اور اگر کوئی ہم پر تنقید کرے تو ہم اُسے بھی اپنی توہین سمجھ کر اُسی پر برس پڑیں ۔
مکافات عمل ایک حقیقت ہے ،انسان جو بوتا ہے وہی اُسے ایک دن کاٹنا ہوتا ہے ۔لیکن ہم یہ سمجھتے ہیں کہ برائی کے بدلے ہمیں اچھائی میّسر آئے گی ۔۔ڈالروں کی ریس میں ہم سبھی اخلاقی و اسلامی اقدار بھول چکے ہیں ۔ریٹنگ کی ایک ایسی دوڑ لگی ہے کہ ہر کوئی چاند کو چھو لینا چاہتا ہے ۔اِن اینکرز کو اس بات کی پرواہ بھی نہیں کہ آنے والا کل اُن کی اِس ریٹنگ کی دوڑ میں انجام ِکار ان کے اپنے گھر کو ہی جلا کر راکھ کردے گی ۔اور یہ وہ وقت ہوگا جب ہمارے لئے واپسی کا بھی کوئی راستہ باقی نہیں بچے گا ۔
اس وقت تو ایک دُعا زہراکا ایشو ہے جس پر سبھی نے تماشا لگا رکھا ہے ۔دُعا زہرا اور ظہیر کے ساتھ اُس کے والدین کےلئے بھی ”مرضی کی شادی “ایک ڈھال کی صورت ان پر سایہ کئے ہوئے ہے لیکن اس وقت بھی صورتحال یہ ہے کہ ظہیر جیسے نوجوانوں کی بلیک میلنگ کی بدولت کتنی کی بچیاں گھروں سے فرار ہوکر اپنی زندگی برباد کر چکی ہیں ۔لیکن ان کے والدین موجودہ عدالتی نظام ، وکلاء،پولیس اور میڈیا کی وجہ سے اپنے اپنے گھروں میں زندہ درگور ہو چکے ہیں ۔وہ اپنے حق کےلئے آواز تک نہیں اٹھارہے کہ اُن کا اور اُن کی اولاد کا تماشا ہی نہ لگ جائے ۔دُعا ہے کہ اللہ تعالیٰ نوجواں نسل کو اپنے والدین کی فرمانبرداری کی توفیق دے ،بچوں اور بچیوںکو راہ ِمستقیم پر چلنے کی ہمت عطا ءفرمائے ۔اور اس صورتحال سے دوچا ردُعا کے والدین سمیت سبھی کو صبر دے ۔آمین ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں