45

سابق سینیٹرعثمان کاکڑ سُپردِ خاک: ’پشتون خطے کا سب سے بڑا جنازہ‘جنازے میں لاکھوں افراد نے شرکت کی

قلعہ سیف اللہ (نمائند خصوصی)مسلم باغ کے جس قبرستان میں عثمان کاکڑ کو مٹی کے سپرد کیا گیا وہاں یہ پہلی اور واحد قبر تھی مگر جنازے میں لوگوں کا جم غفیر شریک تھا۔ نہ صرف بلوچستان بھر بلکہ ملک کے کونے کونے سے لوگ مسلم باغ پہنچے۔
پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے رہنماؤں کا دعویٰ ہے کہ ’عثمان کاکڑ کے جنازے میں لاکھوں افراد نے شرکت کی۔‘ پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے بھی اسے ’پشتون خطے کا سب سے بڑا جنازہ‘ قرار دیا۔
سابق سینیٹر کی نماز جنازہ جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے بھائی سینیٹر مولانا عطا الرحمان نے پڑھائی۔

اس سے پہلے منعقد ہونے والے جلسے میں پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی، سابق وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالمالک بلوچ، بلوچستان نیشنل پارٹی کے سیکریٹری جنرل جہانزیب جمالدینی اور پشتون تحفظ موومنٹ کے سربراہ منظور پشتین نے شرکت کی۔
رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ، اے این پی کے صوبائی صدر اصغر خان اچکزئی سمیت سینیٹ، قومی و صوبائی اسمبلیوں کے ارکان، سیاسی، مذہبی، سماجی شخصیات اور قبائلی عمائدین نے بھی جلسے میں شرکت کی۔
جنازے میں افغان صدر ڈاکٹر اشرف غنی کا تعزیتی پیغام بھی پڑھ کر سنایا گیا جس میں انہوں نے عثمان کاکڑ کی سیاسی خدمات اور افغانستان میں قیام امن کے لیے ان کی کوششوں کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ ’افغان عوام عثمان کاکڑ کے خاندان اور ان کی جماعت کے غم میں شریک ہیں۔‘
افغان حکومت کے ایک بیان کے مطابق ’افغان صدر کے مشیر محمد سرور احمد زئی اور وزیر سرحدی امور محب اللہ صمیم کی سربراہی میں افغانستان کا سرکاری وفد بھی جنازے میں شرکت کرنا چاہتا تھا تاہم پاکستانی حکومت نے انہیں اجازت نہ دی۔‘
واضح رہے کہ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے رہنما عثمان کاکڑ کو 17 جون کو سر پر چوٹ لگنے کی وجہ سے کوئٹہ کے نجی ہسپتال میں داخل کیا گیا تھا جہاں ان کا آپریشن کیا گیا اور 19 جون کو انہیں ایمبولینس کے ذریعے کراچی منتقل کیا گیا۔ وہ کراچی کے آغا خان ہسپتال میں 21 جون کو انتقال کر گئے۔
کراچی سے ان کی میت منگل کو کوئٹہ پہنچائی گئی اور بدھ کی رات کو بلوچستان کے ضلع قلعہ سیف اللہ میں ان کے آبائی علاقے مسلم باغ میں ان کی تدفین کی گئی۔
تدفین سے قبل تعزیتی جلسے سے خطاب میں پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ’عثمان خان کاکڑ کسی بیماری سے نہیں مرے بلکہ ان کے ساتھ ظلم و زیادتی ہوئی۔‘
ان کے گھر میں لوگ داخل ہوئے۔ ہمارے پاس ثبوت ہیں جو کسی آزادانہ اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرنے والے ادارے کو دینے کے لیے تیار ہیں۔‘
بلوچستان بھر میں سوگ کی فضا
عثمان کاکڑ کی وفات پر پورے بلوچستان بالخصوص پشتون علاقوں میں سوگ کی فضا رہی۔ کوئٹہ، پشین، قلعہ سیف اللہ،چمن اور صوبے کے دیگر علاقوں میں سوگ میں کاروباری و تجارتی مراکز بند رہے۔
کوئٹہ سے جنازے کی کوریج کے لیے جانے والے رپورٹر حفیظ اللہ شیرانی نے بتایا کہ ’کوئٹہ سے عثمان کاکڑ کی میت لے جانے والے قافلے کی لمبائی 30 کلومیٹر سے زائد تھی۔‘
’قافلے کا ایک سرا کچلاک اور دوسرا کوئٹہ میں تھا۔کوئٹہ سے مسلم باغ تک جگہ جگہ ہزاروں لوگوں نے سڑک کے دونوں جانب کھڑے ہوکر عثمان کاکڑ کو خراج عقیدت پیش کیا۔کئی مقامات پر خواتین بھی باہر نکلی ہوئی تھیں جنہوں نے قافلے پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کیں۔‘
کئی ٹرانسپورٹ کمپنیوں نے جنازے میں شرکت کے لیے جانے والے افراد کے لیے مفت ٹرانسپورٹ کا بھی بندوبست کیا تھا۔
مسلم باغ اور قلعہ سیف اللہ میں ہوٹلوں میں باہر سے آنے والے افراد کے لیے جگہ کم پڑگئی تو وہاں کے رہائشیوں نے اپنے مہمان خانے کھول دیے۔
پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا اور ملک کے دیگر حصوں سے بھی بڑی تعداد میں افراد نے عثمان کاکڑ کی آخری رسومات میں شرکت کی۔
سینیئر صحافی ایوب ترین کے مطابق ’اگر میں یہ کہوں کہ اپنی زندگی میں کسی اجتماع میں لوگوں کا اتنا ہجوم نہیں دیکھا تو یہ غلط نہ ہوگا۔‘
’اس سے پہلے 2002 میں سی آئی اے اہلکاروں کے قتل کے الزام میں امریکہ میں سزائے موت پانے والے ایمل کاسی کا کوئٹہ میں تاریخی جنازہ ہوا تھا مگر عثمان کاکڑ کے جنازے میں لوگوں کی شرکت اس سے بھی زیادہ تھی۔‘
ان کے بقول ’عام و خاص لوگ اپنے کام چھوڑ کر اور کاروبار بند کرکے گرمی میں پیدل، موٹر سائیکلوں اور گاڑیوں میں دور دراز علاقوں سے اپنی مدد آپ کے تحت پہنچے تھے۔‘
’وہ والہانہ انداز میں عثمان کاکڑ کے لیے احترام، محبت اور عقیدت کا اظہار کررہے تھے۔ہر شخص ایسا سوگوار تھا جیسے ان کا اپنا بھائی یا کوئی بہت ہی قریبی رشتہ دار بچھڑ گیا ہو۔‘
ایوب ترین کے مطابق ’پشتون قوم پرست رہنما ہونے کے باوجود کراچی سے کوئٹہ تک 700 کلومیٹر راستے میں بلوچ علاقوں میں جس طرح میت لے جانے والے کے قافلے کا استقبال کیا گیا وہ بھی تاریخی تھا۔‘
’عثمان کاکڑ نے اپنی زندگی میں پسے ہوئے طبقات کے لیے جس طرح بے خوف ہوکر آواز بلند کی انہی طبقات کے لوگوں نے آخری سفر پر انہیں یادگار انداز میں رخصت کیا۔‘
مسلم باغ کے رہائشی اور عثمان کاکڑ کے ایک رشتہ دار محمد آصف سرگڑھ نے بتایا کہ ’پشتونوں کے کاکڑ قبیلے کی سرگڑھ شاخ سے تعلق رکھنے والے عثمان کاکڑکے خاندان اور قبیلے کے افراد نے چند ماہ قبل آبائی قبرستان میں جگہ کم پڑنے کی وجہ سے کلی سٹیشن کے قریب اس نئے قبرستان کے لیے جگہ کا انتخاب کیا تھا مگر عثمان کاکڑ کے شاید گمان میں بھی نہیں تھا کہ اس قبرستان میں پہلی قبر ان کی اپنی ہی ہوگی۔‘
ان کے بقول قبرستان کا نام اب ‘شہید عثمان کاکڑ قبرستان ‘رکھ دیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ’عثمان کاکڑ کی موت پر پورا خاندان اور قبیلہ ہی نہیں بلکہ پورا بلوچستان غمزدہ ہے۔ ملک کے دیگر حصوں اور دنیا بھر سے لوگوں نے عثمان کاکڑ کے لیے جس عقیدت کا اظہار کیا کہ وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کا سیاسی کیریئر بے داغ اور شاندار تھا۔‘
’انہوں نے کبھی کوئی حکومتی عہدہ لیا اور نہ کبھی ان کے خلاف کرپشن کا کوئی سکینڈل بنا۔ انہیں اپنی قوم اور عوام سے محبت تھی اور ہر وقت ان کے لیے دستیاب رہتے۔‘
محمد آصف سرگڑھ کے مطابق ’عثمان کاکڑ نے سینیٹ آف پاکستان میں لاپتہ افراد، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں جیسے مشکل موضوعات پر دلیری اور بے خوفی سے اپنا مؤقف پیش کیا۔‘
صحافی ایوب ترین کے مطابق ’عثمان کاکڑ محمود خان اچکزئی کے بعد پارٹی کے سب سے سرکردہ اور مقبول رہنما تھے۔ انہوں نے 40 سال پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کو دیے اور زندگی کی آخری سانس تک اسی جماعت سے وابستہ رہ کر دنیا کو سیاسی وفاداری کا سبق دیا۔‘

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں