24

شاعر مشرق علامہ اقبال اورآج کی نئی نسل ،حالتِ زار

تحریر: علی رضا رانا
آج کا آغاز اقبال کی فکر سے کرنا چاہتا ہوں۔ پاکستان جن حالات سے گزر رہا ہے اس میں نوجوانوں کا کردار یقینا بہت اہم ہے اقبال نے اپنے کردار سے بھی یہ بات ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ انھوں نے غلامی کی زنجیروں کو اپنے نوجوانی کے دور میں توڑا اور توڑنے کا سلیقہ بھی سکھایا ہے اور خود کو کتاب سے محبت کرنے اور قوم کی فلاح و بہبود پر قربان ہونے کا درس دیا ہے۔ یہ اشعار ملاحظہ فرمائیں۔
عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں
نظر آتی ہے ان کو اپنی منزل آسمانوں میں
ڈاکٹر محمد اقبال کا شمار اپنے عہد کے بڑے شعرا میں ہوتا ہے۔انہوں نے غزل اور نظم دو نوں ہی اصناف میں طبع آزمائی کی مگر ایک نظم نگار کی حیثیت سے وہ اردو ادب میں خصوصی اہمیت کے حامل ہیں۔
علا مہ اقبال1877ءمیں9 نومبر برو ز جمعہ سیال کوٹ میں پیدا ہوئے۔ آپ ایک معزز گھرا نے سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ کے والد کا نام شیخ نور محمد تھا جو سیالکوٹ میں مشہور تاجر تھے۔
اقبال نے ابتدا ئی تعلیم دینی مدرسوں میں حاصل کی اور اس کے بعد1889ءمیں اسکاش مشن ہائی اسکول سیال کوٹ سے مڈل کا امتحان وظیفہ کے ساتھ پاس کیا اور پھر یہیں سے مولا نا میر حسن کی رہنمائی میں میٹرک1893ءاور1895ءمیں ایف اے پاس کیا اور وظیفہ بھی حاصل کیا۔1895ءمیں انہوںنے گورنمنٹ کالج،لا ہور میںبی اے میں داخلہ لیا۔ جہاں انہوں نے آرنلڈ جیسے معلم سے استفادہ کرنے کا موقع ملا۔علامہ اپنے استاد پروفیسر آرنلڈ کی بے حد عزت کرتے تھے جس کی شان میں انہوں نے انگلستان کی واپسی پر ایک الوداعی نظم”نالہ? فراق“ تحریر کی۔جس میں آپ نے اپنے استاد کی اعلیٰ خصلت، خوش اخلاقی،محبت اور شفقت کی تعریف کی ہے۔ اس نظم سے علا مہ کے دل میں آرنلڈ کی عظمت و احترام کا اندازہ ہو تا ہے۔ اقبال لکھتے ہیں
تو کہاں ہے کلیم ذرہ سینائے علم
تھی تری موج نفس باد نشاط افزائے علم
اب کہاں وہ شوق رہ پیمائی صحرائے علم
تیرے دم سے تھا ہمارے سر میں بھی سودائے علم
شور لیلیٰ کو کہ بار آ رائش سودا کند
خاک مجنوں را غیار خاطر صحرا کند
وہ شمع بار گہہ خاندان مرتضوی
رہے گا یاد مثل حرم جس کا آستاں مجھ کو
نقش سے جس کی کھلی میری آرزو کی کلی
بنایا جس کی مروت نے نکتہ داں مجھ کو
دعا یہ کر کہ خدا وند آسمان و زمیں
کرے پھر اس کی زیارت سے شادماں مجھ کو
چمن کو چھوڑ کے نکلا ہوں مثل نکہت گل
ہوا ہے صبر کا منظور امتحاں مجھ کو
چلی ہے لے کے وطن کے نگار خانے سے
شراب علم کی لذت کشاں کشاں مجھ کو
وہاں اقبال نے کیمبرج یو نیورسٹی سے فلسفہ اخلاق کی ڈگری حاصل کی اور اس کے بعد جرمنی کی میونخ یونیورسٹی سے1907ءمیں”ایران کا فلسفہ“ پر پی ایچ ڈی کی ڈگری لی۔1908ءمیں ہی اقبال کا یہ مقالہ لندن میں شا ئع ہوا جسے خوب سرا ہا گیا۔ 1908ءمیں ہی وہاں سے آ پ نے بیرسٹری کا امتحان بھی پاس کیااور27? جولائی 1908ءکو ہندوستان آ ئے۔
لاہور واپس آ نے کے بعد اقبال نے گو رنمنٹ کالج میں فلسفے کے پرو فیسر کی حیثیت سے دو بارہ ملا زمت شروع کردی اور1923ءمیں اقبال کو”سر“ کا خطاب برٹش گورنمنٹ کی جانب سے حاصل ہوا۔
اقبال کو شروع سے ہی شعر و شاعری سے شغف رہا۔انہوں نے جس وقت شاعری کے میدان میں قدم رکھا تو غزل کا بول بالا تھا۔ داغ اور میر کا رنگ سخن ہر سو پھیلا ہوا تھا۔ ابتدائے فن میں اقبال نے بھی غزل کے میدان میں ہی گل کھلا ئے،جن پر داغ کا رنگ نمایاں نظر آ تا ہے۔ مثلاً
نہ آتے ہمیں اس میں تکرار کیا تھی
مگر وعدہ کرتے ہوئے عار کیا تھی
تمہارے پیامی نے سب راز کھولا
خطا اس میں بندے کی سر کار کیا تھی
تامل تو تھا ان کو آ نے میں قاصد
مگر یہ بتا طرز انکار کیا تھی
کہیں ذکر رہتا ہے اقبال تیرا
فسوں تھا کوئی تیری گفتار کیا تھی
تو شاہین ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانو ں پرنوجوان نسل میں عدم برداشت اور سوشل میڈیا کی کامیابی والدین کی ناکامی کا دوسرا اہم حصہ کچھ یوں ہے کہ انٹرنیٹ اور کیا سوشل میڈیا کا استعمال غلط ہے؟ہر گز نہیں۔ مگر جو طریقہ ہماری نسل نے اپنا لیا ہے وہ غلط ہے۔ دیکھا جائے تو یقینا یہ بات واضح ہوجائے گی کہ انٹرنیٹ کو ئی غلط چیز نہیں بلکہ اس کا اچھا یا برا ہونا اس کے استعمال پر منحصر ہے۔ ایک تو سوشل میڈیا پر سیاسی اور مذہبی مباحثے چھڑ جاتے ہیں انہوں نے خاصا بد امنی کا ماحول پیدا کیا ہوا ہے۔ اور ساتھ ہی اگر کوئی واقع ہوجائے تو اس کا مذاق شروع کردیا جاتا ہے۔ ملکی مفاد کے بجائے گالم گلوچ کرکے اپنی انفرادی بھڑاس نکال لیتے ہیں۔
کچھ نوجوان لڑکے لڑکیوں نے تو اپنے شوق میں افواہیں پھیلانے کا کاروبار ہی شروع کیا ہوا ہے ان کا کام دنیا بھر کی جھوٹی خبروں کو پھیلانا ہے ۔ جب دیکھا کہ لوگوں نے خالی باتوں پر یقین کرنا چھوڑ دیا ہے تو انہوں نے جعلی تصاویر اور ویڈیوز کو پھیلانا شروع کردیا اور اب تک یہ سلسلہ جاری ہے یہ سب انٹرنیٹ کے غلط استعمال کی چند مثالیں ہیں۔
اب ذرا سوچئے اگر ہم انٹرنیٹ کا استعمال فلاحی کاموں میں کریں جن سے معاشرے میں بہتری آسکتی ہے تو کتنا اچھا ہو۔ ہم وقت انٹرنیٹ پر ضائع کرنے کے بجائے مثبت طریقے سے استعمال کریں تو دیکھئے معاشرے میں کتنا فرق آجائے گا۔ اپنی ملت کو مہذب دکھانے کے لیے اپنے آپ کو مہذب دکھائیں امید ہے معاشرہ بہتری کی جانب گامزن ہوجائے گا اور نئی نسل ایک اچھے راستے پر گامزن ہوجائے گی۔ جو کہ کتاب سے محبت سے ہوسکتی ہے۔
زیادہ تر نوجوان کسی بھی سوشل معاملے کو اٹھاکر بیٹھ جاتے ہیں اور زیادہ سے زیادہ خود ساختہ تجزیہ Statusکی صورت میں فیس بک اور واٹس ایپ پر لگائے جاتے ہیں جن میں سے زیادہ تر غیر اخلاقی تجزیے شامل ہوتے ہیں جو کہ لکھنے اور سوچنے والے کی اپنی شخصیت خراب کر رہے ہوتے ہیں۔
کہا جاتا ہے کہ کتاب انسان کی بہترین دوست ہے لیکن موجود دور میں جیسے جیسے نوجوان دن بہ دن جدید ٹیکنالوجی سے قریب تر ہوتے جارہے ہیں کتب دوستی دم توڑتی جارہی ہے ۔ کتابوں کی جگہ انٹرنیٹ نے لے لی ہے۔ تفریح کے جدید ذرائع کی موجودگی میں کتب بینی صرف لائبریریوں یا چند اہل ذوق تک محدود ہوگئی ہے، جن کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ خاص طور پر نوجوان نسل اور بچوں میں کتب بینی سے لاتعلقی اور غیر سنجیدہ رویہ پایا جاتا ہے۔ اکثر خیال آتا ہے کہ کیا نسل نو وقت کی کمی کے باعث اس لاتعلقی کا شکار ہے یا کتابوں سے دوری بھی اقدار سے دوری کی طرح ہمارا رویہ بنتا جارہا ہے ۔ آج کل بک شاپس یا لائبریریوں میں نہیں بلکہ برانڈڈ کپڑوں کی دکانوں میں رش دیکھنے میں آتا ہے ۔
ماضی میں کتاب پڑھنے والوں کے ذوق کا یہ عالم تھا کہ رات کو بنا مطالعہ کیے نیند نہیں آتی تھی اور آج کے نوجوان نصابی کتب تک کھولنے کی زحمت نہیں کرتے۔ اب تو حال یہ ہے کہ طلبہ کتاب خریدنے یا لائبریری جانے تک کی تکلیف نہیں کرتے جہاں تک کہ نصاب کی کتابوں بجائے فیس بک اور واٹس ایپ پر اکتفا کیا جاتا ہے۔ علم کی روشنی کو جب تک سماج میں پھیلایا ہی نہیں جائے گا جہالت کے اندھیرے کیسے ختم ہونگے کتاب کو انسان کا سب سے اچھا دوست جانا جاتا ہے۔ مگر یہاں تو یہ حال ہے کہ خود اس دوست سے دشمنی کی جارہی ہے ۔ پڑھے لکھے شخص سے پوچھیں کہ اس نے آخری کتاب کب خریدی تھی یا اس نے آخری کتاب کب پڑھی تھی کچھ نوجوان یہ کہتے نظر آئیں گے کہ وقت کی کمی کے باعث
ہم مطالعہ نہیں کر پاتے، اتنے کام جو کرنے پڑتے ہیں، کالج، یونیورسٹی، کوچنگ سینٹر یا دفتر کی مصروفیات میں الجھے رہتے ہیں، جب کہ کچھ یہ شکوہ کرتے ہیں کہ کتاب مہنگی بہت ہے۔ زندگی بہت فاسٹ ہوگئی ہے ۔ اگر ہم بحیثیت قوم کسی چیز میں خود کفیل ہیں تو وقت وقت ہی ہے ہم وقت کی دولت سے مالا مال ہیں اور اتنے ہی سخی کے اس قیمتی چیز کو لٹاتے پھرتے ہیں۔ گھنٹوں انٹرنیٹ ، موبائل فون اور سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر برباد کرنے کے بعد بھی وقت کی کمی کا رونا روتے رہتے ہیں ۔ دنیا کی ترقی یافتہ اور مصروف ترین اقوام نے ابھی تک کتابوں سے رشتہ نہیں توڑا ہے ۔ کتابوں کے شیدائی مطالعے میں مصرف نظر آتے ہیں۔ اس بات کی بھی ضرورت نہیں کہ ہم یہ بحث کریں کہ کتب بینی کیا اتنی ضروری ہے ، کتاب تو سماج میں نئی سوچ کو لے کر آتی ہے۔ ہم ہر فورم پر تبدیلی کی بات کرتے ہیں مگر تبدیلی کیسے آئے گی جب نوجوان شعور سے عاری ہونگے۔ مصیبت یہ ہے کہ شعور تو علم کا محتاج ہوتا ہے۔ جستجو کیسے کریں ہم تو مادہ پرستی کی بھیڑ میں ایک دوسرے کو نیچا دکھا کر آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔ مطالعے کی روایت اخلاقی، تہذیبی، معاشی، معاشرتی، ثقافتی، نفسیاتی، سائنسی اور دیگر تمام علوم و فنونِ لطیفہ کو سنوارنے کی خدمات انجام دیتی ہیں۔ کتب سے ذہن کی آبیاری ہوتی ہے ، یہ معاشرے کو پروان چڑھانے میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ یہ بہترین تہذیب کی موجد اور ذہن کے ارتقاءکا موثر ذریعہ ہے ۔ کوئی بھی ترقی کتب بینی کے بغیر ناممکن ہے زندگی میں ہر لمحہ معاون و مددگار رہتی ہیں۔ کتابوں نے ہر دور میں مثبت و منفی کردار اداکیے ہیں۔ تمام اقوام و تہذیبیں کسی نہ کسی کتاب کے تابع رہی ہیں کسی بھی قوم، ملک و ملت کی تہذیب کا نکتہ نظر متعین کرنے میں اہم خدمات انجام دیتی ہیں۔ کتابیں کسی بھی قوم کا ورچہ ہوتی ہیں، یہ نسل نو کو نئے خیالات سے روشناس کرواتی ہیں، دوسرے کے فہم و ادراک کو سمجھنے میں مدد گار ہوتی ہیں۔ کتابوں سے ہی طاقت ور معاشرہ بنتا ہے، خواندہ معاشرہ کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتی ہیں، ملک و قوم کی تقدیر بدل سکتی ہیں کتابوں میں علوم و فنون کے لازوال خزانے ہیں ، بلاامتیاز رنگ و نسل ، مذہب و ملت ہر انسان کی زندگی کے نشیب و فراز میں ساتھ دیتی ہیں۔
آج کل جدید تقاضوں کے پیش نظر انٹرنیٹ پر بھی کتابیں موجود ہوتی ہیں جو مطالعے کو فروغ دینے کا انتہائی موثر ذریعہ ہیں، ان لائن میسر کتابوں کو ای لائبریری کہا جاتا ہے، جہاں پر ہر موضوع پر باآسانی کتابیں مل جاتی ہیں ۔ ان وسائل سے بہت کم نوجوان ہی فائدہ اٹھاتے ہیں کیوں کہ ان کا تو زیادہ تر وقت سماجی رابطوں کی ویب سائیٹ پر ہی گزر جاتا ہے ۔ مگر مہذب معاشرے کی نسل نو میں ای لائبیری اور ای لرننگ بہت تیزی سے فروغ پارہی ہیں ۔ کتب بینی کی عادت کو نسل نو میں پروان چڑھانے کے لیے جہاں اساتذہ کو محنت کرنے کی ضرورت ہے وہیں والدین کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ ابتداءہی سے بچوں میں مطالعہ کی عادت پر وان چڑھائیں۔ تاکہ بڑے ہوکر یہ عادت پختگی اختیار کرجائے اور ساتھ ہی کھیلوں کے میدانوں کو بھی آباد کرنا چاہیے جو کہ اس وقت کم ہوتے جارہے ہیں یا تو سیاست کی نظر ہوتے جارہے ہیں ۔ کوئی بھی قوم یا نسل تب تک ترقی نہیں کرسکتی جب تک اس کی تربیت ایک جواب کی طرح نہ ہو۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں