42

ڈجیٹل مالی خدمات پر پانچواں اسٹیک ہولڈرز اجلاس ، اسٹیٹ بینک نے نئے اقدامات کا اعلان کردیا

کراچی(نیوزمارٹ ڈیسک):گورنر بینک دولت پاکستان ڈاکٹر رضا باقر نے ڈجیٹل فنانشل سروسز پر اسٹیک ہولڈرز کے منعقدہ پانچویں اجلاس میں مالی اداروں کی جانب سے ڈجیٹل مالی مصنوعات اور خدمات متعارف کرانے کے لیے دو نئے اقدامات کا اعلان کیا تاکہ معاشرے کے تمام طبقات کو فائدہ پہنچے، یہ اقدامات ڈجیٹل چیک کلیئرنگ اور ادائیگیوں کے لیے ایک یونیفائیڈ کیو آر کوڈ کا متعارف کروایا جانا ہیں، اسٹیٹ بینک فعال طور پر اوپن بینکنگ میں پیش رفت کی راہیں تلاش کر رہا ہے، جو مالی اداروں کے مابین صارفین کی جانب سے اجازت یافتہ معلومات کے اشتراک اور لیوریجنگ کی سہولت فراہم کرتا ہے تاکہ صارفین کے انتخاب، مسابقت کی ترویج اور مالی شعبے میں کارکردگی میں اضافے کے لیے سہولت پیدا ہو اور صارفین کے فائدے کے لیے اختراعی مصنوعات اور خدمات متعارف کرائی جا سکیں۔

یہ اسٹیک ہولڈرز اجلاس جو گورنر اسٹیٹ نیاکتوبر 2019 میں شروع کیے تھے سرکاری اور نجی شعبے کے کلیدی فریقوں کو اکٹھا کرنے کے لیے ہیں تاکہ معلومات کا اشتراک کیا جا سکے اور مالی خدمات کی ڈجیٹلائزیشن کو تیز کرنے اور ڈجیٹل پاکستان کے وژن کو فروغ دینے کے لیے وسیع اثرات کے حامل مسائل کو باہمی تعاون سے حل کیا جا سکے۔ ۔

مرکزی بینک سے بدھ کوجاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق اجلاس میں چیئرمین پی ٹی اے میجر جنرل (ر)عامر عظیم باجوہ ، چیئرمین ایف بی آر عاصم احمد،چیئرمین نادرا محمد طارق ملک، عالمی بینک کے کنٹری ڈائریکٹر ناجی بین حاسین اور بل اینڈ میلنڈا گیٹس فائونڈیشن کے نمائندوں سمیت اسٹیک ہولڈرز کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔

اکائونٹنٹ جنرل آف پاکستان ریونیو (اے جی پی آر)، کنٹرولر جنرل آف اکائونٹس (سی جی اے)، وزارت آئی ٹی اور ٹیلی کمیونیکیشن اور وزارت تجارت کے نمائندے بھی موجود تھے۔بینکوں، مائیکرو فنانس بینکوں اور الیکٹرانک منی اداروں(ای ایم آئیز)، پی ایس اوز، پی ایس پیز کے ساتھ ساتھ کئی دیگر ڈجیٹل مالی خدمات کے اسٹیک ہولڈرز نے مالی شعبے کی نمائندگی کی۔

گورنر رضا باقر کے اعلان کردہ اقدامات کا محور ڈجیٹلائزیشن اور مالی شمولیت کے مقاصد میں تیزی لانا ہے۔ ڈجیٹل چیک کلئیرنگ کے اقدام سے چیک کلئیر کرانے کے لیے خود موجود ہونے کی ضرورت نہیں رہے گی ، اس طرح اس عمل میں صرف ہونے والا بہت سا وقت بچے گا۔ دوسرے اقدام یعنی یونیفائیڈ کیو آر کوڈ متعارف کرانے سے صارفین کسی بھی ڈجیٹل ایپلی کیشن کے ذریعے ادائیگیاں کرسکیں گے اور علیحدہ اپیس کے استعمال کی ضرورت ختم ہوجائے گی۔

گورنر رضا باقر نے کہاکہ اسٹیٹ بینک اختراعی ڈجیٹل مالی خدمات کا فروغ جاری رکھے گا اور جتنا ممکن ہو اس ضمن میں مسائل حل کرکے سہولت فراہم کرتا رہے گا۔ گورنر رضا باقر نے ڈجیٹل اقدامات میں سہولت دینے اور ڈجیٹل مالی خدمات کو پروان چڑھانے میں متعلقہ فریقوں بالخصوص ایف بی آر اور نادرا کی معاونت کو سراہا۔

صنعت کی جانب سے جن امور نشاندہی کی گئی تھی ان پر ہونے والی پیش رفت سے اس فورم کو آگاہ کیا گیا، ان میں ایف بی آر کی طرف سے پیمنٹ کارڈز قبول کرنے والی پوائنٹ آف سیلز(پی او ایس)مشینوں کی درآمدات پر ٹیکس اور ڈیوٹیز میں کمی / خاتمہ، ریموٹ اکائونٹ کھلوانے میں نادرا کی معاونت، اور پی ٹی اے کی مدد سے ٹیلی کام صنعت کی موبائل سمز کی تصدیق پر لاگو ہونے والے چارجز کے طریقہ کار پر نظرثانی شامل ہے۔

اجلاس کے دوران اسٹیٹ بینک اور پی ٹی اے نے ڈجیٹل مالی خدمات میں ہونے والی جعلسازی کی روک تھام کے لیے ایس بی پی- پی ٹی اے مشترکہ ٹاسک فورس کے قیام کا اعلان کیا۔ اس کے ساتھ اسٹیٹ بینک اور ایف بی آر نے بھی مشترکہ کمیٹی کے قیام پر اتفاق کیا، جو معیشت میں ڈجیٹائزیشن بڑھانے کے لیے باقاعدگی سے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرے گی۔

یہ اور دیگر اقدامات مالی سال 21 کی تیسری سہ ماہی کے دوران انٹرنیٹ اور موبائل بینکاری میں بالترتیب 30 اور 20 فیصد نمو پر منتج ہوئے ہیں۔گورنر رضا باقر نے اسٹیٹ بینک کے راست پیمنٹ پلیٹ فارم پر ہونے والی پیش رفت سے شرکا کو آگاہ کرتے ہوئے کہاکہ فرد تا فرد ادائیگی کے دوسرے مرحلے کا آغاز اکتوبر 2021 میں ہوگا، جس کے لیے بینک راست سے منسلک ہورہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں