72

خالدخورشید صوبائی مفاد میں فیصلے کریں‘ اپوزیشن ساتھ دیگی‘ پیپلزپارٹی گلگت بلتستان کے لئے ہر ممکن حد تک جائے گی سعدیہ دانش

گلگت (نمائندہ خصوصی) پیپلز پارٹی کی رْکن گلگت بلتستان اسمبلی و صوبائی سکریٹری اطلاعات سعدیہ دانش نے وفاقی حکومت کے بجٹ پر رد عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ تبدیلی کے دعوے دار اس بجٹ میں بھی عوام کو ریلیف دینے میں ناکام رہے۔ نیازی سرکار نے تین سو فیصد مہنگائی میں اضافہ کر کے 10 فیصد ملازمین کی تنخواہ اور پنشنز میں اضافہ کیا ہے جو آٹے میں نمک کے برابر ہے اس وقت لوگ مہنگائی کی وجہ سے خودکشیاں کر رہے ہیں کمر توڑ مہنگائی نے عوام کا جینا محال کیا ہے اور ان کو ریلیف دینے کے لئے خاطر خواہ اضافہ ہونا چاہئے۔ لیکن وفاقی حکومت نے پہلے عوام کو مہنگائی کی چکی میں پیسا اب بجٹ کی شکل میں مہنگائی کا بم گِرایا دیا ہے۔ ان کے عوام دشمن پالیسیوں کی وجہ سے ملازمین آئے روز احتجاج کے لئے روڈ پر نکلتے ہیں۔ اور موجودہ بجٹ بھی الفاظ کا ہیر پھیر اور حسبِ سابق روایتی بجٹ ہے جس سے عوام کو کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ بجٹ عوامی نوعیت کا نہیں بلکہ اس سے عمران خان کے ارد گرد موجود سرمایہ دار طبقہ مستفید ہوگا۔ وفاقی حکومت کسی بھی شعبے میں عوام کو ریلیف نہیں دے سکی ہے۔ بلند بانگ دعووں کے ساتھ اقتدار میں آنے والی حکومت مسلسل ناکام ہوتی جارہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت حقیقی تعمیر و ترقی کے لئے عملی اقدامات اٹھائے گی تو اپوزیشن مثبت کردار ادا کرے گی۔ وزیر اعلیٰ نے جو اعلانات کئے تھے امید ہے ان اعلانات پر عملدر آمد ہوگا جبکہ وفاق میں ان کی جماعت اور حکومت عوامی نوعیت کے فیصلوں پر تاریخی یوٹرن لیکر آئے دن عوام کش فیصلے کر رہے ہیں۔ گلگت بلتستان کے حالیہ انتخابات میں بھی دودھ اور شہد کی نہریں بہانے کے وعدے اور ہوائی قلعے تعمیر کئے جارہے تھے مگر عملی ان وعدوں اور دعووں پر عمل ہونا مشکل نظر آرہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت گلگت بلتستان کے عوامی مفادات کے لئے فیصلے اور عملی اقدامات کرے اپوزیشن انکا بھرپور ساتھ دے گی اور اگر اسکے برعکس کیا گیا تو پھر اپوزیشن بھرپور مخالفت کرے گی۔ پیپلزپارٹی گلگت بلتستان کے عوامی مفادات کے تحفظ کے لئے ہر ممکن حد تک جائے گی۔ وفاقی حکومت کے منفی اثرات گلگت بلتستان میں بھی مرتب ہونگے جس سے عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگا۔ صوبائی حکومت وقت گزاری کے بجائے عملی اقدامات پر توجہ دے۔ تاحال صوبائی حکومت کی جانب سے کوئی ایسے فیصلے سامنے نہیں آئے جن سے عوام کو ریلیف ملنے کا کوئی امکان ہو۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں