18

اگر نائن الیون نہ ہوتا۔کالم: حنید لاکھانی۔سربراہ بیت المال سندھ۔

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات امریکہ کی افغانستان میں فوجی کارروائیوں کے بعد شروع ہوئے،اوریہ سب کچھ نائن الیون کے سانحے کے بعد شروع ہوا،نائن الیون11ستمبر2001 وہ تاریخ ہے جس نے دنیا عالم کی تاریخ کو ہی بدل ڈالا تھا،اس روز دہشت گردوں نے امریکا میں موجود ورلڈ ٹریڈ سینٹر کو اپناہدف بنایا اور امریکا کی ترقی کی نشانی کو لمحوں میں راکھ کا ڈھیر بنادیا،دہشت گردی کی اس کارروائی میں امریکی ائیرلائن کے دومسافر طیارے تقریباً اٹھارہ منٹ کے وقفے سے ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی دونوں عمارتوں سے ٹکرائے اس المناک واقعہ نے تین ہزار لوگوں ک جان لے لی،اس واقعہ کے فوری بعد امریکی صدر جارج بش نے قوم سے خطاب میں کہاکہ یہ مٹھی بھر دہشت گرد ہماری عمارتوں کی بنیادوں کو تو ہلاسکتے ہیں مگر وہ متحدہ ریاست ہائے امریکا کی بنیاد کو ہاتھ بھی نہیں لگاسکتے اس طرح امریکاکچھ ہی دیر بعد دہشت گردی کے خلاف جنگ کا باقاعدہ اعلان کرچکاتھااس جنگ کا باقائدہ آغاز آپریشن اینڈ یورنگ فریڈم کے نام سے شروع کیا گیا،امریکا نے گیارہ ستمبر کے ان حملو ں کے بعد اس کی تمام تر ذمہ داری القائدہ اور اسامہ بن لادن پر عائد کی اور ساتھ ہی افغانستان کے حکمران طالبان قیادت سے اسامہ بن لادن کی حوالگی کا مطالبہ بھی کیا،مگر جب طالبان نے امریکی صدر کے اس مطالبے کو واضح انداز میں مسترد کردیا تو اس وقت کے امریکی صدر جارج ڈبلیوبش نے افغانستان میں اپنی فوجوں کو بھیجنے کا اعلان کیا،امریکا میں ہونے والے اس دہشت گرد حملے کی آواز کوآج بھی دنیا بھر میں اس لیے سنا جاسکتاہے کہ اس واقعہ کو دراصل بھولنے ہی نہیں دیاگیا، کیونکہ یہ ہی وہ حملہ تھا جس کے بعد بیس برس تک دنیا بھر میں بارود کی بازگشت سنائی دیتی رہی،امریکانے اس دوران کبھی افغانستان تو کبھی عراق پر چڑھائی کی امریکا نے مارچ 2003میں عراق پر حملہ کیاجس کے برے نتائج کچھ اس طرح آنا شروع ہوئے کہ ایک تو اس سے افغانستان کی تعمیرو نو کا عمل رکنا شروع ہوا دوسراکچھ برسوں میں داعش جیسی خطرناک تنظیموں کا جنم ہوا جو القائدہ کو بھی پیچھے چھوڑ گئی اور اس طرح دہشت گردی کے نام پر اس جنگ کا دائرہ پھیلتا رہا،دہشت گردوں نے بھی ایک نہ سنی اور پھر ہم نے دیکھا کہ گولیوں ور بموں سے کان پڑی آواز سنائی نہ دیتی تھی ڈرون حملوں سے جہاں بے گناہ اور معصوم لوگ بھی مارے جاتے رہے وہاں یورپ برطانیہ اور دیگر مغربی ممالک سمیت مسلم دنیا کو اپنا نشانہ بنائے بغیر نہ چھوڑا مسجدیں،گرجا گھر، ائیر پوررٹس تفریح کے پارک امام بارگاہیں اور اسکولوں میں معصوم بچوں کی لاشیں گرتی رہی، یہ وہ وقت تھا جب افغانستان کی اقتصادی ترقی کاعمل مکمل طورپر رک چکاتھااور پھر اس سے افغانستان میں جو ناامیدی پیدا ہوئی اور وہاں پر جس طرح سے انتہاپسندی اور تشدد بڑھااس کے بعد یہ بڑھتا اور پھیلتا ہواتشدد پاکستان میں بھی پہنچ گیا،امریکا نے نائن الیون کے حملوں پر تفتیش کچھ اس طرح کی کہ جس کے مطابق تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ نے یہ کہا کہ امریکا پر ہونے والے ان حملوں میں سعودی عرب براہ راست ملوث نہیں،بلکہ یہ مملکت سے تعلق رکھنے والے مٹھی بھر نان سٹیٹ ایکٹرزکی سازش تھی،اس طرح امریکی حکومت بدلے کی آگ میں جلتی رہی یہ ہی وجہ ہے کہ امریکا سات سمندر پار اپنے اتحادی لشکرکو لیکر یہ کہہ کر پہنچا کہ وہ دنیا سے دہشت گردی کا خاتمہ کرنے کا عزم لیکر نکلا ہے،امریکا غصے کی حالت میں افغانستان کی سنگلاخ چٹانوں پر اتر توگیا مگر وہاں اسے چٹانوں سے سرٹکرانے کے سوا کچھ نہ مل سکااور آج بیس سال بعد شکست اس کا مقدر بنی رواں برس اگست کے آخر میں عزت اور آبرو کے ساتھ امریکی اور اس کے اتحادی نیٹو کا انخلا دراصل ایک ایسی شرمندگی کے ساتھ تھا جسے دنیا بھر کے دانشوروں نے اپنے اپنے انداز میں جس طرح چاہا ویسے ہی لکھا بھلے ہی امریکا افغانستان سے چلا گیا مگر جاتے جاتے وہاں کی اقتصادی صورتحال کا بھی بیڑہ غرق کرگیاتھا،اب ہم زراان ادوار میں پاکستان کی صورتحال پر بھی نظر ڈالتے ہیں،نائن الیون حملوں کے بعد دنیا بھر میں پاکستان امریکا کا سب سے اہم اتحادی اور دہشت گردی کے خلاف فرنٹ لائن اتحادی بن کر سامنے آیا تھا،پاکستان نے اس کے بعد جس انداز میں دہشت گردی میں انسانی جانوں کی قربانیاں دینے کا سلسلہ شروع کیا اسے شاید ایک پل بھی لوگ یاد نہ رکھ سکے جس میں ہمارے ہزاروں لوگ مارے گئے،اس قدر انسانی جانوں کی قربانیوں کے ساتھ ساتھ پاکستان پر کبھی طالبان کی حمایت تو کبھی کولیشن سپورٹ فنڈ کے الزامات لگائے جاتے رہے،نائن الیون کے بعد امریکا کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی شمولیت سے پاکستان کوکچھ تھوڑی بہت اقتصادی امداد تو ملی لیکن یہ امدادان مالی اور جانی نقصانات کے مقابلے میں نہ ہونے کے برابرتھیں پاکستان نے 2001میں امریکا کی بھرپور مدد کی لیکن پاکستان کو وقتاًفوقتاً امریکا کی جانب سے طعنے اور شکایات ملنے کا سامنا رہاکیونکہ امریکا چاہتاتھا کہ وہ جو بھی فیصلہ کرے پاکستان صرف ہاں میں گردن ہلاتارہے۔ لیکن درحقیقت پاکستان کے اپنے قومی مفادات کا تقاضایہ تھا کہ وہ یہ کام کربھی رہاہے تو کچھ محتاط انداز میں کرے اور اپنی سا لمیت اور خود مختاری کا سودا نہ کرے مگر ایسا نہ ہواجس کی وجہ سے دہشت گردی کے نام پر جار ی اس جنگ میں ہمیں انسانی جانوں کا نقصان اٹھانا پڑاتقریباً اسی ہزار کے قریب لوگ جابحق ہوئے اوربے بہا لوگ زخمی اور معذور ہوگئے اور یہ ہی نہیں مالی طورپر بھی پاکستان کی اقتصادیات کو شدید نقصان اٹھانا پڑایہ ہی وہ اقتصادی دھچکا ہے جس سے پاکستان آج تک نہیں نکل سکاہے،مگرخدا کا شکر ہے کہ پاکستان کی فوج نیم فوجی دستے اور پولیس سمیت دیگر سیکورٹی اداروں نے بڑی ہمت اور شجاعت کے ساتھ اس دہشت گردی کو پاکستان میں کنٹرول کیاکیونکہ ایک وقت وہ تھا کہ ہفتے میں ایک یا دوبڑے بم دھمکاکے اور خود کش حملے ہونامعمول بن چکاتھالیکن ہماری فوج نے قبائلی اور ملحقہ د یگر علاقوں میں جاکر چن چن کر دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرکے اس خطرے کو ختم کردیا۔اگرچہ انتہا پسندی کے واقعات اب بھی ہوجاتے ہیں لیکن ماضی کی نسبت واقعات اب بہت کم ہوگئے ہیں،اس تحریر میں آسان لفظوں میں یہ بیان کیا جاچکا ہے کہ کس طرح غیر مستحکم افغانستان اس کے ہمسایہ ممالک کے لیے مشکلات پیدا کرتارہاہے اور افغانستان کا امن کیوں ضروری ہے دوسری جانب آج امریکا اپنی عبرت ناک شکست کو تسلیم کرتے ہوئے یہاں سے جاچکاہے مگر پھر بھی افغانستان کے امن کو مستحکم رکھنے کے لیے وہاں کی نئی حکومت کو اقتصادی معاملات میں شدید پریشانیوں کا سامناہے، اور افغانستان کے اقتصادی معاملات کو بہتر کرنے کے لیے اسے دوسرے ممالک کے بھرپور تعاون کی اشد ضرورت ہے اس طرح اگر دنیا افغانستان کی مدد نہیں کرتی اور وہاں اقتصادی صورتحاحال خراب ہوتی ہے تو وہاں دہشت گردی کا عفریت پھر سے اٹھنے کا اندیشہ ہے اور اگر ایسا ہوا تو اس انتہا پسندی کی ذد میں نہ صرف افغانستان بلکہ اس کے ہمسایہ ممالک بھی لپیٹ میں آسکتے ہیں جس میں پاکستان سرفہرست ہے اور اس طرح جب جب انتہا پسندی بڑھے گی تو لوگ یہ ہی کہیں گے کہ اگرنائن الیون نہ ہوتا تو افغانستان اس طرح غیر مستحکم نہ ہوتا۔ختم شد

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں