42

ڈاکٹر عشرت العباد کراچی کی سیاست میں سرگرم کردار ادا کرنے کو تیار

دبئی(نیوزمارٹ ڈیسک)سابق گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان نے سیاست میں انٹری کا عندیہ دیتے ہوئے کہا مختلف آپشنز پر غور کررہا ہوں، کچھ لوگ چاہتے ہیں میں سیاست اور ملک میں واپس نہ آئوں کیونکہ میرے آنے سے انکی دکانیں بند ہوجائیں گی۔تفصیلات کے مطابق دبئی میں مقیم سابق گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان نےمیڈیا سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی اور پاکستان میں مختلف اسٹیک ہولڈرز سے رابطے میں ہوں اور مختلف آپشنز پر غور کررہا ہوں۔ڈاکٹر عشرت العباد خان نے مسائل کے مستقل حل کے لیے اپنے مکمل تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا چاہتا ہوں کہ سیاسی استحکام ہو، ملکی مفاد کے لیے تمام لوگوں کو کراچی کے حوالے سے ملکر اتحاد کے ساتھ کام کرنا ہوگاسابق گورنر سندھ ڈاکٹر نے کہا کہ ایم کیو ایم کے مختلف رہنماؤں سے بات چیت ہوتی ہے ، سب کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کےلیے کوششیں ہونی چاہیے ، کراچی میں سیاسی خلاء ہے ، عوام کی خواہش ہے کہ کراچی کے لوگ متحد ہوکر اگے بڑھیں اور کام کریں۔ان کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم میں اچھے اورپڑھے لکھے لوگ ہیں ، خالد مقبول ، فاروق ستار ، فروغ نسیم ، رضا ہارون ، ڈاکٹر صغیر احمد ، وسیم آفتاب سمیت اچھے چہروں کو اگے آنا چاہیےڈاکٹر عشرت العباد خان نے مزید کہا کہ کراچی کے مسائل حل کرنے میں تمام پارٹیاں ناکام ثابت ہوئی ہیں اور کراچی میں بیڈ گورننس کی مثال قائم ہے ، کچھ لوگ چاہتے ہیں میں سیاست اور ملک میں واپس نہ آئوں کیونکہ میرے آنے سے انکی دکانیں بند ہوجائیں گی۔انھوں نے کہا کہ ایم کیو ایم ملک کے متوسط طبقے کی نمائندہ جماعت تھی لیکن مٹھی بھر جرائم پیشہ افراد کے ہاتھوں محصور ہوگئی، جس کے نتیجے میں پارٹی میں کئی دھڑے بن گئے۔ انھوں نے کہا کہ یہ پارٹی جو کبھی قومی اثاثہ تصور کی جاتی تھی، اس وقت کے پالیسی سازوں کی نظر میں ایک بوجھ بن گئی، اس وقت ایک لطیفہ عام تھا کہ ڈاکٹر عشرت العباد گورنر کی حیثیت سے دنیا کا سب سے مشکل ترین فریضہ انجام دے رہے ہیں، وہ عموماً اپنے لئے آنے والی فون کالز سنتے تھے اورپھر اس وقت کے ایم کیو ایم کے طاقتور ترین قائد الطاف حسین عام طورپر رات گئے انھیں فون کرتے تھے، وہ عام طورپر اپنے کارکنوں کی گرفتاری پر غصے میں یا مرکز کی جانب سے اپنے مطالبات کی منظوری کیلئے فون کرتے تھے۔کراچی آپریشن اور ترقی کیلئے ان کی سپورٹ فیصلہ کن تھی۔ ڈاکٹر عشرت العباد نومبر 2016 میں سندھ کے گورنر کے عہدے سے استعفیٰ دے کر سیکورٹی کے مسائل کی بنیاد پر فوری طورپر دبئی منتقل ہوگئے تھے اور اس وقت سے ابھی تک دبئی ہی میں مقیم ہیں لیکن پاکستان کی صورت حال پر ان کی گہری نظر ہے۔ ڈاکٹر عشرت العباد کا ایک بیٹا برطانیہ میں ڈاکٹر ہے اور دوسرا بیٹا امپیریل کالج لندن میں ڈاکٹریٹ کا طالبعلم ہے، ان کی ایک بیٹی این ایچ ایس میں نیوروسرجن ہے اور دوسری نے 3D ڈیزائن میں فرسٹ کلاس آنرز کیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں