26

سیاسی یا معاشی سوالات کا جائزہ نہیں لے سکتے، چیف جسٹس

اسلام آباد(نیوزمارٹ ڈیسک)چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطا بندیال نے کہا ہے کہ ہم ریکوڈک ریفرنس میں سیاسی یا معاشی نوعیت کے سوالات کا جائزہ نہیں لے سکتے ۔سپریم کورٹ میں ریکوڈک معاہدے سے متعلق صدارتی ریفرنس کی سماعت کے موقع پر چیف جسٹس آف پاکستان نے ریمارکس دیئے ہیں کہ صدارتی ریفرنس میں عدالت کا دائرہ اختیار پوچھے گئے سوالات تک محدود ہوتا ہے،ریفرنس میں صرف آئینی سوالات کا ہی جائزہ لیا جا سکتا ہے،ریفرنس میں سیاسی یا معاشی نوعیت کے سوالات کا جائزہ نہیں لے سکتے،انصاف تک رسائی آئینی تقاضا ہے،جس کا حق ہر شخص کو آئین نے دیا ہے، رولز میں نرمی ہو بھی تو شفافیت لازمی ہے،سوال یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی معاہدے سے کوئی تیسرا فریق متاثر ہو تو کیا اسکی حق تلفی نہیں ہوگی؟حکومت اربوں کی سرمایہ کاری پر 1970 کے قوانین کیوں لاگو کرنا چاہتی ہے؟اس حوالے سے بین القوامی سطح کے نئے قوائد و ضوابط کیوں نہیں بنائے جا رہے؟نئے قانون کے مطابق حکومت رولز میں ترمیم کر سکتی ہے،ریکوڈک سے نکالی گئی معدنیات میں پاکستان کا حصہ پچاس فیصد ہوگا،قانون سے ہٹ کر کوئی کام نہیں کیا جا رہا،ریکوڈک معاہدہ ماضی کے عدالتی فیصلے کو مدنظر رکھ کر تیار کیا گیا ہے،ماہرین کے مطابق ریکوڈک پر موجودہ حالات میں اس سے اچھا معاہدہ ممکن نہیں تھا،معاہدہ نہ ہوا تو پاکستان کو 9 ارب ڈالر سے زائد ادا کرنا ہونگے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں