36

امریکی فوج کا عراق شام سرحد پر ایرانی حمایت یافتہ ملیشیا پر حملہ، 4 افراد ہلاک

بغداد(نیوزمارٹ ڈیسک)امریکی فوج نے شام عراق سرحد پر ایران کی حمایت یافتہ ملیشیا پر فضائی حملہ کردیا جس کے نتیجے میں کم از کم 4 افراد کی ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی ہے۔
اس حوالے سے عرب میڈیا کا کہنا ہے کہ امریکی وزارتِ دفاع (پینٹاگون) نے شام عراق سرحد پر ایرانی حمایت یافتہ ملیشیا کے ٹھکانوں پر فضائی بمباری کا اعتراف کیا ہے۔
امریکی وزارتِ دفاع (پینٹا گون) کا کہنا ہے کہ ایرانی حمایت یافتہ ملیشیا نے ڈرون حملے کیے جس کے ردِ عمل کے طور پر امریکی فوج نے جوابی کارروائی کی ہے۔
پینٹاگون کے مطابق امریکی صدر جو بائیڈن کے حکم پر ایرانی حمایت یافتہ ملیشیا کے خلاف کارروائی کی گئی۔ حملوں کے دوران اسلحہ ڈپوز کو نشانہ بنایا گیا جس سے جانی نقصان ہوا۔
عرب میڈیا کا کہنا ہے کہ امریکی فوج نے جو فضائی حملے کیے، ان کے نتیجے میں کم از کم 4 افراد ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ ایرانی حمایت یافتہ ملشیا اس حوالے سے تاحال خاموش ہے۔
پریس سیکریٹری پینٹا گون جان کربی کے مطابق امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ اگر عراق میں امریکی مفادات کو نشانہ بنایا گیا تو ایرانی حمایت یافتہ ملیشیا کے خلاف مزید کارروائی کریں گے۔
خیال رہے کہ اِس سے قبل امریکی اخبارکی جانب سے دعویٰ کیا گیا کہ افغانستان کے دارالحکومت کابل میں طالبان کا اثرورسوخ بڑھنے پر امریکا بمبار ڈرون یا جنگی طیاروں کی مدد سے فضائی حملہ کرسکتا ہے۔
میڈیارپورٹس میں 17 روز قبل کہا گیا کہ افغانستان میں غیر معمولی بحران اور طالبان کے اثرورسوخ کے پیش نظر امریکا کابل میں اپنے بمبار ڈرون اور جنگی طیارے بھیج سکتا ہے۔
اخباری رپور ٹ میں کہا گیا کہ امریکی حکام نے یہ بھی کہا کہ افغانستان میں فوجی اڈے چھوڑنے کے بعد امریکا کو طویل عرصے تک طالبان کے حملے روکنے میں مشکلات کا سامنا ہوگا۔ اس کیلئے خلیج فارس میں قائم امریکی فوجی اڈے اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں