66

پاکستان کے بلیک لسٹ میں جانے کا کوئی خطرہ موجود نہیں۔ نیا ایکشن پلان منی لانڈرنگ پر مشتمل،حماد اظہر

اسلام آباد (نیوزمارٹ ڈیسک) وفاقی وزیر حماد اظہر نے کہا، ایف اے ٹی ایف کا نیا ایکشن پلان منی لانڈرنگ پر مشتمل ہے۔

ایف اے ٹی ایف گرے لسٹ کے حوالے سے پریس کانفرنس بریفنگ کے دوران حماد اظہر نے کہا، پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی تاریخ کا سب سے مشکل پلان ملا تھا،27 میں سے رہ جانے والا ایک نکتہ اگلے تین سے چارماہ میں مکمل کرلیں گے۔

اُنہوں نے کہا،7 نکاتی ایکشن پروگرام آج ہمیں ملا ہے، نیا ایکشن پلان منی لانڈرنگ پر مشتمل ہے جسے 12 ماہ میں مکمل کرلیں گے۔ مزید کہا کہ، پہلے ہمیں دہشت گردی سے متعلق ایکشن پلان ملا تھا جو نسبتاً مشکل تھا۔

اُن کا کہنا تھا کہ، ایف اے ٹی ایف کے صدر نے پاکستان کے حوالے سے تاریخی کلمات کہے اور تعریف کی، پاکستان کے بلیک لسٹ میں جانے کا کوئی خطرہ موجود نہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا، ایف اے ٹی ایف کے پلیٹ فارم پر بھارت کا چہرہ پوری طرح بے نقاب ہوگیا، ایف اے ٹی ایف میں بھارت کی نکتہ چینی وقت کے ساتھ اہمیت کھوتی جا رہی ہے۔

حماد اظہر بولے کہ، ایف اے ٹی ایف نے تسلیم کیا پاکستان نے 27 میں سے 26 نکات پر کامیابی سے عمل درآمد کیا، گرے لسٹ سے نکلنے کا سفر ابھی کچھ باقی ہے۔ پاکستان کی پچھلے دو سال کی نسبت صورتحال بہتر ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ، گرے لسٹ میں رہنے سے پاکستان پر کسی قسم کی پابندیاں عائد نہیں ہوں گی۔ 2018ء میں دیئے گئے 82 میں سے 75 نکات پر عمل درآمد مکمل کرلیا گیا ہے۔

اُنہوں نے مزید کہا، تحریک انصاف کی حکومت منی لانڈرنگ کے حوالے سے سخت قوانین بنانا چاہتی ہے، اینٹی منی لانڈرنگ قوانین کے حوالے سے اپوزیشن کا کردار سب کے سامنے ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں