15

امیر ممالک عالمی حدت سے نمٹنے کیلئے فنڈز فراہم کریں (، بھوکے لوگوں کو ماحولیات کی پرواہ نہیں، وزیراعظم عالمی یوم ماحولیات کی میزبانی پاکستان کیلئے بڑا اعزاز، دنیا نے تسلیم کیا پاکستان کو آئندہ نسلوں کی فکر ہے، خیبرپختونخوا میں ایک ارب درخت لگائے،عالمی یوم ماحولیات کی مرکزی تقریب سے خطاب

صدر ورلڈ اکنامک فورم،اقوام متحدہ سیکرٹری جنرل، برطانوی وزیر اعظم ، چینی صدر سمیت عالمی رہنماؤں کے خصوصی پیغامات نشر، ثقافتی شو بھی پیش کیا گیا، 10 بلین ٹری منصوبے سے متعلق ڈاکیومنٹری دکھائی گئی
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی، ایجنسیاں )وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ امیر ممالک عالمی حدت سے نمٹنے کیلئے فنڈز فراہم کریں کیو نکہ بھوکے لوگوں کو ماحولیات کی پرواہ نہیں، عالمی یوم ماحولیات کی میزبانی پاکستان کیلئے بڑا اعزاز ہے، دنیا نے تسلیم کیا پاکستان کو آئندہ نسلوں کی فکر ہے، خیبرپختونخوا میں ایک ارب درخت لگائے، قدرتی ماحول کی بحالی کیلئے مزیداقدامات کی ضرورت ہے، افسوس پاکستان ان ممالک کی فہرست میں شامل ہے جہاں ماحولیاتی تبدیلی پر کبھی توجہ نہیں دی گئی، جبکہ کورونا وائرس کی طرح ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات کسی سرحدی حدبندی سے آزاد ہے۔ ہفتہ کے روز اسلام آباد میں پاکستان کی میزبانی میں عالمی یوم ماحولیات کی مرکزی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ عالمی یوم ماحولیات کی میزبانی اعزاز ہے، قدرتی ماحول کی بحالی کیلئے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے، پاکستان واحد ملک جو آئندہ نسلوں کی فکر کرتا ہے، پاکستان سمیت بہت سے ممالک نے ماحولیات پر توجہ نہیں دی، خیبرپختونخوا میں 5 سال کے اندر ایک ارب درخت لگائے، بدقسمتی سے دنیا میں ماحولیات سے بچاؤ پر توجہ نہیں دی گئی، ہمارے دیکھتے دیکھتے ہی جنگل تباہ کر دیئے گئے، قبضے ہوگئے۔انہو ں نے کہا کہ ہماری حکومت آنے سے پہلے تک پاکستان کی تاریخ میں صرف 64 کروڑ درخت لگائے گئے۔ جب ہماری خیبرپختونخوا میں حکومت بنی اور ایک ارب درخت لگانے کا فیصلہ کیا تو اس سے پہلے کبھی کسی حکومت نے ایسا منصوبہ تشکیل دینے پر سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا۔ ہم نے خیبرپختونخوا میں پانچ برس کے اندر ایک ارب درخت لگائے ہمارے نظروں کے سامنے سے ملک کے جنگلات کو ختم کیا گیا، جنگلات کی زمینوں پر قبضے کرلیے گئے اور تب کسی حکومت کو کوئی فکر لاحق نہیں تھی،چھانگا مانگا،میانوالی اوردیگر شہروں کے بڑے بڑے جنگلات ہمارے سامنے تباہ ہوئے، صوبائی دارلحکومت لاہو ر کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا لاہور میں آلودگی کی شرح میں خطرناک حد تک اضافہ ہوچکا ہے، عالمی حدت صرف ایک یا دو ممالک کو نہیں بلکہ پورے خطے کو لپیٹ میں لیتی ہے، پاکستان سمیت کئی ممالک نے ماحولیات پر توجہ نہیں دی جبکہ عالمی حدت کی وجہ سے پانی کا بڑا مسئلہ سامنے آرہا ہے، ہمارے صوبو ں سے ابھی سے پانی کے مسائل پر آوازیں اٹھ رہی ہیں۔ انہوں نے لاہور کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ صوبائی دارالحکومت میں آلودگی کا تناسب غیرمعمولی طور پر بڑھ چکا ہے کیونکہ مختلف منصوبوں کی تکمیل کے لیے سیکڑوں درختوں کو کاٹ دیا گیا ہمیں ایک موقع ملا کہ ہم آئندہ 10 برس کے دوران ایکو سسٹم کو بہتر کرلیں۔وزیراعظم نے کہا کہ حرص اور ہوس نے دنیا کی توجہ انسانیت سے ہٹادی ہے۔ ایک طرف ہوس ہے اور دوسری طرف انسانیت اور جب ان کے مابین توازن برقرار نہ رہے تو کنزیومرازم کی وجہ سے انسانیت کو نقصان پہنچاتا ہے بھوکے لوگوں کو ماحولیات کی پرواہ نہیں اس لئے امیر ممالک عالمی حدت سے نمٹنے کے لیے فنڈز فراہم کریں کیونکہ ہمارا آدھا پیسہ قرض کی ادائیگی میں خرچ ہوتا ہے، کورونا وبا کے دوران حکومت نے لوگوں کوریلیف دیا، امریکا نے اپنے لوگوں کوریلیف دینے کے لیے ہم سے کم رقم خرچ کی۔وزیر اعظم نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کا حوالہ دے کر کہا کہ انہوں نے ماحولیاتی تبدیلی کے باعث آبی وسائل کی کمی کی طرف اشارہ کیا اور آج ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے ملک میں صوبے ایک دوسرے پر پانی چوری کا الزام لگاتے ہیں۔ ہمارا 80 فیصد پانی گلیشئر سے آتا ہے اور ماحولیاتی تبدیلی کے باعث ہمارے گلیشئر متاثر ہور ہے ہیں۔ کورونا وبا سے ایک فائدہ یہ ہوا کہ دنیا کو معلوم ہوگیا کہ وہ ایک دوسرے سے الگ نہیں، صرف سرحد بن کردینے سے سارے مماملات ٹھیک نہیں رہتے۔ کورونا وائرس کی طرح ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات کسی سرحدی حدبندی سے آزاد ہے۔انہوں نے کہا کہ گلوبل وارمنگ کی وجہ سے بالخصوص وہ ممالک جن کے آبی وسائل گلیشئر سے منسلک ہیں وہ زیادہ متاثر ہوں گے اور پاکستان ان میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ 10 ارب میں سے ایک ارب درخت لگانے کا منصوبہ کامیابی سے ہمکنار ہوچکا ہے جبکہ 9 ارب درخت لگانے کے لیے پوری قوم کو یہ احساس کرنا ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ نیشنل پارکس بنارہے ہیں ان کے لیے خصوصی گارڈز لگائے جائیں گے۔ قبل ازیں وزیر مملکت برائے ماحولیاتی تبدیلی زرتاج گل نے کہا ہے کہ پاکستان پر ماحولیاتی تبدیلی سے رونما ہونے والے اثرات زیادہ ہیں جنہیں ماحول دوست ٹیکنالوجی کے فروغ سے ماحولیاتی آلودگی کو کم کیا جا سکتا ہے پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج ماحولیات کا دن منایا جارہا ہے۔زرتاج گل نے کہا کہ یہ اعزاز کی بات ہے کہ پاکستان اس سال عالمی یوم ماحولیات کی میزبانی کررہا ہے ہم ایک ارب درخت لگا چکے ہیں اور 9 ارب درخت لگانے کی تیاری کر رہے ہیں، ہم کلین گرین پاکستان چاہتے ہیں، وزیر اعظم کا ویژن کے کہ آپ کی گلی محلے بھی آپ کے اپنے ہیں، اپنے ملک کو صاف کریں، ہمارا تیسرا ٹارگٹ ٹرانسپورٹ کے ذریعے ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانا ہے، 2030 تک ہم 23 فیصد الیکٹرک گاڑیاں سڑکوں پر لائیں گے۔ اس موقع پر وفاقی وزیر ملک امین اسلم نے کہا ہے کہ عالمی یوم ماحولیات کی میزبانی اعزاز ہے دنیا کو بچانے کیلئے اقدامات کرنا ہو نگے ہم نے ماحول سے جنگ نہیں کرنی اسے اپنا شریک بنانا ہے 85ہزار افراد کو روزگار دیا گیا ہے مزید نو کریاں دینگے ارب درخت لگا دیے گئے ہیں 9ارب مزید لگائیں گے نیشنل پارکس بنا ئے جارہے ہیں نو جو انوں کو ٹریننگ نو کری دینگے ری چارج پاکستان پر وجیکٹ شروع کر رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے ماحولیات کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ ماحولیاتی آلودگی پاکستان سمیت دنیا بھر کیلئے ایک چیلنج ہے، ہم نے اپنی نسلوں کو آلودگی سے پاک صاف ستھرا ماحول فراہم کرنا ہے، آلودگی کے باعث انسانی صحت اور قدرتی ماحول بری طرح متاثر ہو رہا ہے، اقوام عالم کو مل کر قدرتی ماحول پر اثرانداز ہونے والے عوامل پر قابو پانا ہوگا۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کا کہنا تھا کہ پشاور میں آج قدرتی ماحول کی اہمیت اجاگر کرنے کا دن ہے، عالمی یوم ماحولیات کی میزبانی پاکستان کیلئے اعزاز ہے، بلین ٹری منصوبے کو عالمی سطح پر بے حد پذیرائی ملی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں