33

سودی نظام اللہ سے جنگ ہے، حکومت اور اپوزیشن مل کر اس نظام کو ختم کرنے کے لئے اپنا کردار ادا کریں، وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان

اسلام آباد (نیوزمارٹ ڈیسک):وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے کہا ہے کہ سودی نظام اللہ سے جنگ ہے اس کے خاتمے کے بغیر ملک میں خیر و برکت نہیں آسکتی، حکومت اور اپوزیشن کو مل کر اس نظام سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، عمران خان نے نئی نسل کو امید دی ہے، قائداعظم کے فرمودات کے تحت کشمیر، مہاجرین اور فلسطین پر کوئی سمجھوتہ نہیں کر سکتے، جب تک مسجد اقصیٰ آزاد نہیں ہوگی اسرائیل کو تسلیم نہیں کریں گے۔

جمعرات کو بجٹ 2021-22ءپر بحث میں حصہ لیتے ہوئے علی محمد خان نے کہا کہ پاکستان کے بارے میں قائداعظم کا جو خواب تھا وہ ہمیں اپنے بچوں تک منتقل کرنا چاہیے۔ نبی پاکﷺ نے 1450 سال پہلے فرمایا کہ مجھے ہند سے خوشبو آتی ہے، جب تک کلمہ طیبہ قائم دائم رہے گا تا قیامت پاکستان قائم و دائم رہے گا۔ فیصل آباد کے صوفی برکت علی کہتےتھے کہ ایک وقت آئے گا کہ پاکستان کی ہاں اور نہ میں دنیا کی ہاں اور نہ ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ساری امت مسلمہ کے زوال کی وجہ یہی ہے کہ ہم پہلی وحی بھول گئے ہیں۔ قائد اعظم نے مدنی ریاست کا خواب دکھایا۔

قرارداد پاکستان کی منظوری کے وقت ہمارے بزرگوں نے قائداعظم سے پوچھا تھا کہ پاکستان کا طرز حکمرانی کیا ہوگا۔ قائداعظم نے کہا کہ میں کون ہوتا ہوں اس کا فیصلہ کرنے والا یہ تو 1400 سال پہلے قرآن میں ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قرآن حکیم پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے ہم مشکلات کا شکار ہیں۔ بچوں کے ساتھ بدفعلی کے مرتکب افراد کو سرعام پھانسی دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک ہم سودی نظام سے نہیں نکلیں گے تو بجٹ کے ثمرات نہیں ملیں گے۔

سودی نظام اللہ سے جنگ ہے اور اللہ سے جنگ کرنے کی ہم میں سے کسی میں طاقت نہیں ہے۔ انہوں نے قائداعظم کی 1948ءکی سٹیٹ بنک میں تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سٹیٹ بنک نے بھی اس پر عمل نہیں کیا۔ قائد کی سوچ تو مٹائی جاسکتی ہے مگر قرآن کو کوئی نہیں مٹا سکتا۔ قائداعظم نے قلم کی طاقت اور سیاست سے پاکستان کو آزادی دلوائی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے قرآن کے احکامات اور قائداعظم کے فرمودات سے غداری کی ہے۔

قائداعظم نے اپنی تقریر میں کہا تھا کہ ہمیں اپنا بنکنگ نظام مغربی نظام کی بجائے اسلامی نظام کے مطابق چلانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اگر عمران خان کی حکومت اور یہ اپوزیشن ایک کام کر جائے کہ ہم سودی نظام سے ملک کو پاک کردیں پھر خیر و برکت آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ قائداعظم کے آخری الفاظ کشمیر، مہاجرین اور فلسطین تھے۔ مہاجرین نے اپنا گھر بار چھوڑا اور پاکستان کو آباد کرنے کے لئے آئے۔ اس طرح کشمیر پر ہم کوئی سمجھوتہ نہیں کر سکتے۔ انہوں نے کہاکہ ہم مسلمان اور محمدی ہیں۔ عمران خان ہو یا میاں صاحب جو بھی کرپشن کرے اس کو سزا ملنی چاہیے ۔

اگر حضرت عمر فاروقؓ سے بازپرس ہو سکتی ہے تو پھر کوئی ان سے بڑا نہیں ہے۔ ہمیں اپنی اپنی لیڈر شپ سے پوچھنا چاہیے۔ ہم سیاسی نظریہ پر آپ کے ساتھ ہیں، کرپشن پر نہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں کبھی نہیں رویا مگر جب مسجد اقصیٰ جل رہی تھی تو دل خون کے آنسو رویا۔ قائداعظم نے کہا کہ اسرائیل مغرب کی ناجائز اولاد ہے۔ جب تک مسجد اقصیٰ آزاد نہیں ہوتی ہم اسرائیل کو تسلیم نہیں کر سکتے۔ انہوں نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو نے قادیانیت کے حوالے سے قانون منظور کراکے ہم پر احسان کیا۔ اس ایوان کو اعزاز حاصل ہے کہ خاتم النبیینﷺ کی قرارداد، اسلامی قوانین، نصاب تعلیم میں حضور پاکﷺ کے نام کے ساتھ خاتم النبیینﷺ کا نام لکھنے کے لئے قوانین منظور کرائے گئے۔

نواز شریف نے موٹروے بنایا جس کا کریڈٹ ان کو ملنا چاہیے۔ اگر بھٹو نے نوجوانوں کو زبان دی ، عمران خان نے بھی ملک کی نوجوان نسل کو پیغام دیا کہ آپ سیاست سے ملک کو ٹھیک کرو، عمران خان کا دوسرا کارنامہ کرپشن کے خلاف بیانیہ ہے۔ کرپٹ لوگوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کر رہے ہیں مگر اس حوالے سے اور بھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ ہمارا احساس پروگرام اس ویلفیئر سٹیٹ کے نظریے کے تحت بنایا گیا ہے۔ اس ملک نے ایدھی، ارفع کریم، اشفاق احمد اور بے نظیر بھٹو پیدا کئے جس پر ہمیں فخر ہونا چاہیے۔ علی محمد خان نے کہا کہ احساس پر کوئی سمجھوتہ نہ کریں،

ملک کو مضبوط کریں، اس کے لئے ہمیں ہر طرح کی قربانی دینی ہوگی۔ آبی وسائل، توانائی، زراعت اور ڈیموں کی تعمیر پر ہمیں پوری توجہ دینا ہوگی۔ مہمند ڈیم ، داسو اور دیامیر بھاشا ڈیم کسی ایک جماعت کی نہیں پاکستان کی زمینوں کو سیراب کریں گے۔ ہم نے سوات موٹروے بنائی ہے جس سے سفری سہولیات میں آسانی پیدا ہوگی۔ عمران خان نے ایک زمینی خدا کو انکار کیا جس پر ہمیں فخر ہے۔ کسی مسلمان ملک کے خلاف اپنی سرزمین کسی کو نہیں دیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں