34

ناراض بلوچ رہنماؤں سےمذاکرات کا معاملہ،شاہ زین بگٹی وزیراعظم نے معاون خصوصی مقرر

اسلام آباد: ( نیوزمارٹ ڈیسک) وزیراعظم عمران خان نے ناراض بلوچ رہنماؤں سے مذاکرات کے اہم معاملے کو مدنظر رکھتے ہوئے شاہ زین بگٹی کو اپنا معاون خصوصی تعینات کر دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق جمہوری وطن پارٹی کے سربراہ ناراض بلوچ رہنماؤں سے سیاسی اور قومی ہم آہنگی پر بات کریں گے۔

شاہ زین بگٹی کو وفاقی وزیر کا درجہ دیا گیا ہے۔ کابینہ ڈویژن نے شاہ زین بگٹی کی تقرری کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا ہے۔ شاہ زین بگٹی کو معاون خصوصی برائے ہم آہنگی بلوچستان تعینات کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ دنوں وزیراعظم عمران خان نے اعلان کیا تھا کہ وہ ناراض بلوچوں سے بات کرنے کا سوچ رہے ہیں۔

وزیراعظم کا گوادر میں مقامی عمائدین، طلبہ اور کاروباری شخصیات سے خطاب میں کہنا تھا کہ پاکستان میں صرف الیکشن جیتنے کے لیے کام کیے گئے لیکن میرا مقصد عوامی خدمت ہے۔ چاہتا تو لندن میں شاہانہ زندگی گزار سکتا تھا لیکن میری ترجیح کچھ اور ہے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ یکساں ترقی سے ملک اوپر اٹھتا ہے۔ سوچتا تھا اللہ تعالیٰ نے موقع دیا تو بلوچستان پر توجہ دیں گے۔ ہم بلوچستان کا احساس محرومی ختم کریں گے۔ سی پیک کا سب سے زیادہ فائدہ بلوچستان کو ہوگا۔ اس صوبے کی عوام کیلئے انٹرنیٹ کی سہولت تھری اور فور جی متعارف کرائیں گے۔

گزشتہ روز آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی کہا تھا کہ بلوچستان کا امن پاکستان میں ترقی کی ٹھوس بنیاد ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ قربانیوں اور مشکلات سے حاصل امن کے ثمرات سمیٹے جائیں۔

آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے یہ بات بلوچستان کی ساتویں قومی ورکشاپ کے شرکا سے خطاب کرے ہوئے کہی۔

ورکشاپ میں ارکان پارلیمان، بیوروکریٹس، سول سوسائٹی، شعبہ تعلیم اور میڈیا کے نمائندوں نے شرکت کی۔

ورکشاپ کا مقصد بلوچستان کی مستقبل کی قیادت کو اہم قومی اور صوبائی امور پر آگاہی دینا تھا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی فورسز بلوچستان اور پاکستان میں ترقی اور خوشحالی کے دشمنوں کو شکست دینے کے لیے پرعزم ہیں۔

آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے اپنے خطاب میں ملک کو درپیش اندرونی اور بیرونی چیلنجز پر بھی بات کی۔

ان کا کہنا تھا کہ خطرات کا قومی سطح پر جواب دینا وقت کی ضرورت ہے۔ قومی قیادت بلوچستان کو اہمیت دے رہی ہے جبکہ فوج ملک کے دیگر اداروں کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔ ہم ایک پرعزم قوم ہیں جو ہر مشکل گھڑی میں ترقی اور استحکام کے لیے ثابت قدم رہی۔

اس اہم معاملے پر ہونے والی پیشرفت سے میڈیا کو آگاہ کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے کہا تھا کہ وزیراعظم کے اعلان کے تحت ناراض بلوچوں سے باقاعدہ مذاکرات پر کام شروع کر دیا گیا ہے۔

یہ بات انہوں نے وفاقی کابینہ اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ میں بتائی۔ فواد چودھری کا کہنا تھا کہ کابینہ نے لاہور بم دھماکے کا نیٹ ورک بے نقاب کرنے پر پولیس اور دیگر متعلقہ حکام کو مبارکباد دی۔

انہوں نے کہا کہ ہم بہت جلد اس دہشتگرد نیٹ ورک کے مزید ثبوت اور تانے بانے سامنے لائیں گے۔ بم دھماکے میں ملوث اہم ملزمان قانون کی گرفت میں آ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کے بعد بھارت کا سب سے بڑا نیٹ ورک ایکسپوز ہوا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں