53

سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کو بولنے کی اجازت نہ دینے کی مذمت کرتا ہوں ، شہباز گِل

کراچی (نیوزمارٹ ڈیسک)معاون خصوصی برائے سیاسی ابلاغ ڈاکٹر شہباز گِل نے کہا کہ سندھ میں اپوزیشن لیڈر کو بولنے نہ دینے کی مذمت کرتا ہوں۔

تفصیلات کے مطابق معاون خصوصی برائے سیاسی ابلاغ ڈاکٹر شہباز گِل نے اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی حلیم عادل شیخ کی رہائشگاہ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہاں بجٹ جلدی میں پاس کروایا گیا۔

انہوں نے کہا کہ انہیں حلیم عادل شیخ سے تکلیف ہے ، اراکین کو اسمبلی میں جانے سے روکا گیا ، ایک بچہ جو کھیل کود رہا تھا اچانک والدہ کی شہادت کے بعد ایک پرچی نکلی اور اس کے اندر پرچی چیئرمین نکلا ، سارا خاندان شہنشاہ بنا ہوا ہے۔

معاون خصوصی برائے سیاسی ابلاغ نے کہا کہ پرچی چیئرمین نے پاکستان میں ہر جگہ اپنی سی وی دی ، کبھی کوئی محنت نہیں کی ایک گھنٹے کا کام نہیں کیا اور چلے ہیں وزیراعظم بننے ، پاکستان میں ہر جگہ ناکام ہوئے ، اب منجن بیچنے واشنگٹن جارہے ہیں۔

ڈاکٹر شہباز گِل نے کہا کہ امریکی اڈوں پر ایبسلیوٹلی ناٹ کا دو ٹوک جواب دیا ، اڈے دینے کا سارا کھاتہ مشرف کے ڈالتے ہیں ، کونڈولیزا رائیس نے لکھا کہ مشرف اور بینظیر کے درمیاں ڈیل کرائی ، وجہ آمریکا کے مفاد کا سودا تھی ، یہ کتاب چھپ چکی ہے، اس کو کہیں چیلنج نہیں کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ اس ڈیل کا نتیجہ یہ نکلا کے 340 ڈرون اٹیک ہوئے ، مشرف کے دور میں 13 ڈرون اٹیک ہوئے ، مسلم لیگ ن کے زمانے میں 61 حملے ہوئے، وکی لیکس میں واضع ہے حملے کیوں ہوئے، اس کو بھی کسی نے چیلنج نہیں کیا، محترمہ اور مشرف کی ڈیل ہوئی ڈرون اٹیکس پر، ریمنڈ بیکر کی کتاب بتاتی ہے یہ معاہدے کیوں کیے گئے۔

معاون خصوصی برائے سیاسی ابلاغ نے کہا کہ اپنا گندہ پیسہ بچانے کے لیے اور مالکان کو خوش کرنے کے لیے یہ سب کیا گیا، عمران خان نے ڈرون حملوں پر کہا ایبسلیوٹلی ناٹ تو بلاول کہتے ہیں میں ہوں نا، بلاول کہتے ہیں ہمیں نوکری دیں وائی ناٹ، بلاول کہتے ہیں ہم آپ کے غلام ہیں جو کرنا ہے کریں، بلاول واشنگٹن میں میں ہوں نا کی شوٹنگ کرنے جارہے ہیں۔

ڈاکٹر شہباز گِل نے کہا کہ بلاول اب ملک کی سیاست اور عوام بدل چکی ہے، اب عمران خان ہے، ایسی ڈیلیں نہیں ہونے دیں گے، ہم امن کے لیے سب کے ساتھ ہیں، افغانستان میں امن کا فائدہ پاکستان کو ہے، بلاول کی جماعت نے سندھ میں اپوزیشن لیڈر کو بولنے نہیں دیا، میں مطالبہ کروں گا کہ وفاق میں پی پی کے چیئرمین سمیت تمام لوگوں کو کمیٹیوں سے نکالا جائے۔

انہوں نے کہا کہ انہیں پتہ لگ جائے کہ سندھ کو کیسے چلانا ہے، فواد چوہدری نے میڈیا کے بقایجات ادا کردیے ہیں، 70 کروڑ روپے ادا کردیے گئے ہیں میڈیا کو ، اب مالکان ورکرز کو تنخواہیں بھی ادا کریں، خورشید شاہ صاحب کے علاوہ کون اندر ہے، بلاول کو کسی نے ابھی پوچھا نہیں، سی ایم سندھ نے کیا گل کھلائے سب جانتے ہیں۔

معاون خصوصی برائے سیاسی ابلاغ نے کہا کہ ایک ڈاکٹر نے نالوں پر قبضے کرلیے ، میڈیکل کے لائسنس جاری کرلیے، یہاں شراب کو شہد بنادیا گیا، اپوزیشن لیڈر کو جیل میں ڈالنے سے خوش ہوتے ہیں تو پی پی شوق پورا کرے ، سندھ حکومت کے اپنے ادارے موجود ہیں، پی پی کا ایک عہدیدار یہاں عدلیہ کو دہمکیاں دے رہا تھا آج عدالت میں پاؤں پکڑ رہا ہے۔

ڈاکٹر شہباز گِل نے کہا کہ حلیم عادل شیخ ان کے خلاف بولتا رہے گا، لندن میں ایک مطلوب شخص بیٹھا ہے، جس نے دہشتگردی کروائی اس کو تحفظ فراہم کیا جارہا ہے، ہمارے ہاں کوئی بات ہوتی ہے تو اچھلتے ہیں، وزیراعظم نے اسمبلی فلور پر بیان دیا ، ہم نے 70 ہزار جوان اور سویلین شہید کروادیے، ہم کسی سے زیادتی یا حملہ کرنے والی قوم نہیں، ہر صورت ہم ہر ایک کے خلاف ایکشن چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم ایک سچی جمہوری پارٹی ہیں، ہم غیر جمہوری کام نہیں کرنا چاہتے ، سندھ حکومت سندھ کی عوام سے اتنا ظلم نہ کرے، پورے ملک میں صحت کارڈ مل رہے ہیں، لیکن سندھ میں یہ کارڈ نہیں دے رہے، جب واشنگٹن جاکر جوتے صاف کرنے ہیں تو سندھ کے لوگوں کو صحت کارڈ مانگنے پر کہیں وائی ناٹ۔

معاون خصوصی برائے سیاسی ابلاغ نے کہا کہ ہم کسی کی بیماری پر سیاست نہیں کریں گے، نہ کسی کی موت پر سیاست کریں گے، میں پچھلی دفعہ آیا تو کہیں بھی محترمہ کی سالگرہ کا بینر نظر نہیں آیا ، یہ موت پر جشن کرتے ہیں، ہم سب کو پی پی ورکرز کو پرسا دینا چاہیے، پیپلزپارٹی لاشوں اور بیماریوں کی سیاست کرتے ہیں۔

ڈاکٹر شہباز گِل نے کہا کہ آصف علی زرداری کی صحت یابی کے لیے دعاگو ہیں، این ایف سی کوئی بھی کم نہیں دے سکتا، کوئی بھی ایک پیسہ نہیں روک سکتا، یہ کیش مانگتے ہیں وہ ہم نہیں دیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں