32

گورنرسندھ کا صحافیوں کے تحفظ کے بل کی توثیق سے انکار،صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے تحفظ سے متعلق بل پر گورنر سندھ نے اعتراض لگا کر بل سندھ اسمبلی کو واپس بھیج دیا جرنلسٹ پروٹیکشن کمیشن کی فنڈنگ اور اخراجات پر نگرانی کے لئے کمیٹی کیوں نہیں بنائی گئی، اس بل میں تھرڈ پارٹی کے آڈٹ کی شق کو شامل کیا جائے،عمران اسماعیل

کراچی(نیوزمارٹ ڈیسک)گورنر سندھ عمران اسماعیل نے سندھ اسمبلی سے منظور ہونے والے جرنلسٹس پروٹیکشن بل 2021پر اعتراض اٹھا دیا،تفصیلات کے مطابق سندھ اسمبلی میں صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے تحفظ کا بل منظور ہونے کے بعد گورنر سندھ عمران اسماعیل کے پاس توثیق کے لیے بھیجا گیا تھا، جس پر انہوں نے اعتراض اٹھایا،صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے تحفظ سے متعلق بل پر گورنر سندھ نے اعتراض لگا کر بل سندھ اسمبلی کو واپس بھیج دیا،گورنر سندھ عمران اسماعیل نے اعتراض اٹھایا کہ جرنلسٹ پروٹیکشن کمیشن کی فنڈنگ اور اخراجات پر نگرانی کے لئے کمیٹی کیوں نہیں بنائی گئی، اس بل میں تھرڈ پارٹی کے آڈٹ کی شق کو شامل کیا جائے،عمران اسماعیل نے اعتراض کیا کہ جرنلسٹ پروٹیکشن بل کے قواعد و ضوابط سے متعلق شقیں آئین سے متصادم ہیں،گورنر سندھ کے اعتراض کے بعد بل کے مسودے کو دوبارہ سندھ کابینہ میں پیش کیا جائے گا اور اعتراض کو دور کر کے اسے اسمبلی میں پیش کیا جائے گا،گورنر سندھ کے اعتراضات کے بعد صحافیوں کے تحفظ کے قانون پر عمل درآمد رک گیا، دوسری جانب سندھ حکومت کے ترجمان بیرسٹر مرتضی وہاب نے کہا کہ میڈیا پروٹیکشن بل منظور ہوکر گورنر کے پاس گیا تو انہوں نے اسے مستردکر کے دوبارہ اسمبلی بھیج دیا،بل کے مسودے کے مطابق میڈیا ورکرز اور صحافیوں کو پیشہ وارانہ امور کی انجام دہی کے دوران مکمل تحفظ دیا جائے گا اور کام میں رکاوٹ ڈالنے والوں کیخلاف کارروائی کی جائے گی،جرنلسٹ پروٹیکشن بل کے تحت صحافی اپنی خبر کے ذرائع بتانے کا پابند نہیں ہو گا، جب کہ صحافیوں کے تحفظ کے لئے کمیشن قائم کیا جائیگا،صحافیوں کو ہراساں کرنے اور جان سے مارنے کی دھمکی دینے پر سزا ہو گی، صحافیوں پر حملے میں ملوث ملزمان کے کیس پر ترجیحی بنیاد پر فیصلے کیے جائیں گے،صحافی پیشہ وارانہ امور میں رکاوٹ بننے والے عناصر اور ہراساں کرنے کرنے والوں کیخلاف کمیشن میں درخواست دیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں