18

لنڈا بازار

تحریر۔۔ روہیل اکبر
لاہور ریلوے اسٹیشن کے لنڈا بازار سے گذر ہوا تو وہاں پر عام مارکیٹوں کی نسبت زیادہ رش تھالنڈا بازار میں گرمیوں میں پہلے کبھی اتنا رش نہیں دیکھا شائد بڑھتی ہوئی مہنگائی ،بے روزگاری اور غربت نے مڈل کلاس سے اوپر والوں کو بھی اس بازار کا منہ دکھایا دیا ہے یہی وجہ ہے کہ آج کل لنڈا بازار میں کافی رونقیں ہیںلنڈا بازارکی ابتدا کیسے ہوئی اس بر بعد میں لکھوں کا پہلے مایوس اور کم ہمت لوگوں سے گذارش ہے کہ ہر انسان کی زندگی میں مشکلات اور مصیبتوں کا عمل دخل ضرور رہا یشانیاں بھی آتی ہیں مگر کچھ لوگ ان پریشانیوں کو سر پر سوار کرنے کی بجائے ان سے چھٹکارے کا سوچتا ہے اور پھر عمل کرنا شروع کردیتا ہے ہم سے سے اکثریت ایسے افراد کی ہے جو صرف پریشانیوں میں سوچتے ہیں مگر انکے خاتمے کے لیے کرتے کچھ نہیں زندگی میں مشکلات کے اندھیرے جب ہم پر چھا جائیں اور امید کی کرن نظر نہ آئے تو اپنا محاسبہ کریں کہ میرا رب مجھے سے کیاچاہتا ہے ہماری زندگی میں کبھی دن کی روشنی ہوتی ہے اور کبھی رات کا اندھیرا ہر رات کے بعد دن ہے جس طرح رات باقی نہیں رہتی اس طرح ہر مشکل وقت بھی گزر جاتا ہے کرنے کے دو کام پہلا کام جب مشکل وقت ہو، پریشانی ہو، چوٹ لگے، ایک ٹھہرا¶ آجائے تو سمجھیں گویا سوچنے کا موقع ملا ہے اپنی غلطی بعض اوقات نظر آنے لگتی ہے اس پر غور کرنا چاہئے دوسرا کام مایوس نہیں ہونابس کوشش کرتے رہنا چاہیے اللہ تعالی ہمیں مایوس نہیں کریگا کبھی آپ نے آسمان پہ غور کیا ہے اور سوچا ہے کہ کون ہے جو اتنے پیارے  اور نفیس رنگ دیتا ہے اس نیلی چادر کوہمارے رب کے پاس تو اسمان کے لئے بھی منصوبے ہیں پھرہم جو اشرف ہیں تمام مخلوق سے ہم اس کے خلیفہ ہیں اور اسے توہم سے کوئی مفاد بھی نہیں ہے سوائے اس بات کہ ہمیں پہلے سے بہتر مقام دے دے اور جن کو اللہ تعالی نے نوازا ہے ہمیں ان سے کوئی حسد اور لالچ بھی نہیں کرنا چاہیے انہی باتوں پر کچھ ضر ب المثل بھی پڑ لیںپھر لنڈا بازار پر بھی آ پ نے پڑھنا ہے ۔ ٹوٹی قلم اور دوسروں سے جلن ہمیں اپنی قسمت لکھنے نہیں دیتی، کام کا آلس اور پیسے کی لالچ ہمیں ترقی کرنے نہیں دیتی،دنیا میں سب چیزیں مل جاتی ہیں صرف اپنی غلطی نہیں ملتی،جتنی بھیڑ بڑھ رہی ہے زمانے میں لوگ اتنے ہی اکیلے ہوتے جا رہے ہیں،اس دنیا کے لوگ بھی کتنے عجیب ہیں نا سارے کھلونے چھوڑ کر جذبات سے کھیلتے ہیں،کنارے پر تیرنے والی لاش کو دیکھ کر یہ سمجھ میں آیا بوجھ جسم کا نہیں سانسوں کا تھا،سفر کا مزہ لینا ہو تو ساتھ سامان کم رکھیں اور زندگی کا مزہ لینا ہو تو دل میں ارمان کم رکھیں،زندگی کو اتنا سیریس لینے کی ضرورت نہیں ہے یہاں سے زندہ بچ کر کوئی نہیں گیا، جنکے پاس صرف سکے تھے وہ مزے سے بھیگتے رہے بارش میں جنکے پاس نوٹ تھے وہ چھت کی تلاش میں رہ گئے، پیسہ انسان کو اوپر لے جا سکتا ہے لیکن انسان پیسہ اوپر نہیں لے جاسکتا، کمائی چھوٹی یا بڑی ہوسکتی ہے پر روٹی کا سائز لگ بھگ سبھی گھروں میں ایک جیسا ہی ہوتا ہے، انسان چاہتا ہے اڑنے کو پر ملے اور پرندے سوچتے ہیں کہ رہنے کو گھر ملے ، کام سے ہی پہچان ہوتی ہے انسان کی مہنگے کپڑ ے تو ”پُتلے” بھی پہنتے ہیں دوکانوں میں، مجھے پتہ نہیں کہ میں ایک بہترین ممبر ہوں یا نہیں لیکن میں جس گروپ میں ہوں اسکے سبھی ممبرز بہت ہی بہترین ہیں ۔اب آتے ہیں لنڈا بازار کی طرف جہاں استعمال شدہ کپڑوں،جوتوں اور پرانی دوسری اشیاءفروخت ہوتی ہیں اس بازار کو ”لنڈا بازار” کہا جاتا ہے؟جس کے متعلق مشہور ہے کہ ایک برطانوی خاتون کا نام Linda لینڈا تھاوہ بہت رحم دل تھی اسے غریبوں سے خاص ہمدردی تھی اس نے غریبوں کے لیے کچھ کرنےکا سوچا اس کے پاس اپنے وسائل کم تھے اس نے اپنے دوستوں سے عطیات دینے کی درخواست کی اس کے دوستوں نے اسے کچھ پرانے جوتے کپڑے وغیرہ دیئے جو اس نے غریبوں کے لیے ایک سٹال پہ سجائے اور غریب لوگ وہاں سے وہ کپڑے مفت لینے لگے دوسرے لوگوں کو بھی اس کی ترغیب ہوئی اور ان لوگوں نے بھی اپنے پرانے کپڑوں اور جوتے وغیرہ لینڈا کو دینے شروع کردئیے اور اس کا یہ سٹال کافی مشہور ہوگیا جو بعد میں ایک مارکیٹ کی شکل اختیار کرگیاآخر اس جگہ کو لینڈا مارکیٹ کہا جانے لگا جودرحقیقت غریبوں کی مارکیٹ تھی انگریزوں کی برصغیر آمد کے ساتھ ہی انگریزوں کی پرانی اشیاءجو بے کار ہوجاتی تھیں۔ سستے داموں یہاں پاک وہند میں بک جاتی تھیں انگریز جاتے ہوئے وراثت میں ہمیں لینڈا مارکیٹ بھی دے گئے جسے ہم لنڈا بازار کہتے ہیں جو ہمارے ہاں مقامی زبان میں اس کا بگڑا ہوا نام ہے لنڈا بازار کے اندر بھی ہمارے لئے ایک سبق موجود ہے لینڈاایک غیر مسلم ہوکر بھی خیر خواہی کے جذبے سے سرشار تھی اور آج ہم اکثر مسلمان جو اسلام کے نام لیوا ہیں اپنے غریب بہن بھائیوں کا خیال تک نہیں رکھتے حالانکہ ہمارے دین اسلام کے نام کا مطلب ہی خیر خواہی ہے اس لیے ہمیں ایک دوسرے کی خدمت میںسبقت لانی چاہیے اپنے اردگرد ،خاندان،گلی اور محلے کے لوگوں کی خبر گیری رکھا کریں کوئی غریب ہے اور حقدار ہے تو اس کی ضرور مدد کیا کریں ان شائاللہ یہ مدد کرنا آپ کا رائیگاں نہیں جائیگا ایک کے بدلے سات سو گنا سے بھی زیادہ کا اجر ہے جیسے قرآن پاک میں اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی بڑی پیاری مثال دی گئی ہے جس کا مفہوم کچھ اس طرح ہے کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی مثال ایسی ہے کہ انسان زمین میں ایک دانہ بوتا ہے اور اس سے ایک پودا نکلتا ہے اور اس پر سات بالیں (سٹے) نکلتے ہیں اور ہر بالی میں سو دانے اور اللہ چاہے تو اس بھی زیادہ بڑھائے اسی طرح اگر آپ صاحب حثیت ہیں اور آپ پر زکواة فرض ہے تو اپنی زکواة سو فیصد مکمل ادا کیا کریں حدیث شریف میں زکوٰة کو مال کا میل کہا گیا ہے اور ایک حدیث میں ہے کہ زکوٰة ادا کرکے اپنے مالوں کو محفوظ کرلو اس لئے تمام صاحب سروت لوگ اپنی زکواة کا حساب لگا کر مکمل زکوٰة ادا کیا کریں کہ یہ آپ کے غریب مسلمان بہنوں اور بھائیوں کا حق ہے زکوٰة کے مسائل سیکھنا بھی ایسے ہی فرض ہے جیسے نماز، وضو اور غسل کے مسائل سیکھنا اے اللہ ہمارے اندر بھی غریبوں کی خیر خواہی کا جذبہ پیدا فرما دے۔ آمین۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں