35

پاکستان ترکی کے ساتھ دو طرفہ تعاون کو مزید مستحکم بنانے کیلئے پرعزم ہے، صدر مملکت

اسلام آباد(نیوزمارٹ ڈیسک)زرائع کے مطابق صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی سے کمانڈر ترکش لینڈ فورسز جنرل امیت دندار کی ایوان صدر میں اہم ملاقات ہوئی۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ پاکستان کیخلاف دہشتگردی میں بھارت ملوث ہے۔ لاہور میں دہشتگردی کا واقعہ بھارتی پشت پناہی سے ہوا۔

صدر مملکت نے کہا کہ دونوں ممالک کے مابین تجارت، دفاع اور ثقافت کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے وسیع مواقع موجود ہیں۔فوجی تربیتی تعاون کے معاہدے سے دوطرفہ دفاعی تعاون مزید مستحکم ہوگا۔

ڈاکٹر عارف علوی نے پاکستان اور ترکی کے درمیان تعلقات کی موجودہ سطح پر اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ دونوں برادر ممالک کے درمیان مثالی تعاون موجود ہے جنہیں تجارت اور دفاع کے شعبوں میں مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔

صدر مملکت نے امید ظاہر کی کہ عسکری تربیتی تعاون سے دوطرفہ فوجی تعاون کو مزید فروغ ملے گا۔ انہوں نے ترک صدر رجب طیب اردوان کے ملک کی اقتصادی خوشحالی اور مسلم امہ میں اتحاد کے فروغ کے لئے کردار کو سراہا۔

ڈاکٹر عارف علوی نے بھارتی مقبوضہ جموں و کشمیر میں بے گناہ لوگوں کے خلاف بھارتی فوج کے مظالم بالخصوص اگست 2019ء کے غیر قانونی اقدامات کے تناظر میں پیدا ہونے والی صورتحال کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی برادری کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے کردار ادا کرنا چاہیے۔

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے دہشتگرد کارروائیوں میں بھارت کے ملوث ہونے اور پاکستان کے خلاف برادر ملک افغانستان کی زمین استعمال کئے جانے کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا۔

اس موقع پر کمانڈر ترکش لینڈ فورسز جنرل امیت دندار نے کہا کہ پاکستان اور ترکی کے درمیان مشترکہ عقیدے، اقدار اور تاریخی تعلقات پر مبنی دیرینہ تعاون قائم ہے۔

امیت دندار نے یہ بھی کہا کہ ترکی کے عوام پاکستانیوںکو اپنے بھائی سمجھتے ہیں، دونوں ممالک کے درمیان تمام شعبوں بالخصوص دفاعی میدان میں تعاون کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔

کمانڈر ترکش لینڈ فورسز جنرل امیت دندار نے صدر مملکت کی جانب سے نشان امتیاز (ملٹری) عطا کئے جانے پر ان کا شکریہ ادا کیا۔

قبل ازیں یہاں ایوان صدر میں صدر مملکت نے ایک خصوصی تقریب میں جنرل امیت دندار کو نشان امتیاز (ملٹری) عطا کیا۔

تقریب میں پاکستان کے سینئر فوجی اور سول حکام نے شرکت کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں