39

ینگ ڈاکٹرز بے نظیر بھٹو ہسپتال کے باہر سراپا احتجاج،نیشنل لائسنسنگ امتحانات نامنظور

راولپنڈی(نیوزمارٹ ڈیسک)راولپنڈی میں بے نظیر بھٹو ہسپتال کے باہر ینگ ڈاکٹرز سراپا احتجاج ہیں جن کا کہنا ہے کہ نیشنل لائسنسگ امتحانات کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں ہیں۔
تفصیلات کے مطابق آج راولپنڈی میں واقع بے نظیر بھٹو ہسپتال کے باہر ینگ ڈاکٹرز نے بھرپور احتجاج کیا۔ینگ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ نیشنل لائسنسگ امتحانات کسی بھی صورت نامنظور ہیں۔ہم اپنی میڈیکل کی پڑھائی مکمل کرکے 1 سال ہاؤس جاب کر کے ایم بی بی ایس مکمل کرتے ہیں،جس کے بعد لائسنسنگ امتحانات کی ضرورت نہیں۔
نیشنل لائسنسنگ امتحان کی شرط کو کالا قانون قرار دیتے ہوئے ینگ ڈاکٹرز نے کہا کہ ہم کسی بھی صورت یہ قانون کو نہیں مانتے۔ایم ایم نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے ینگ ڈاکٹرز کے رہنما ڈاکٹر ہمایوں نے بتایا کہ حکومت ہم پر ظلم کر رہی ہے۔رات کو ایک شخص ہمارے بارے میں کچھ سوچتا ہے اور صبح اسے قانونی شکل دے دی جاتی ہے۔
ینگ ڈاکٹرز کے رہنما ڈاکٹر ہمایوں نے کہا کہ اگر مروجہ پالیسی کو مدِ نظر رکھتے ہوئے قانون بنایا جائے تو ہم اسے تسلیم کریں گے لیکن غیر قانونی طریقے سے لاگو کیے گئے ضوابط کے نتائج اچھے نہیں ہوسکتے۔ پی ایم سی رات کو فیصلہ کرکے اگلے ہی روز اس پر عمل کیلئے اقدامات شروع کردیتی ہے۔ ہم ہڑتال کریں گے اور بنی گالہ پر دھرنا دیں گے۔
مروجہ پالیسی کی وضاحت کرتے ہوئے ڈاکٹرہمایوں نے کہا کہ اس کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ ڈاکٹرز کو میڈیکل کے طلبہ و طالبات سے مشاورت کرنا ہوگی۔ دنیا بھر میں پروٹوکولزموجود ہیں۔ اگر ان کی پیروی کرتے ہوئے آگے بڑھیں تو ہم پی ایم سی کے ساتھ ہیں۔ اگر ہمیں لاوارث سمجھ کر غیر قانونی طریقے سے قانون لایا جائے گا تو ہم اس کے خلاف ہیں۔
ڈاکٹر ہمایوں نے کہا کہ طلبہ و طالبات میڈیکل کی تعلیم مکمل کرکے ایک سال ہاؤس جاب کرتے ہیں۔اس کے بعد نیشنل لائسنسنگ امتحان کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ہمارے ڈاکٹرز 95 فیصد نمبر لے کر آتے ہیں۔سب سے زیادہ ذلیل بھی ہمیں کیا جاتا ہے۔ڈاکٹرز یہ سوچنے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ اگر سوتیلی ماں کا سا سلوک جاری رہے تو وطن چھوڑ جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان چھوڑ کر بیرونِ ممالک میں روزگار تلاش کریں گے۔ یہ قانون انٹرنیشنل گریجویٹس پر لاگو کیا جاتا ہے۔ وزیرِ اعظم سے ہماری اپیل ہے کہ ہم یہاں گورنمنٹ کے طلباء ہیں۔ ہم پر اس قانون کا اطلاق نہیں ہوتا۔ صرف 2 سال کے لائسنس کیلئے یہ امتحان نہیں دیا جاسکتا۔ حکومت کو خود اپنے سسٹم پر یقین ہونا چاہئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں