34

بلوچستان اسمبلی میں بغاوت،ناراض ارکان پی ڈی ایم کاحصہ بن کرحکومت گرانے کیلئے متحرک ، سیاسی میدان میں کھلبلی مچ گئی

کوئٹہ (نیوزمارٹ ڈیسک) وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال نے دعویٰ کیا کہ ناراض ارکان پی ڈی ایم کاحصہ بن کربی اےپی حکومت گرانا چاہتے ۔ نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال نے کہا کہ ماحولیات سےمتعلق میٹنگ ‏میں اسلام آباد آیا تھا وزیراعظم عمران خان سےکل ملاقات متوقع ہے پی ٹی آئی بلوچستان میں حکومت کی ‏اتحادی ہے ہم وفاق میں پی ٹی آئی کیساتھ ہیں اوربلوچستان وہ ہمارےساتھ ہیں۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی اتحادی جماعت ہے ، یقیناً ہمارے ساتھ ہے۔جام کمال کا کہنا تھا کہ شروع میں اختلافات آئےتوصادق سنجرانی سمیت سب بلوچستان آئے ناراض دوستوں نے ٹھان ‏لی تھی کہ معاملہ حل نہیں کرنا صادق سنجرانی مسائل حل کرنےپرتوجہ دے رہےہیں۔بلوچستان میں عدم ‏استحکام کوئی نہیں چاہتا تاثرپیدا کیا گیا ہےکہ اکثریت ہمارے خلاف ہے اکثریت ہمارےساتھ ہےمخالفت کی تعداد ‏کم ہے تحریک عدم اعتماد پر14ارکان نےدستخط کیےتھے اور پریس کانفرنس میں6،7 سےزائدارکان نہیں تھے ‏ہو سکتا ہے 3 ہفتے پہلے لوگوں سے دستخط لےلیےگئےہوں۔جام کمال کا مزید کہنا تھا کہ ناراض دوستوں سےملاقات کی ان کےمسائل بھی سنے کچھ ارکان نےکہاہم مجبوری ‏میں کچھ لوگوں کیساتھ کھڑےہیں امید ہےکچھ جودستخط بھی کرچکےہیں خلاف ووٹ دینےنہیں جائیں گے آج ‏جو لوگ ناراض ہیں ان کی وجہ سےبھی کچھ لوگ ناراض تھے ارکان کاکہناتھاکہ ہمارےحلقوں میں مداخلت ہوتی ‏ہے۔ یاد رہے کہ گذشتہ روز وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے بلوچستان عوامی پارٹی کی صدارت سے مستعفی ہونےکا فیصلہ واپس لے لیا تھا۔جام کمال نے بلوچستان عوامی پارٹی کی صدارت سے مستعفی ہونےکا فیصلہ واپس لینے کا اعلان وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ میں پریس کانفرنس کے ذریعے کیا تھا۔ اس موقع پر عوامی نیشنل پارٹی، ہزارہ ڈیمو کریٹک پارٹی اور جمہوری وطن پارٹی کے علاوہ بلوچستان عوامی پارٹی کے حمایتی اراکین اسمبلی بھی موجود تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں