47

بلاول کا اسپیکر قومی اسمبلی اسد قصیر پر جانبداری کا الزام

اسلام آباد(نیوزمارٹ ڈیسک) قومی اسمبلی میں بلاول بھٹو اور شاہ محمود قریشی آمنے سامنے آگئے، ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے کئے۔ چیئرمین پیپلزپارٹی کا کہنا تھا کہ ملتان کے ممبر کو جتنا ہم جانتے ہیں کوئی نہیں جانتا، خان صاحب سمجھ نہیں سکے یہ کیا چیز ہے، گیلانی حکومت میں دوسرے ممالک کو کہتا تھا مجھے وزیراعظم بناؤ، میں نے بچپن سے ان کو جئے بھٹو کا نعرہ لگاتے دیکھا۔

چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے بجٹ کو معاشی تباہی کا بجٹ قرار دے دیا۔ انہوں نے کہا کہ پی پی بجٹ مسترد کرتی ہے، 172 ممبران پورا کرنے کیلئے حکومت کی دوڑیں سب نے دیکھیں، اگر دھاندلی نہ ہوتی تو مطلوبہ ووٹ پورے نہیں تھے، بجٹ اجلاس عوام کے لئے بے عزتی کا باعث بنا۔

قومی اسمبلی اجلاس سے چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بجٹ اجلاس ہر پاکستانی کیلئے شرمندگی کا باعث بن چکا، ہر ممبر کا حق ہے کہ اپنا ووٹ ریکارڈ پر لے کر آئے، جناب اسپیکر! آپ نے گزشتہ روز ہم سے ہمارا حق چھینا، کل بجٹ پراسیس کا اہم ترین دن تھا، کون جانتا تھا یہ بجٹ اجلاس معاشی تباہی کا بجٹ ہے، اسپیکرصاحب نے پورا موقع دیا حکومت اپنے 172 ممبران کی تعداد پوری کرسکے، فنانس بل کی حتمی منظوری پرووٹنگ نہیں کرائی گئی، بدقسمتی سے اپوزیشن ارکان کی تعداد بھی کم تھی۔

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ عامر ڈوگر اور پارلیمانی سیکرٹری کی جدوجہد کو سلام پیش کرتا ہوں، حکومتی اراکین اپنے لوگ ڈھونڈتے رہے، سپیکر سے لابی کو سیل کرنے کی گزارش کی جو نہیں مانی گئی، ہمارا حق ہے کہ ہماری ترمیم پڑھی اور سنی جائے، ہمارے ووٹ کے حق کا تحفظ نہیں ہوگا تو عام آدمی کے ووٹ کا کیا ہوگا، حکومت نے جو بجٹ دیا یہ معاشی تباہی کا بجٹ ہے، کچھ اپوزیشن ممبران کی تعداد میں بھی کمی تھی، ہماری گنتی کرنے کی بجائے اسپیکر صاحب آپ اٹھ کر چلے گئے۔

بعدازں جواب میں شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بلاول کو اس وقت سے جانتا ہوں جب یہ بہت چھوٹے سے تھے، ان کے والد کو بھی جانتا ہوں، بچے کو لکھی ہوئی دو چار پرچیاں پکڑا دیتے ہیں، یہ آٹو پر آن آف ہو جاتا ہے۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا بجٹ پر قوم کے 172 ارکان نے ووٹ دے کر اطمینان کا اظہار کیا، خواجہ آصف نے کہا ووٹ کوعزت دینی چاہیئے، یہ جو حکومتی بنچز پر بیٹھے ہیں یہ بھی ووٹ لے کر آئے ہیں، ووٹ کی عزت دونوں طرف سے ہوگی یکطرفہ نہیں، سپیکر کی ذات پر حملہ نہیں کیا جاسکتا، میں احتجاج کرتا ہوں، سپیکر ایوان کے محافظ ہیں، بلاول بھٹو کونسی پارلیمانی روایات کی بات کرتے ہیں، یہ آئینہ دکھاتے ہیں دیکھتے نہیں ہیں۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹو کونسی پارلیمانی روایات کی بات کرتے ہیں، سندھ میں اپوزیشن لیڈر کو بات نہیں کرنے دی گئی، سندھ کے وزیر خزانہ بحث سمیٹے بغیر چلے گئے، سندھ میں جہاں پیپلزپارٹی کی حکومت ہے وہاں اپوزیشن لیڈر کو بات کرنے کا موقع نہیں دیا گیا، آپ کا وزیراعلیٰ سندھ تقریر وائنڈ اپ کیے بغیر رخصت ہو جاتا ہے، کیا سندھ میں اپوزیشن کو اسٹینڈنگ کمیٹیوں میں نمائندگی کا موقع دیا، کونسی پارلیمانی روایات کی بات کرتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں