21

اعلی تعلیم یافتہ نسل کا اندھیرا مستقبل“

تحریر۔۔وجیہہ حسیب
قائدین محترم! ہم اپنی زندگی کابیشترحصہ تو یہ سوچنے میں گزاردیتے ہیں کہ ہم بڑے ہوکرکیا بنیں گے بچپن میں ہی ہمارے ذہنوں میں یہ چیزڈال دی جاتی ہے کہ تم یاتو ڈاکٹربنوگے یا انجینئر۔دنیا میں اتنی ترقی ہونے کے باوجود یہ دوہی شعبے ہیں جو ہرایک پاکستانی کے لئے قابل فخر سمجھے جاتے ہیں لیکن ان تک پہنچنے کاراستہ بھی ہمیں کوئی نہیں بتاتا۔جب میں چھوٹی تھی تومجھ سے اگر کوئی پوچھتا تھا کہ تم بڑے ہوکرکیا بنوں گی تو میں بھی بہت فخر سے کہتی تھی کہ” ڈاکٹر“ لیکن اس وقت میرے ذہن میں ڈاکٹرکا تصوربھی صاف نہیں تھا کہ ڈاکٹرکہتے کسے ہیں۔جب تعلیمی مراحل کا آغازہواتو بہت دل لگا کر پڑھاجتنا میں اپنی سمجھ بوجھ کے مطابق پڑھ سکتی تھی اتنی محنت کی کیونکہ تب ہمارے بڑے بزرگ بڑے کم اورغرورکےپتلے زیادہ تھے۔اگرکوئی چھوٹاان سے سوال پوچھ لے تو وہ ان کی شان کے خلاف تھاخیرجیسے تیسے میٹرک اورپھر ایف ایس سی تک کے مراحل پاس طےکر لیے تو پتہ چلا کہ میرے امتحان پاس کرنے کے نمبرجو کہ میری رٹالگانے کی صلاحیت کوظاہرکرتے تھے وہ اس قابل نہیں تھے کہ میں کسی اچھےسے انسٹیٹیوٹ یعنی میڈیکل کالج میں داخلہ لے سکوں تب میرےذہن میں ایک سوال پیداہوا کہ اگرہم کسی قابل نہیں تھے تو ہمیں امتحان میں پاس ہی کیوں کیاگیا؟ہمیں آگے پروموٹ ہی کیوں کیا گیا ہم کو پہلے ہی کیوں نہیں روک دیا گیا اگر ہم تب ہی رک جاتے تو ہمارے والدین کے وہ لاکھوں روپے ہم اپنی تعلیم پر خرچ کرتے ہیں وہ بچ جاتے ہمارے ٹیلنٹ کوکیوں نہیں پہچانا گیااورہمیں اس طرف کیوں نہیں راغب کیا گیا۔ ہمارے ٹیچرزہمیں کس لیے دیے گئے کہ وہ ہمیں پہچان ہی نہیں سکے کہ کہ ہمارا دھیان کس طرف ہے اورہم میں کیا قابلیت ہے ہم ڈاکٹر اچھے بن سکتے ہیں یاپھر پھرکوئی اورکام اچھا کر سکتے ہیں اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہم آج کچھ بھی اچھا نہیں کرپارہے ہیں۔آج جس تعلیم یافتہ طالب علم یا طالبہ کو دیکھو وہ صرف ایک معمولی کلرک بن کررہ گئے ہیں اس لئے آج کل پاکستان میں ٹیلنٹ کم اور کلرک زیادہ ہیں۔ایک وہ پاکستانی طالب علم یاطالبہ جوماسٹرزکی ڈگری ریاضی میں حاصل کرتاہے لیکن وہ پھربھی اس قابل نہیں ہوپاتا کہ وہ اپنی اس ڈگری کا کو?ی صحیح استعمال کر سکے۔ اگرکسی نے ماسٹر ان انگلش کیا ہے تووہ اس قابل بھی نہیں ہوپاتا کہ وہ اپنی ایک کتاب لکھ سکے اگر کسی نے ماسٹران کمپیوٹر سائنس کیا ہے تو وہ اس قابل نہیں ہے کہ وہ اپنا ایک سافٹ ویئر بناسکیں اوراس کاآخر میں یہی حال ہوتا ہے کہ گویا وہ کسی دفتر کا کلرک بن جاتا ہے یاپھروہ ایک معمولی پرائیویٹ ٹیچر بن جاتاہے۔پاکستان میں لاکھوں طلباءاورطالبات ایسے ہیں جن کے پاس ماسٹرڈگری کمپیوٹر سا?ینس ڈبل ایم اے,ایم فل پی ایچ ڈی کی ڈگریاں تو ہیں لیکن ا±ن کا کوئی مستقبل نہیں اور ایسی ڈگریوں کی حیثیت کاغز کے ایک ٹکڑے سے زیادہ نہیں۔اگر کسی بھی سرکاری محکمہ میں کسی چپڑاسی مالی چوکیدار یا نائب قاصد کی آسامی کیلئے اشتہار آ جاءتو سینکڑوں اعلی تعلیم یافتہ طلباء اورطالبات ایک معمولی سے نوکری کے لیے بطورا±میدواراپنے کاغزات اور ڈگریاں لیکر نوکری کے حصول کیلئے مارے مارے پھر رہے ہوتے ہیں لیکن ان کو ملازمت پھر بھی نہیں ملتی۔مجھ جیسے لاکھوں لوگ جو نہ تو ڈاکٹر بن سکے اور نہ ہی انجینئر بن سکےلیکن ماسٹرڈگریاں حاصل کرکے بے روزگاری کی وجہ سے ملازمتوں کے لیے دھکے کھاتے پھرتے ہیں۔اس ملک کا نظام ایسا گلا سڑا اور بوسیدہ ہو چکا ہے کہ کسی حکومت نے بھی کوئی ایسی پالیسی آج تک مرتب نہیں کی جس سے پڑھے لکھے اوراعلی تعلیم یافتہ لوگوں کو اپنے ٹیلنٹ کا مظاہرہ کرنے کا موقع مل سکے۔اس کالم کے توسط سے میری حکومت سے اپیل ہے اورضرورت اس امر کی ہے کہ کو?ی ایسی پالیسی ضرور مرتب کی کی جائے تاکہ اعلی تعلیم یافتہ اور پڑھے لکھے لوگوں کو ایک کلرک چپڑاسی نا?ب قاصد کے لی?ے نہ دھکے کھانا پڑیں ذراسوچیے گا ضرور !۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں