58

کلاس سے بورڈ امتحانات تک،تجاویز اور رائے

تحریر۔۔علی رضا رانا
حیدرآباد تعلیمی بورڈ کے تحت پہلے مرحلے میں 12 ویں جماعت سال 2022 تمام گروپس کے جاری امتحانات اختتام پزیز ہوگئے، امتحانات صبح اور شام کی شفٹ میں لئے گئے جو کہ 15 جون سے 22 جون تک جاری رہے کر اختتام کو پہنچے، حیدرآباد ڈویژن کے 9 اضلاع جن میں بدین، ٹھٹھہ، سجاول، ٹنڈوالہیار، ٹنڈو محمد خان، دادو، ہالا، مٹیاری، جام شورو شامل ہیں، ان اضلاع میں امتحانی مراکز کی تعداد 180 تھی جبکہ 17 امتحانی مراکز حساس تھے جہاں سیکورٹی کے انتظامات دوران وزٹ سخت دیکھے گئے ہیں، کنٹرولر امتحانات ڈاکٹر مسرور احمد زئی کی زیر نگرانی امتحانات کا انعقاد کیا گیا، جو تسلی بخش اور اطمینان بخش رہے ہیں، حیدرآباد سمیت 9 اضلاع میں امتحانات کی مانیٹرنگ کے حوالے سے بورڈ آفس میں ایک خصوصی سیل قائم کیا گیا جہاں سے روز کی بنیاد پر تفصیلات جاری کی گءاس سیل کی انچارج معراج النساءتھی اسی طرح خصوصی سوشل میڈیا سیل کا قیام عمل میں لایا گیا اس سیل کے انچارج زاہد انصاری تھے، اس سیل کا مقصد میڈیا نمائندوں سے فوری رابطہ اور طلبہ و طلبات کے مسائل سے متعلق فوری معلومات کی شیئرنگ یقینی بنائی گئی، امتحانات کی نگرانی کے لئے 27 ویجلینس ٹیمیں تشکیل دی گئی، جنہوں نے حیدرآباد سمیت 9 اضلاع میں دورے کئے، نقل کرنے والوں طلبہ پر تقریباً 400 سے زائد کاپی کیسز کئے گئے ہیں، متبادل امیدوار بیٹھانے کے کیسز میں کافی حد تک کمی دیکھی گئی ہے اسی طرح کاپی تبدیلی جو کہ بڑا مسئلہ تھا، حیدرآباد بورڈ کی موثر پالیسی کے تحت اس مسئلے پر بھی کافی حد تک کمی دیکھی گئی ہے، پائلیٹس جن کا کام پرچوں کو امتحانی مراکز تک پہنچانا ہوتا ہے انکو اس ذمہ داری کے لئے پابند کیا گیا، اس طرح پرچہ وقت پر پہنچایا اور امتحان کا آغاز مقررہ وقت 9 بجے سے دوپہر 12 بجے تک جاری رہا، پرچہ دیر سے شروع ہونے کی شکایات میں کافی بہتری دیکھی گئی ہے، گزشتہ برسوں میں پرچہ سڑکوں، گاڑیوں اور پرائیویٹ کمروں میں حل کیا جاتا رہا ہے، مگر اس سال بورڈ پالیسی مثبت اور بہتر ہونے کی وجہ سے اس طرح کی کوئی اطلاعات موصول نہیں ہوئی اور نہ میری معلومات کے مطابق دیکھی گئی ہیں،ماضی قریب میں وقت سے پہلے پرچہ آوٹ ہونے کی اطلاعات عام تھی، جو کہ موجودہ بہترین پالیسی کے تحت سینٹر کوڈ پرچے پر درج ہونے کے باعث پرچہ وقت سے پہلے آوٹ ہونے سے بچ گیا، مگر کچھ میڈیا رپورٹس کے مطابق کچھ جگہوں پر پرچہ آوٹ ہونے کی اطلاعات ملی تھی مگر شواہد ناکافی ہونے کی وجہ سے اس بات کو حقیقت نہیں سمجھا جاسکتا، میں خود موجودہ بارہویں جماعت کے امتحانات میں کنٹرولر امتحانات ڈاکٹر مسرور احمد زئی کی زیر صدارت ویجلینس ٹیم کا حصہ بن کر مختلف امتحانی مراکز کا دورہ کرکے اب تحقیق مکمل کی ہے اس تحقیق میں نا صرف امتحانی طریقہ کار بلکہ طلبہ و طلبات کی ذہنی، فکری، علمی، ادبی اور نصابی سرگرمیوں کا جائزہ بھی لیا ہے، تعلیمی اداروں میں مروجہ نصاب تحقیقی اور جدید زمانے کے اصولوں سے مزین نہیں ہے، بعض اساتذہ کی لاپرواہی اور غیر ذمہ دارانہ رویہ کی وجہ سے نوجوان طلبہ و طلبات میں تحقیقی صلاحیتوں کا فقدان نظر آتا ہے، کیونکہ امتحان سےقبل ہی ذہنی کیفیت کا جائزہ لے کر امتحانی اصلاحات سے متعلق آگاہی دی جائے، اس طرح میری تحقیق کے مطابق اعلیٰ ذہنیت کے حامل طلبہ بھی اپنی ذہنی صلاحیتوں کو تحقیقی میدان میں بروئے کار لانے سے محروم رہ جاتے ہیں اور ان کی صلاحیتیں ماند پڑجاتی ہیں، اساتذہ کا طریقہ تدریس طلبہ میں تحقیقی و تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے میں بہت اہم کردار ادا کرتا ہے، اس وقت طلبہ و طلبات ذہنی طور پر بلکل بھی بورڈ امتحان دینے کے قابل نہیں ہیں، میتھ، سائنس، اردو، انگلش مضامین میں طلبہ کی علمی سرگرمی صفر ہے، کیونکہ بچے 1 سے 8 جماعت تک نجی کتابیں پڑھتے ہیں، جن کی انگریزی کافی مشکل ہوتی ہے مگر سمجھانے والے کم پیسوں کے باعث ٹھک سے سمجھا نہیں پاتے اور امتحان بھی مختصر ہوتا ہے، اگر سرکاری و پرائیویٹ اسکولز کا نصاب ایک ہو جائے اور جماعت 6 سے اوپر بورڈ امتحان لیا جائے اور نصاب بھی مقرر کردیا جائے تو بچے جلد اس قابل ہوسکتے ہیں کہ وہ تعلیم پر توجہ دینے کے لئے اہل ہیں دوسری اہم وجہ جماعت 9 سے 12 میں نصاب اتنا زیادہ ہے جس سے بچے آسانی سے نہ سمجھ پاتے ہیں اور نہ پڑھ پاتے ہیں، نصاب میں تبدیلی، بورڈ امتحانی پالیسی ماڈل پرچوں کے بجائے، نصاب یا اسکیم طرز کی کوئی پالیسی بنائے تاکہ بچے کو اندازہ ہوسکے کہ امتحان کتنے سبق میں سے آئے گا، اب اگر یہ کہاں جائے کہ اسباق کی تعداد 8 یا 10 ہے اور مکمل سلیبس ہے اور اس سے امتحان ہوگا تو اس طرح بچہ تعلیم سے بھاگے گا اور امتحان میں نقل کی طرف جائے گا اور نئے طریقے سیکھے گا کہ اب نقل کس طرح کی جائے، موجودہ امتحانات کو نقل سے پاک نہیں کہاں جاسکتا، جہاں ہینڈ بکس اور گائیڈ استعمال ہوتی تھی، آج دور تبدیل ہوا ہے تو انکی جگہ موبائل فون نے لے لی، کتنا اچھا ہوتا کہ اگر تعلیم کی بہتری کی طرف سوچا جاتا اور امتحان سے قبل کلاس میں تربیت پر توجہ دی جاتی اور مضامین کو آسان کرکے سمجھا کر بچے کو امتحان کے لئے تیار کرتے تو آج نقل نہ ہوتی اور نہ نسل میں غصہ ہوتا کہ وہ صرف پاس ہونگے تو نقل سے، کوشش کرنی ہوگی اساتذہ سے والدین تک بچوں کے مستقبل کو محفوظ بنانا ہوگا، کیونکہ بد قسمتی سے تعلیمی درسگاہوں میں اساتذہ بھی غورو فکر کرنے کی دعوت نہیں دیتے جس کی وجہ سے طلبہ میں غور و فکر کرنے کی صلاحیت ختم ہورہی ہے، تعلیمی اداروں میں صرف چند مخصوص اسباق پڑھانے کا روایتی طریقہ تدریس جاری ہے، اس روایتی طریقہ تدریس کے باعث تعلیم کا اصل مقصد مرتا جارہا ہے، اساتذہ میں تعمیری و تخلیقی سوچ کے فقدان کی وجہ سے طلبہ بھی اعلیٰ سوچ و فکر کی نعمت سے محروم ہیں، تعلیمی اداروں میں نصابی کتابوں کے علاوہ غیر نصابی کتابوں کے مطالعہ کی طرف رغبت نہیں دلائی جاتی جس کی وجہ سے طلبہ میں پک کرنے کی صلاحیت ختم ہوچکی ہے، بچے یہ نہیں جانتے کہ اب جو چیز ہم لکھ رہے یہ درست ہے یا غلط، یا جو سوال ہم سے معلوم کیا گیا ہے یہ اس سوال کا جواب بن سکتا ہے یا نہیں، نصابی کتابوں میں موجود اسباق پڑھنا اور اسے رٹ کر امتحان میں کامیابی حاصل کرنا اصل مقصد سمجھ لیا گیا ہے، نوجوانوں میں نقل اور کاپی پیسٹ کا کلچر عام ہو رہا ہے، کسی بھی معاملہ میں تحقیق کرنے کی کوشش نہیں کی جاتی، یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ تعلیم کا اصل مقصد صرف ڈگری کا حصول اور پیسہ کمانا رہ گیا اور ایک دوسرے سے آگے نکلنا رہے گیا ہے، اگرہم تعلیم کو سمجھنے کی کوشش کریں، توتعلیم دراصل سیکھنے سکھانے کا ایک عمل ہے۔ جس سے بچے علم، ہنر، اقدار، عقائد اور عادات کو سیکھ سکتے ہیں، یعنی تعلیم کا تعلق براہ راست انسانی شعور اور فہم کے ساتھ ہے، یہ شعور کی بہتری اور فہم کی افزائش میں مدد فراہم کرتی ہے”مشہور ماہر تعلیم مارک کے اسمتھ نےتعلیم کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ سچائی اور امکان کو مدعو کرنے کا عمل ہےجس میں حق، سچائی اور امکان کو مدعو کرنے کی کوشش کی جاتی ہے” اور ان خصوصیات کو دریافت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، میں نے اذخود کلاس روم سے کمرہ امتحان تک جائزہ لیا ہے کہ لڑکوں اور لڑکیوں میں یہ ایک دلچسپ بات ہے کہ گذشتہ کئی سالوں سے بورڈ کے امتحانات کے نتائج یہ بتارہے ہیں کہ لڑکوں کے مقابلے لڑکیاں زیادہ بہتر اور نمایاں کار کردگی کا مظاہرہ کررہی ہیں، یہ اس حیثیت سے خوش آئند بات ہے کہ لڑکیوں میں تعلیم کے حصول کے لیے نہ صرف سنجیدگی اور یکسوئی پائی جاتی ہے بلکہ اس میدان میں وہ لڑکوں سے آگے نکل گئی ہیں، مگر اس کا افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ہمارے نوجوان لڑکوں میں دن بہ دن سنجیدگی اور علم کا شوق کم ہورہا ہے اور وہ مغرب پرستی اور ناکارہ پن کی طرف جارہے ہیں، ہمیں اپنی محنت اور لگن سے اس روش کو بدل کر رکھ دینا ہے اور نمایاں کامیابی کے ذریعہ یہ ثابت کردینا ہے کہ لڑکے بھی حصول علم کے لیے سنجیدہ ہیں، کیونکہ امتحانات میں لڑکے زیادہ تر نقل پر توجہ دیتے دیکھائی دیئے ہیں، اور لڑکیاں زیادہ تر اپنے یاد کئے گئے مضامین پر توجہ دیتی نظر آئی ہیں۔
بورڈ امتحانی و انتظامی پالیسی بہترین اور تسلی بخش رہی ہے مگر چند تجاویز بورڈ کو دینا چاہتا ہوں، جو کہ مندرجہ ذیل ہیں
(1)سوشل میڈیا کا دور ہے طلبہ و طلبات کی آسانی کے لئے تشکیل کردہ سوشل میڈیا سیل کو مستقل بنیادوں پر جاری رکھا جائے، مخصوص وٹس ایپ نمبر طلبہ کی آسانی کے لئے جاری کیا جائے، دیگر سوشل میڈیا یونٹس اور سائٹس کی اثر نو تعمیر کی جائے، پسندیدہ اسٹاف کے بجائے شعبہ کے لئے تجربہ کار اسٹاف کی بھرتی کی جائے
(2) امتحانات میں پسند نہ نا پسند کو ایک طرف رکھ کر، اچھے اور قابل لوگوں کا انتخاب کریں اور ان پر ویجلینس ٹیمیں تشکیل دی جائے، جو کہ کاپی کیسز اور بچوں کو دباو میں لینے کے بجائے، تحمل مزاجی، صبر اوراخلاقیات کی حد میں رہتے ہوئے آگاہی دے۔
(3)امتحان لینا، امتحان کروانا، امتحان کا طریقہ کار بنانا، امتحان کی پالیسی مرتب کرنا، امتحان میں پرچہ جات کی تیاری کرنا یہ سب بورڈ کی زمہ داری ہے تو پھر بورڈ فوری طور پر نویں، دسویں، گیارہویں اور بارہویں جماعت کی اسکیم تشکیل دے، کیونکہ بورڈ ماڈ ل پرچے صرف امتحانی پرچوں کی نشاندہی کے لئے ہیں، اور اسکیم سلیبس کی کمی، منتخب کردہ مضامین اور انکے سوالات
جو ابات جو امتحان میں دیئے جانے ہیں انکی تیاری میں مددگار ثابت ہونے کے لئے ہوگی، کیونکہ نقل پر قابو پانے کے لئے سلیبس میں کمی اور امتحانی اسکیم کی تشکیل پر ہی منحصر ہے۔
(4) اس امتحان میں بھی طلبہ و طلبات کی سلیپس میں تصاویر کٹی ہوئی آئی ہیں یا تو شکل واضح نہیں ہے، اس صورتحال میں تجربہ کار افراد کی تعیناتی سمیت ضروری اقدامات کی فوری ضرورت ہے۔
(5) امتحانات میں قابل اساتذہ کی اشد ضرورت ہے، دوران امتحان ایسے اساتذہ چاہیے ہیں جو کہ متعلقہ سبجیکٹ کے ماہر ہوں اور طلبہ و طلبات کو کمرہ امتحان میں بھی مدد دیں اور فوری سوال سے جواب تک سہولیات فراہم کریں، یہ نہیں کہ جواب لکھوا دیں،بلکہ یہ کریں کہ جو جواب وہ نقل سے کریں یا نقل کا سوچیں تو فوری اسکو سمجھا دیں تاکہ وہ اس سوال کا جواب لکھ لے۔
(6) امتحانی سینٹرز میں تلاشی کے بجائے موثر جدید نظام اپنایا جائے کیونکہ طلبہ اور قیدی میں فرق ضروری ہے۔
(7) کاپی کیسز کرنے کے بجائے سزا کا طریقہ کار واضح کیا جائے، کاپی کیسز سے تذلیل ہوتی ہے، عزت مجروح ہوتی ہے، احساس محرومی میں اضافہ ہوتا ہے اور نسل نوع میں انتشار برپا ہوجاتا ہے جو کہ طلبہ و طلبات میں عدم برداشت کی اہم وجہ ہے۔
(8)امتحانی مراکز کی تشکیل بورڈ کی ذمہ داری ہے تو وہاں موجود غیر متعلقہ افراد اور غیر متعلقہ افراد جو ڈیوٹی کے نام پر موجود ہوتے ہیں اور پسند نا پسند کی بنیاد پر پرچہ حل کرنے میں مدد کرتے ہیں ایسے لوگوں سے فوری امتحانی مراکز کو پاک کیا جائے۔
(9) ویجلینس ٹیم میں ٹیچرز کے علاوہ صحافیوں سمیت دیگر اداروں کے لوگوں کو بھی شامل کیا جائے، کیونکہ بورڈ ملازمین اگر ٹیم بن کر سینٹرز پر جائے گے تو پیچھے دیگر ذمہ داریاں متاثر ہونگی، بہترین حل یہ ہے کہ سینئر ٹیچرز کا انتخاب کریں بغیر تنظیمی سلام دعا کہ، اچھی سخت کے حامل صحافی حضرت کو امتحانی مراکز تک رسائی دی جائے،فوکل پرسنز منتخب کئے جائیں۔
(11) محکمہ تعلیم سندھ فوری طور پر ایک نصاب میں اصلاحات لائیں، سلیبس میں کمی کریں، نئی امتحانی پالیسی جس میں بورڈ امتحانات سے متعلق پالیسی مرتب کی جائے، کمرہ کلاس سے کمرہ امتحان تک تعلیم کی آگاہی سے لے کر امتحانی آگاہی اور امتحان کی اہمیت کی مہم کا آغاز کریں، اساتذہ تربیت یافتہ ہونگے تو طلبہ و طلبات بھی تربیت حاصل کریں، اگر سلیبس کم اور منتخب ہوگا تو نقل کا خاتمہ ہوگا۔
(12) امتحانات کی نگرانی اور مانیٹرنگ کے لئے ہر شعبے سے افراد لئے جائیں، اور فوکل پرسن منتخب کئے جائیں۔ ٹیچرز،صحافی،سول سوسائٹی وغیرہ سے فوکل پرسنز منتخب کئے جائیں جو کہ امتحانات میں کسی بھی سینٹر میں جاکر صورتحال کو چیک کریں اور اپنی رائے ست تعلیمی معملات کو بہتر کرنے میں مددگار ثابت ہوں، بچوں میں امتحانات کی آگاہی پہنچانے میں میڈیا اپنا مثبت کردار ادا کرے۔۔۔۔
میری ذاتی رائے، تحقیق اور تمام تر تجویز بنیادی سہولیات سے لے کر ایک تعلیم یافتہ معاشرے کی تشکیل تک کے لئے اہم اور ضروری ہیں، مجھے طرز تعلیم سے لے کر طرز امتحان تک اختلاف ہے، مگر خوشی اس بات کی ہے کہ اگر کچھ خراب ہے تو درست کرنے والے اہل لوگ کرسیوں پر موجود ہیں۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہم پر اور ہماری نسل پر رحم فرما، ایک دوسرے کی رائے کا احترام کرنے والا بنا دے، برداشت عطا فرما، تحمل مزاجی عطا فرما، طلبہ کی تربیت کرنے والا بنا دے، امتحان کی اہمیت اجاگر کرنے والا بنا دے، اپنی اپنی ذمہ داری کا احساس و احترام کرنے والا بنا دے، اپنے حصے کا کام ذمہ داری سے کرنے والا بنا دے آمین یارب العالمین۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں