29

زیتون کی کاشت و دیکھ بھال

(زرعی فیچر سروس )
پاکستان میں تیلدار اجناس کی پیداوار ملکی ضروریات کے مقابلہ میں بہت کم ہے۔ہر سال ہمیں اپنی ضروریات کا350ارب روپے کا خوردنی تیل درآمد کرنا پڑتا ہے ۔پنجاب میں پوٹھوہار کا خطہ اپنی مخصوص آب وہوا کی وجہ سے زیتون کی کاشت کےلئے نہایت موزوں ہے۔ کالا چٹا پہاڑ، چوآسیدن شاہ، کلر کہار، وادی سون اور چینجی فارسٹ میں جنگلی زیتون کثرت سے موجود ہے۔ تجربات کے بعد زیتون کی چند اچھی اقسام شمالی پنجاب کےلئے موزوں پائی گئی ہیں جو اس آب و ہوا میں اچھی پیداوار دیتی ہیں۔ زیتون کی کاشت گرم معتدل درجہ حرارت والے علاقوں میں کی جا سکتی ہے۔ زیتون کی سفارش کردہ اقسام میں باری زیتون1 ،باری زیتون 2 ،فرانتوئیو،آربیقوینہ،کورونیکی،لیسینو،پینڈولینو،کالا ماتا، چوتوئی، کوراٹینا، گیملک، اسکولانا اور مورائلو شامل ہیں۔ اس کی تجارتی کاشت 30 سے 45 ڈگری شمالی عرض بلد اور جنوبی عرض بلد کے ان علاقوں میں ہو سکتی ہے جہاں شدید سردی نہ پڑتی ہو۔ زیتون کی زیادہ تر اقسام میں پھل اور پھول بنانے والی کلیوں کے بننے کے مراحل کے لئے بہار سے قبل سردیوں میں تقریباً دو ماہ کے عرصہ کے لئے روزانہ درجہ حرارت کا اتار چڑھاﺅ زیادہ تر 1.5اور 15.5 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان رہنا چاہےے۔ ٹھنڈک کی یہ ضرورت پوری نہ ہونے کی صورت میں پھول اور پھل نہیں بنتے۔ البتہ پھول بننے کے بعد کورا اور سرد ہوا سے پھولوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ لہٰذا وہ خطے جہاں اوائل بہار کے بعد کورا پڑتا ہو اس کی کاشت کےلئے موزوں نہیں ہےں۔زیتون کو اچھے آبی نکاس والی اکثر زمینوں میں کامیابی سے کاشت کیا جاسکتا ہے۔ ریتلی زمین سے لے کر میرا زمین تک جس کی پی ایچ (PH ) 5.5سے 8.5 کے درمیان ہو، اس کی کاشت کی جا سکتی ہے۔ زیتون کی کامیاب کاشت کےلئے زمین کا زرخیز ہونا ضروری ہے۔ اگر پانی کا نکاس اچھا نہ ہو تو چند ہفتے جڑوں کے ارد گرد پانی کھڑا رہ جانے سے پودے مر سکتے ہیں۔ فروری اور اگست کے مہینے زیتون کے پودے لگانے کےلئے موزوں ہیں۔زیتون کی افزائش نسل کے کئی طریقوں میں افزائش بذریعہ قلم کو زیادہ بہتر پایا گیا ہے۔ قلموں کی جڑیں عموماً مشکل سے بنتی ہیں۔ جڑیں حاصل کرنے کےلئے3000ppmانڈول بیو ٹائرک ایسڈ (IBA) کے استعمال سے اچھے نتائج حاصل ہوئے ہیں۔ قلمیں لگانے سے پہلے نچلے 1/2 انچ پر یہ ہارمون لگا دیا جاتا ہے۔ علاوہ ازیں زمین اور ہوا میں اچھی خاصی نمی کا ہونا بھی جڑ بننے کےلئے ضروری ہے۔ درجہ حرارت 25 ڈگری سینٹی گریڈ (3+)اور فضا میں نمی 90فیصد مناسب عوامل ہیں۔ قلمیں دونوں موسموں یعنی مون سون (برسات) اور فروری میں لگائی جاسکتی ہیں۔ پہلے ایک سال کے دوران موسم کی شدت اور پانی کی کمی سے پودوں کو بچانا نہایت ضروری ہے۔زیتون کی پانی کی ضرورت اکثر دیگر پھل دار پودوں کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ البتہ مناسب مقدار میں پانی کی فراہمی اس کی بڑھوتری اور اچھی پیداوار کے لئے اہم ہے۔ اس کے پتوں کی ساخت اس طرح کی ہے کہ خشک موسم کی طوالت اور شدت کو ایک حد تک برداشت کر سکتا ہے۔ لیکن پھول اور پھل بننے کے عمل کے دوران طویل اور مسلسل خشکی نقصان کا باعث بنتی ہے۔ ضرورت سے زیادہ آبپاشی سے بھی گریز کرنا چاہیے۔ اضافی نائٹروجن دینے سے پودے کی نشوونما پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ایک بالغ پودے کو سائز کی مناسبت سے سالانہ 1/4 تا 1/2 کلو گرام نائٹروجن کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس خوراک کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ پہلی قسط دسمبر کے دوران خوراک پھل اور پھول والی کونپلوں کے بننے کے مراحل اور خوراک کی دوسری قسط بہار کے دوران عمومی نشوونما میں مدد دیتی ہے۔ بارانی زرعی تحقیقاتی ادارہ چکوال میں کیے گئے تجربات کے بعد جن اقسام کی سفارش کی گئی ہے ان میں کوراٹینو، آٹوبراٹیکا، باری زیتون1- اور باری زیتون2-شامل ہیں۔ان کی اوسط پیداوار 25کلو گرام فی پودا ہے جبکہ کوراٹینو میں 45 کلوگرام فی پودا تک بھی پیداوار حاصل ہوئی ہے۔ زیتون کی بہتر بار آوری اور پیداوار کےلئے دو یا دو سے زائد اقسام لگانی چاہئیں۔ پھل عام طور پر ستمبر میں برداشت کے قابل ہوجاتا ہے۔ زیتون کی کاشت کے ذریعے ہر سال خوردنی تیل کی درآمد پر خرچ ہونے والا قیمتی زرمبادلہ بچا کر ملکی معیشت پر پڑنے والے بوجھ کو کم کیا جاسکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں