23

شہید کربلا ،نواسہ رسول حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ اور واقعہ کربلا

تحریر۔۔ بینش احمد اٹک
نواسہ پیغمبر، فرزند حیدر اورجنت کے نوجوانوں کے سردار حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی فضیلت کے لئے صرف یہی بات کافی ہے کہ وہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی لخت جگر خاتون جنت حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے فرزند ہیں۔
حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ3شعبان بروز جمعرات کو اس دنیا میں ایسے گھرانے میں پیدا ہوئے جس گھرانے کے لئے اس دنیا کا وجود عمل میں لایا گیا یعنی ہمارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پیاری اور لاڈلی بیٹی حضرت فاطمة الزہرارضی اللہ تعالی عنہا اور حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے گھر مدینہ میں ہجرت کے چوتھے سال پیدا ہوئے۔
حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ اپنے بڑے بھائی حضرت امام حسن رضی اللہ تعالی عنہ سے ایک سال چھوٹے تھے۔ولادت کی خوشخبری سن کر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور ان کے دائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت کہی اور اپنی زبان منہ میں دے دی۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مقدس لعاب دہن حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کی غذا بنا،ساتویں روز آپ کا عقیقہ کیا گیا۔حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی فضیلت کا یہ عالم ہے شہید ہوتے وقت بھی سر سجدے کی حالت میں ہے اور زبان مبار ک پر رب العالمین کا مبارک نام جاری تھا۔
حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم دونوں شہزادوں امام حسین اور امام حسن سے ملنے اپنی بیٹی سیدہ فاطمةالزہرہ ؓکے گھر تشریف لا تے اور دونوں صاحبزدوں کے لیئے دعا فر ماتے۔
احادیث کی کتب میں امام حسین ؓ کے بہت سے فضائل بیان ہوئے جن میں چند ایک حسب ذیل ہیں۔
ترمذی شریف میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے امام حسن و امام حسین کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا جس نے مجھ کو محبوب رکھا اور ان دونو ں کو اوران کے ماں باپ کو محبو ب رکھا وہ جنت میں میرے ساتھ ہو گا۔
حضرت ابوہریرہ ؓسے مروی ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے کہ ایک کندھے پرامام حسن اور دوسرے کندھے پر امام حسین سوار تھے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی حضرت حسن کبھی ا مام حسین کو چومتے کسی نے پوچھایا رسول اللہ ۔۔۔! کیا یہ دونوں فرزند آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت محبوب ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ مجھے بہت محبوب ہیں اور جس نے ان سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی جس نے ان سے بغض کیا اس نے مجھ سے بغض کیا (البدایہ و النھایہ)
حضرت سعد بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حسن اور حسین میرے دو پھول ہیں۔ (کنزالعمال)
حضرت سلمان فارسی ؓفر ماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا امام حسنؓ اورامام حضرت حسینؓ میرے بیٹے ہیں اور جس نے ان دونوں کو محبوب رکھا اس نے مجھے محبوب رکھا اور جس نے مجھے محبوب رکھا اس نے اللہ کو محبوب رکھا اللہ پاک نے اس کو جنت میں داخل کیا اور جس نے ان دونوں سے بغض رکھا اس نے مجھ سے بغض رکھا اور جس نے مجھ سے بغض رکھا اس نے اللہ سے بغض رکھا اور جس نے اللہ پاک سے بغض رکھا اللہ پاک اسے دوزخ میں داخل کرے گا۔(زرقانی)
سانحہ کربلا 10 محرم 61ھ(بمطابق 9 یا 10 اکتوبر 680)کو موجودہ عراق میں کربلا کے مقام پر پیش آیا، یزید کی بھیجی گئی افواج نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسے حضرت حسین رضی اللہ تعالی عنہ اور ان کے اہل خانہ کو شہید کیا۔
حضرت حسین رضی اللہ تعالی عنہ کے ساتھ 72 ساتھی تھے، جن میں سے 18 اہل بیت کے اراکین تھے۔ اس کے علاوہ خاندان نبوت صلی اللہ علیہ وسلم کی خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔واقعہ کربلا صرف تاریخ اسلام ہی نہیں بلکہ تاریخ عالم کاایک ایسا واقعہ ہے ،جس سے دنیا کی تمام چیزیں متاثر ہوئیں ۔ آسمان متاثر ہوا ، زمین متاثر ہوئے ۔
حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کا واقعہ شہادت نہ صرف اسلامی تاریخ کا ایک اہم واقعہ ،بلکہ پوری دنیا کی تاریخ میں بھی اس کو ایک خاص امتیاز حاصل ہے۔ اس میں ظلم و ستم اور سنگ دلی کے ایسے ہولناک اور حیرت انگیز واقعات ہیں کہ انسان کو ان کا تصور بھی دشوار ہے اور دوسری طرف آل اطہار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چشم وچراغ اور ان کے70/72ساتھیوں کی چھوٹی سی جماعت کاباطل کےخلاف مقابلے کے ایسے واقعات ہیں کہ ان کی مثال ملنا مشکل ہے۔
امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ نے حق پر ثابت قدم رہتے ہوئے کس طرح دشمن کا مقابلہ کیا اور اپنے تمام ساتھیوں کی قربانی دے دی اور اپنے بچوں تک کو قربا ن کر دیالیکن حق اور سچ پر قائم رہتے ہوئے اپنی بھی جان اللہ تعالی کی راہ میں قربان کر دی اور شہادت کا وہ رتبہ ومرتبہ حاصل کیا کہ تا قیامت ان کی شہادت کو بھلایا نہ جا سکے گا اور ان کی شان بیان کی جاتی رہے گی۔
ہمیں چاہیے کہ محرم کا احترام کریں اور اپنے بچوں کو بھی اِس کی اہمیت سے آگاہ کریں -محرم کے مہینے میں کثرت سے قرآن کی تلاوت کریں اور شہدائے کرام کے ایصال ثواب کے لئے نوافل کا اہتمام بھی کریں ۔
کیا صرف مسلمان کے پیارے ہیں حسینؓ
چرخ نوع بشر کے تارے ہیں حسینؓ
انسان کو بیدار تو ہو لینے دو۔۔۔!
ہر قوم پکارے گی ہمارے ہیں حسینؓ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں