38

آف شور کمپنیوں،انصاف کا تقاضا ہے جب تک ثبوت نہ آئے وہ بےگناہ ہیں،شاہد خاقان عباسی

(نیوزمارٹ ڈیسک)سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ منگل کا دن ہے اور احتساب کا نام نہاد عمل جاری ہے،حکومت کا تین سال میں 8 واں گواہ آیا ہے ابھی تک یہ نہیں بتا سکے ہم پر الزام کیا ہے،ابھی 52 گواہ باقی ہے امید ہے دس پندرہ سال لگ جائینگے۔ احتساب عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ گواہ بتا چکے ہیں ایل این جی سے اگلے دس سال تک فائدہ مل جائیگا،ملک کے اندر معاملات پیچیدہ ہوں گے، 7 سو پاکستانیوں کے نام آف شور کمپنیوں میں آئے،ہمیں غرض نہیں وہ کون ہیں انصاف کا تقاضا ہے جب تک ثبوت نہ آئے وہ بےگناہ ہیں،یہ بات ملک کے وزیراعظم اور وزراء کو پتہ ہے نہ ہی یہ بات نیب چئیرمین اور نیب کو معلوم ہے یہ جیل میں پہلے ڈالتے ہیں پھر کیسز بنتے ہیں،نیب نے صرف نوازشریف کو سزا دی وہ بھی ایک جج کو بلیک میل کر کے سزا دی گئی،7 سو لوگوں کے خلاف انکوائری ہونی چاہئے،پاناما کیس میں نواز شریف کا نام بھی نہیں تھا انکو سزا دی گئی،عمران خان کہتا ہے سزائیں میں دیتا ہوں چئیرمین نیب کہتا ہے میں سزائیں دیتا ہوں اگر ملک میں انصاف ایک ہے تو 7 سو لوگوں کو بھی جیل جانا چاہئے،جب سے رپورٹ آئی چئیرمین نیب نے کوئی انکوائری نہیں کی،براڈ شیٹ کیس میں کوئی جیل نہیں گیا یہاں کمیشن بنتے ہیں لیکن کسی کو سزا نہیں ملی،7 سو افراد کا حق ہے وہ جواب دیں حکومت کی ذمہ داری ہے پاناما طرز کی انکوائری کرے،ان 7 سو افراد کے خلاف جے آئی ٹی بنے عدالتوں میں کیمرے لگا کر سب کو بتائیں انہوں نے کیا لوٹا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں