72

مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیاں جنگی جرائم کے زمرے میں آتی ہیں، اقوام متحدہ

جنیوا (نیوزمارٹ ڈیسک):اقوام متحدہ کے مطابق مقبوضہ فلسطینی علاقے میں اسرائیلی آباد کاری اور یہودی بستیوں کا قیام جنگی جرائم کے زمرے میں آتا ہے۔جرمن ذرائع ابلاغ کے مطابق اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے تفتیش کار مائیکل لنک نے عالمی ادارے کی انسانی حقوق کی کونسل کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں یہودی بستیوں کا قیام جنگی جرائم کے ارتکاب کے مساوی ہے اور عالمی برادری کو اسرائیل پر یہ بالکل واضح کر دینا چاہیے کہ وہ غیر قانونی قبضے کا مرتکب ہو رہا ہے اور اب ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ اسرائیل کو اس کے ان ریاستی اقدامات کی کوئی قیمت ہی نہ چکانا پڑے۔مائیکل لنک نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہاکہ اسرائیل کی قائم کردہ یہودی بستیاں جنگی جرائم کے ارتکاب جیسی ہیں۔

میں آپ کے سامنے اپنی چھان بین کے نتائج پیش کرتے ہوئے یہ امید کرتا ہوں کہ بین الاقوامی برادری اسرائیل کو کھل کر یہ بتائے کہ وہ غیر قانونی قبضے کا مرتکب ہوا ہے۔ مزید یہ کہ یہ اقدامات بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی رائے عامہ دونوں کے منافی بھی ہیں۔ اسی لیے اسرائیل کو ان اقدامات کے لیے جواب دہ بنایا جانا چاہیے کیونکہ ایسا لازمی ہونا چاہیے۔

مائیکل لنک کو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں انسانی حقوق کی صورت حال کی چھان بین اور اس سے متعلق خصوصی رابطہ کار کے طور پر ایک جامع رپورٹ کی تیاری کا کام جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل نے سونپا تھا۔مائیکل لنک ماضی میں فلسطینی مظاہرین کے خلاف اسرائیلی فورسز کی کارروائیوں پر بھی شدید تنقید کر چکے ہیں اور ان کا شروع سے ہی یہ مطالبہ رہا ہے کہ اسرائیل فلسطینیوں کے عوامی اجتماع، آزادی اظہار رائے اور ثقافتی آزادی کے حقوق کا ہر حال میں مکمل احترام کرے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں