83

پسماندہ علاقوں میں تعمیر و ترقی تر جیح ہے،محکمے معاشی قوانین کے مطابق ترقیاتی بجٹ کے استعمال کو یقینی بنائیں،وزیر اعلیٰ خالد خورشید

گلگت (نمائندہ پناہ نیوز) وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید نے اعلیٰ سطحی اجلاس کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تمام محکمے معاشی قوانین کے مطابق 100فیصد ترقیاتی بجٹ کے استعمال کو یقینی بنائیں۔ محکمہ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ انتہائی اہم ادارہ ہے ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل اور مکمل ترقیاتی بجٹ کے استعمال کی نگرانی کیلئے جدید طرز پر مانیٹرنگ سسٹم متعارف کرائیں تاکہ منصوبے بروقت مکمل ہوسکیں اور محکموں کی استعداد کار میں بھی اضافہ ہوسکے۔ عرصہ دراز سے زیر التواء (Sick) منصوبوں کو مکمل کرنے کیلئے اور متعلقہ ذمہ داران کیخلاف کارروائی کیلئے سفارشات مرتب کئے جائیں۔ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید نے کہا کہ گلگت بلتستان کی تعمیر و ترقی کی رفتار کو تیز کرنے اور ترقیاتی منصوبوں کی معیار کو یقینی بنانے کیلئے آئندہ سے سالانہ ترقیاتی پروگرام (ADP) پر کام کا آغاز جنوری سے کیا جائے 30مارچ تک منصوبوں کے پی سی I مکمل کئے جائیں اور جولائی میں ان منصوبوں کے ٹینڈرز کے عمل کو مکمل کیا جائے۔ ناقص منصوبہ بندی اور کنسلٹنٹ کی نااہلی کی وجہ سے انتہائی اہم منصوبے التواء کا شکار ہورہے ہیں جس سے سرکاری وسائل کا ضیاع ہوتا ہے اور ان منصوبوں سے عوام بھی مستفید نہیں ہوتے، جن کنسلٹنٹ کے نااہلی کی وجہ سے اہم ترقیاتی منصوبے التواء کا شکار ہوئے ہیں ایسے کنسلٹنٹ فرم کو بلیک لسٹ کیا جائے۔ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید نے کہا کہ ہماری حکومت کی ترجیح پسماندہ علاقوں کی تعمیر و ترقی پر خصوصی توجہ دینا ہے تاکہ جو علاقے ماضی میں نظر انداز ہوئے ہیں ان کو دیگر اضلاع کے برابر لایا جاسکے اور عوام کی معیار زندگی کو بہتر بنایا جاسکے۔ پسماندہ علاقوں کی ترقی کیلئے خصوصی منصوبے شروع کئے جائیں گے۔ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید نے صوبائی سیکریٹری پلاننگ کو ہدایت کی کہ محکمے میں مانیٹرنگ اینڈ ایولیویشن یونٹ کو مکمل طور پر فعال کیا جائے۔ پہلی مرتبہ ترقیاتی منصوبوں کے معیار اور رفتار کو یقینی بنانے کیلئے لائیو مانیٹرنگ نظام متعارف کرایا جارہاہے جس کے تحت تمام ترقیاتی منصوبوں کی بہتر انداز میں مانیٹرنگ کی جاسکے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں