21

ٹریفک قوانین کی پابندی اور ہمارامعاشرہ۔

کالم:مکالمہ۔
محمد نعیم قریشی۔
کسی بھی ریاست کا نظام عوامی تعاون کے بغیر چلانا ایک انتہائی مشکل کام ہے،اس میں سب سے بڑا نظام میری نظر میں ٹریفک کا نطام ہے جو پاکستان میں کسی بھی لحاظ سے پرفیکٹ نہیں کہا جاسکتا کیوں کہ اس نظام میں موجود ٹریفک پولیس کے جاندارکردار اور سڑکوں اور روڈ سیفٹی کے لیے بنائے گئے قوانین کا احترام کرنے والے شازونادرہی دکھائی دیتے ہیں، یہاں ہر کسی کو جلدی پہنچنے کی پڑی ہوتی ہے سڑکوں پر ٹریفک کا ایک ازدھام ہوتاہے قانون کی پابندی کرتے ہوئے گاڑی چلانے والے کے لیئے انتہائی مشکل بنی ہوئی ہے کہ وہ اپنی منزل مقصود پر صحیح سلامت کیسے پہنچ پائے، ایسے میں اگر ٹریفک پولیس اپنا کام ذمہ داری سے کرے تب بھی ہم بحیثیت قوم اپنے آپ کو بدلنے کے لیئے تیار نہیں، مہذب شہری کہلانے کو تو تیار ہیں لیکن بننے کو نہیں، ٹریفک پولیس کی کارکردگی اگر بہت اچھی بھی ہو تو عمومی طور پر وہ ہمار ی غیر ذمہ داریوں کی وجہ سے سوالیہ نشان بن جاتی ہیں کراچی کے شاہراہ فیصل جیسی ملک کے بڑی شاہراؤں میں تو یہ مسئلہ عام ہے، ٹریفک پولیس سڑکوں پر دوڑتی گاڑیوں کے نظام کو بحال رکھنے کے لیئے اپنے قوانین کے تحت چالان اور جرمانے تو کرتی ہے لیکن عوام میں ٹریفک قوانین کے بارے میں آگاہی میں کمی کی وجہ سے مسائل جنم لے رہے ہیں، شاہراہوں اور سڑکوں پر کبھی غلط پارکنگ کبھی بنا ہیلمٹ کے موٹر سائیکل تو کبھی بنا سیٹ بیلٹ پہنے گاڑیوں کوچلانے والوں کو اکثر دیکھتے ہیں اور تو اور دورا ن ڈرائیونگ موبائل فون کا استعمال نہایت عام سے بات ہے جس میں خود کئی بار میرا بھی چالان ہونے سے بال بال بچا ہے بطور ایک کالم نگار یعنی میڈیا پرسن ہونے کے باعث احتراما چھوڑ دیا جاتا ہوں جبکہ ٹریفک پولیس اور ان کی خلاف ورزی پر ہم آئے دن سڑکوں چوراہوں پر ٹریفک پولیس اہلکاروں کو لوگوں کے چالان کاٹتے اور الجھتے ہوئے دیکھتے ہیں،ایک بار ایک ٹریفک پولیس اہلکار سے دوران ڈرائیونگ موبائل فون کے استعمال پر ٹکراؤ ہوا تو اس نے میرا چالان کرنا چاہا تو میں نے سرسری ساتعارف کروایا تو اس نے نہایت مہذبانہ انداز میں کہاکہ ہم لوگ آپ ہی کی حفاظت کے لیے یہاں کھڑے ہیں اس نے کہاکہ ہمیں آپ کی جانوں کی اس قدر فکر ہے حیرت ہے آپ ان خطرناک سڑکوں پر اپنا خیال رکھنے کی کوشش نہیں کرتے کم ازکم اپنا نہیں تو سڑکوں پر دوسرے لوگوں کا ہی خیال کرلیں کہ آپ کی کسی بھی حرکت سے اس کی جان بھی جاسکتی ہے میں اس دن میں نے فیصلہ کرلیا کہ میں ہر حال میں سڑک پر دوران ڈرائیونگ ٹریفک قوانین کااحترام کرونگا جبکہ ہم دیکھتے ہیں کس طرح سے یہ ہمارے ٹریفک پولیس اہلکار سڑکوں پر سخت دھوپ میں کھڑے ہوتے ہیں، بے شمار سہولیات نہ ہونے کے باجود ٹریفک پولیس اہلکار اپنے فرائض احسن طریقے سے سر انجام دے رہے ہیں جو قابل ستائش ہے،ایک عام شہری کی حیثیت سے ہم اپنی ٹریفک پولیس کو دوران ڈیوٹی ان کے پاس جاکر پانی پلاکر ان کی حوصلہ افزائی کرسکتے ہیں،ویسے اب تو کراچی ٹریفک پولیس کی تاریخ میں پہلی بار خواتین اہلکاروں کو سڑکوں پر تعینات کردیا گیا ہے تاہم انہیں ابھی چالان کا اختیار نہیں دیا گیا ہے، ٹریفک پولیس حکام کے مطابق ابتدائی طور پر خواتین اہلکار شارع فیصل اور کلفٹن میں تعینات کی گئی ہیں شارع فیصل پر تعینات خواتین اہلکار موٹر سائیکل سوار ہیں، پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر خواتین اہلکاروں کاکام آگاہی دینااور ٹریفک پر نظررکھنا ہے یہ خواتین اہلکار زیادہ تر موٹر سائیکل سوار افراد کی آگاہی کے لیئے تعینات کی گئی ہیں، افسوس کہ ہمارے معاشرے میں ایسی لاکھوں مائیں موجودہیں جنہوں نے ٹریفک حادثات میں اپنے نوجوان بچوں کو کھو دیا، ایسے بچے موجود ہیں جو کم عمری میں ہی اپنے والدین کو بھیانک موت اور ٹریفک کے جان لیوا حادثوں میں کھو چکے ہیں جس کی وجہ سے ان کی زندگیاں محرومیوں،مجبوریوں اور نفسیاتی صدمات سے دو چار ہیں بہت سے لوگ ایسے بھی ہیں جو اپنے پیارے دوستوں کی ناگہائی موت کا صدہ برداشت کرنے کے قابل بھی نہ رہے ان حادثات میں بچ جانے والے انسان جو ذہنی اور جسمانی لاچارگی کا شکار ہوجاتے ہیں یا پھر ہمیشہ ہمیشہ کے لیئے معذور ہوجاتے ہیں، ٹریفک حادثات کو روکنے کے لیئے ضروری ہے کہ ٹریفک کے نظام اور قوانین کو سمجھا جائے ان قوانین کو پابندی کی جائے، حادثات کی سب سے بڑی وجہ انسانوں کی غلطی اور جلد بازی جو ہمیں ٹریفک قوانین پر عملدرآمد کرنے سے روکتی ہے، موٹرو ے پولیس کی تحقیق کے مطابق سالانہ تیس ہزار سے زاہد انسان ٹریفک حادثات کی وجہ سے موت کا شکار اور ہزاروں افراد زخمی ہوتے ہیں، ان حادثات سے کروڑوں روپے کا مالی نقصان بھی ہوتاہے، اس ملک میں بعض نوجوان او ڈرائیور پچھے آنے والی گاڑی کو انا کا مسئلہ بناتے ہوئے اپنی گاڑی بھگاتے ہیں ریس لگاتے ہیں اوور لوڈنگ گاڑیاں، بے ہنگم ٹریفک میں کھٹا ر ا قسم کی بسیں کراچی کی ٹوٹی پھوٹی سڑکوں پر بے لگام گھوڑے کی طرح انسانوں کو روند کر چلی جاتی ہیں اور ایسا لگتاہے انہیں کوئی روکنے والا نہیں ہے، آپ خود سوچئے کہ کیا یہ مناسب عمل ہے کہ یہ بات بھی مناسب نہیں کہ جہاں پارکنگ کی جگہ نہ ہو وہاں گاڑی کو پارک کردیا جائے، اس غلط پارکنگ کی وجہ سے خواتین، بچے اور ضعیف لوگوں کاراستہ رک جاتاہے، ٹریفک قوانین کی پابندی ہر شہری پر لازم ہے اور ہم سب کو ٹریفک قوانین کا احترام کرنے والے معاشرے کے قیام کے لیئے اپنا بھرپور کردار ادا کرنا ہوگا کیونکہ باشعور قومیں اپنے قوانین سے ہی پہچانی جاتی ہیں، اب اس میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ریاست کیا کردار ادا کرے، سعودی محکمہ ٹریفک نے اپنی نوعیت کا پہلا پروگرام شروع کردیا ہے، اس ٹریفک قوانین کی پابند ی کرنے والے فائدے میں رہیں گے، سعودی عرب کے ایک معروف جریدے کے مطابق وہاں کے محکمہ ٹریفک نے شاہراہوں کی سلامتی کے قومی مرکز کے اشتراک سے ٹریفک کو خلاف ورزیوں سے پاک بنانے کے لیئے نئی روایت یہ قائم کی ہے کہ سادہ وردی میں ٹریفک اہلکار جگہ جگہ تعینات ہیں انہیں یہ مہم تفویض کی گئی ہے کہ فیلڈ میں اس بات کا پتہ لگایا جائے کہ ٹریفک قوانین کی زیادہ پابندی کو ن لو گ کر رہے ہیں، ہماری ریاست اگر شہریوں کو اس قسم کا پیکج نہیں دے سکتی تو کم از کم ٹوٹی پھوٹی سڑکوں کی مرمت اور دھوپ میں سڑتے ٹریفک اہلکاروں کو بنیادی سہولیات تو دے سکتی ہے یا وہ بھی نہیں دے سکتی، کراچی جیسے میٹروپولیٹن شہر ہونے کا اعزاز حاصل ہے وہیں اس شہر میں بڑھتے ہوئے ٹریفک مسائل اور حادثات میں خطرنا ک حد تک اضافہ یہاں پر موجود متعلقہ اداروں کی کاکردگی پر سوالیہ نشان ہے مگر یہ جاننے کی کوشش کبھی بھی نہیں کی جاتی کہ اس میں ہماراکیا قصور ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں