136

جی بی کیلئے ایکو سسٹم کا تحفظ اور بحالی لازمی ہے، سیاحت کو بڑے پیمانے پرفروغ دیا جاسکتا ہے، سیاحت کو صنعت کا درجہ دےکرروزگار کےمواقع پیدا کئے جاسکتے ہیں ،خالد خورشید م

گلگت (نمائندہ خصوصی) وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید نے کنزرویشن کمیٹیوں کے مابین ٹرافی ہنٹنگ چیکس کی تقسیم کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان میں ٹرافی ہنٹنگ پروگرام انتہائی کامیاب رہا ہے جس میں مقامی کنزرویشن کمیٹیوں اور ادارے کا کردار قابل تحسین ہے۔ وائلڈ لائف کے تحفظ کیلئے مقامی کمیونٹی نے کنزرویشن کمیٹیاں تشکیل دے کر ذمہ داری کا ثبوت دیا ہے۔ گلگت بلتستان کیلئے ایکو سسٹم کے تحفظ اور بحالی لازمی ہے۔ ایکو سسٹم کو تحفظ دے کر ہی سیاحت کو بڑے پیمانے پر فروغ دیا جاسکتا ہے۔ گلگت بلتستان میں سیاحت کو صنعت کا درجہ دے کر روزگار کے بڑے مواقع پیدا کئے جاسکتے ہیں۔ ایکو سسٹم کی وجہ سے ہی مقامی اور بین الاقوامی سیاح گلگت بلتستا ن آتے ہیں۔ ماحولیات کے تحفظ کیلئے مقامی کمیونٹی کا کردار انتہائی اہم ہے۔ ماحولیاتی تبدیلیوں کے مضر اثرات سے بچنے جنگلات کو فروغ دینا لازمی ہے۔گلگت بلتستان کیلئے جنگلات کی اہمیت دیگر صوبوں سے زیاد ہ ہے۔ گلگت بلتستان کا جغرافیہ دیگر علاقوں سے منفرد ہے۔ یہاں پر لینڈ سلائیڈنگ اور برفانی تودوں کی وجہ سے قیمتی انسانی جانوں اور مالی نقصانات کا خدشہ رہتا ہے ان قدرتی آفات اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے مضر اثرات سے بچاؤ کیلئے جنگلات انتہائی اہم ہیں۔ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید نے کہا کہ ماضی میں جنگلات کے فروغ اور ایکو سسٹم کے تحفظ پر توجہ نہیں دی گئی۔ صوبائی وزراء کو ہدایت کی گئی ہے کہ سالانہ ترقیاتی پروگرام میں زراعت، لائیو سٹاک اور جنگلات کیلئے 15فیصد کے منصوبوں شامل کریں۔ مقامی آبادی کا زیادہ تر انحصار لائیو سٹاک اور زراعت پر ہے جس کو مدنظر رکھتے ہوئے ان شعبوں پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید نے کہا کہ آئندہ مالی سال سے بجٹ اور سالانہ ترقیاتی پروگرام کو جامع منصوبہ بندی کے تحت بنایا جائے گا۔ متعلقہ محکموں کو ہدایت کی ہے کہ جولائی سے آئندہ بجٹ اور سالانہ ترقیاتی پروگرام کی تیاری پر کام شروع کریں۔ صحت اور تعلیم کے شعبے پر حکومت خصوصی توجہ دے رہی ہے ان اہم شعبوں میں سروس ڈیلوری کو بہتر بنایا جائے گا۔ پہلے مرحلے میں اساتذہ، ڈاکٹرز، جنرل نرسز، ٹیکنیکل سٹاف اور پولیس کے آسامیوں کی تخلیق کیلئے وفاقی حکومت کو سفارش کی گئی ہے۔ معاشرے کے کمزور اور محروم طبقے کی فلاح و بہبود اور معیار زندگی کو بہتر بنانا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ ماحولیاتی تبدیلیوں کے نقصانات کی وجہ سے پاکستان خصوصاً گلگت بلتستان کو بہت سے چیلنجز او خطرات کا سامنا ہے۔ ماحولیاتی تبدیلیوں کے مضر اثرات سے بچنے اور ایکو سسٹم کے تحفظ کیلئے معاشرے کے ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ سکولوں کی سطح پر بنیادی نصاب تعلیم میں ماحولیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے خصوصی باب نصاب میں شامل کیا جارہاہے تاکہ بچوں میں ماحولیاتی تبدیلیوں اور ایکوسسٹم کے تحفظ کے حوالے سے آگاہی پیدا کی جاسکے۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید نے 18کنزرویشن کمیٹیوں میں 5کروڑ 2لاکھ22ہزار 868 روپے کے چیکس تقسیم کئے،

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں