19

امن کے سفیروں پر پولیس غنڈہ گردی

تحریر۔۔روہیل اکبر
صادق آباد پنجاب کا آخری شہر جس کے بعد صوبہ سندھ شروع ہو جاتا ہے وہاں کی پولیس کی غنڈہ گردی اور بدمعاشی ذرا ملاحظہ فرمائیں کہ کیسے انہوں نے امن کے سفیروں کو تشدد کا نشانہ بنایاویسے تو ہمارے تمام کے تمام محکمے ہی خانہ خرابی کا شکار ہیں سوئی گیس واپڈا، پی آئی اے، ریلوے، ایف بی آرسمیت کسی بھی محکمے کا ڈھکن اٹھائیں گندگی ہی نظر آئے گی اور ناکام ترین اداروں کی فہرست میں کامیابی کے ساتھ سرفہرست ہماری پولیس ہے جس نے اپنے کاموں اور کارکردگی سے اس بات کو یقینی بنایا کہ یہ غنڈہ پاکستان میں غنڈہ گردی اور بدمعاشی کا قومی نشان ہے اگرچہ چاروں صوبوں میں ان کی کارکردگی اور سرخروئی میں کوئی فرق نہیں ہے لیکن خاص طور پر پنجاب پولیس نفرت کا ایسا نشان بن چکی ہے کہ کالی وردی سے نفرت بڑھنے پر اسے اپنا رنگ تبدیل کرنا پڑا لیکن اس وردی کے پیچھے چھپے ہوئے بھیڑیے اپنا آپ تبدیل نہ کرسکے ماضی میں پولیس کی کارکردگی بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی مقابلوں میں انسانوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹ دیا جاتا تھا نہیںیقین تو سابق پولیس افسر عابد باکسر کی باتیں سن لیں کان اور آنکھوں کے ساتھ ساتھ انسانی جسم کے مسام بھی کھول دیگی یہی وجہ ہے کہ انکے رویے نے ایک عام آدمی کے لیے تھانے کو کسی حد تک ’ممنوع‘ بنا دیا ہے لاہور کے ساتھ گوجروانلہ ڈویژن میں سابق وزیر اعظم عمران خان پر قاتلانہ حملہ ہوا اور وہ اپنی ایف آئی آر نہ کٹوا سکا ہمارے ہاںتفتیش کرنا تو دور کی بات ہے بغیر اثر و رسوخ کے سادہ ایف آئی آر درج کرانا بھی ناممکن ہے یہ وہ چیز ہے جسے پنجاب پولیس نے کرپشن کے ساتھ ساتھ سفاک بھی بنا دیا ہماری یادداشت اگر ساتھ دے تو ہم اس وحشیانہ کردار کو کیسے بھول سکتے ہیںجو انہوں نے سیالکوٹ میں ڈکیتی کے الزام میں دو بھائیوں کو دن کی روشنی میں قتل کرنے میں ایک ہجوم کو شامل کر کے ادا کیا تھا پولیس کے ساتھ سب سے بڑا مسئلہ خود احتسابی کا بھی ہے کسی نہ کسی طرح محکمہ ہمیشہ مجرم کو بچاتا ہے اور اس طریقے سے دوسروں کو اس راستے پر چلنے کی ترغیب دیتا ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ہمارے سیاسی نظام نے اس محکمے کو ہر شہری کے لیے زندہ جہنم بنا دیا ہے کسی نہ کسی طرح اس محکمے میں تعینات ہونے والے نے اسے طاقت کا ذریعہ بنا لیا ہے جس کا مقصد صرف استحصال ہے اور یہ طاقت کے نشے میں انسانیت بھول جاتے ہیں بڑے سے بڑا جرمکرنے کے بعد بھی یہ پولیس ملازم نہ صرف دندناتے پھرتے ہیںبلکہ بین القوامی دنیا میں پاکستان کی بدنامی کا بھی باعث بن رہے ہیں نہیں یقین تو ہمارے امن کے سفیروں کی دہائی سن لیں پاکستان کے نامور گلوکار جونیئر علن فقیر مسلسل کئی روز سے رحیم یار خان کے پولیس افسروں کو فریادیں کررہا ہے کہ انکے سرکاری غنڈے نہ صرف اسے تشدد کا نشانہ بناتے ہیں بلکہ اسکے بیٹے کو بھی مار مار کر زخمی کردیتے ہیں پیسے نہ دو تو تھانے لے جاتے ہیں اتنے بڑے فنکاروں کے ساتھ اتنی بڑی زیادتی کے بعد بلاشبہ کہا جاسکتا ہے کہ ہمارے ہاں قانون نہ صرف اندھا ہے بلکہ بہرہ بھی ہے اور مزے کی بات یہ ہے کہ اس اندھے ،گونگے اور بہرے قانون کے احساسات بھی نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ عالمی رینکنگ کے مطابق ہمارا پاکستان میں انصاف کا نظام 129 نمبر پر آتا ہے جبکہ بھارت 77 نمبر پر موجود ہے آخر کیا وجہ ہے کہ قانون اور انصاف کی حکمرانی میں بھارت پاکستان سے بہتر ہے تو اسکی ایک بڑی وجہ تو یہ سامنے آتی ہے کہ وہ لوگ اپنے فنکاروں کو عزت دیتے ہیںانہوں نے ریل اور ہوائی سفر میںفنکاروں کوسہولتیں دے رکھی ہیں اور ہم اپنے فنکاروں کو عبرت کا نشان بنانے میں کسر نہیں چھوڑتے اپنے علاقے میں خیرو عافیت اور امن کا نشان سمجھے جانے والے پاکستان کے نامور گلوکار جونیئر علن فقیر کے ڈیرے پر کچھ روز قبل دو اہلکاروں نے دھاوا بولا اور بھنگ پینے کے الزامات لگاتے دھمکیاں دیں اور مہمانوں کو اٹھا لیا اہلکاروں کو منت سماجت کی 1000رشوت کے دینے پر مہمانوں کو رہائی ملی پھر کچھ روز گزرے وہی اہلکار دوبارہ ڈیرے پر پہنچے گلوکاریونیئر علن فقیر اور اس کے بیٹے ساجد علی کو حراساں کیا موٹر سائیکل پر مہمان اٹھا لیے پھر پیسے لیکرچھوڑ دیا پھر تیسری بار دوبارہ یہی حرکت احمد پور لمہ پولیس کے اہلکاروں نے ان فنکاروں کے مہمانوں کے ساتھ بدتمیزی کی جونیر علن فقیر کوپکڑ کرلے جانے لگے تو ساجد علن فقیر نے پولیس اہلکاروں کو روکا کہ میرا والد انٹرنیشنل سنگر ہے پاکستان کے لیے امن کا سفیر ہے جس پر اہلکاروں نے ساجد علن پر حملہ کردیا ساجد نے تشدد کی ویڈیو بنا لی اور پولیس اہلکاروں نے کہا تمہیں دیکھ لیں گے پھر چند دن بعد ہی اے ایس آئی قیصر اہلکاروں کے ہمراہ گلوکارجونیئر علن فقیر کے ڈیرے پر دھاوا بول دیا وہاں پر موجود 12مہمانوں کو اٹھانے کے ساتھ گلوکار علن فقیر کے بیٹے گلوکار ساجد علن کوبھی دھکے دے کر نہ صرف تذلیل کی بلکہ جوتوں، مکوں اور تھپیڑوں کی بارش کرتے ہوئے اپنے ساتھ لے گئے اور رہی سہی کسر تھانہ احمد پور لمہ میں اپنے روایتی تشدد سے پوری کردی اسی رات گلوکارجونیئر علن فقیر کا ایک میوزیکل پروگرام تھا جس میں ساجد علن نے بھی پر فارم کرناتھا پاکستان کے نامور فنکار جونیئر علن فقیر نے رحیم یار خان پولیس کے سربراہ کو دہائی دی کہ میرے بیٹے پر تشدد ایسے ہوا جیسے کشمیرکے مسلمان پر انڈیا کرتا ہے ہم امن کے سفیر ہیں دنیا بھر میں امن کا پیغام دیتے ہیں اور یہاں پاکستان میں احمد پور لمہ پولیس ہم پر ظلم ڈھا رہی میں ایک گلوکار ہوں میری عزت محفوظ نہیں تو دوسرے لوگوں کے ساتھ کیا سلوک ہوتا ہوگا رحیم یار خان پولیس ظالم بن چکی ہے پیسے لینے اور ظلم کرنے کے سوا پولیس کچھ نہیں کررہی لوگ غیر محفوظ ہوچکے ہیں ایک طرف ڈاکولوٹنے میں مصروف ہیں تو دوسری طرف پولیس غنڈی بن چکی ہے ہم صرف چیف جسٹس آف پاکستان اور آرمی چیف سے انصاف مانگتے ہیں باقی سب تو ان کے سرپرست بن چکے ہیں خدارا پاکستانیوں کو پولیس گردی سے بچالیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں