45

بلوچستان میں‌ سیاسی بحران،وزیر اعلیٰ کا حتمی فیصلہ نہ ہوسکا

کوئٹہ(نیوزمارٹ ڈیسک)جام کمال کے وزارتِ اعلیٰ چھوڑنے اور حکومت نہ بننے کی وجہ سے صوبے میں بحرانی صورت حال پیدا ہوگئی کیونکہ سرکاری اداروں میں کام ٹھپ پڑے ہوئے ہیں۔میڈیا کے مطابق بلوچستان کے نئے وزیر اعلیٰ کا نام تاحال فائنل نہیں ہوسکا، جس کی وجہ سے کابینہ بھی تشکیل نہیں دی گئی۔ اس ساری صورت حال میں سرکاری اداروں میں کام ٹھپ ہوگیا جس کی وجہ سے صوبہ بحرانی کیفیت سے دوچار ہے۔بلوچستان میں حکومت سازی کے معاملے پر بلوچستان عوامی پارٹی اور دیگر اتحادی جماعتیں وزیراعلیٰ کے نام پر اتفاق نہ کرسکیں۔چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی اورپرویزخٹک نے حکومت سازی کے لیے دوبارہ کوئٹہ جانےکا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق صادق سنجرانی ،پرویزخٹک حکومت سازی کے حوالے سے اتحادیوں سےملاقاتیں کریں گے،صادق سنجرانی عبدالقدوس بزنجو سمیت دیگر ارکان کیساتھ ملاقات کریں گے۔دوسری جانب ڈپٹی اسپیکرقاسم سوری کی عبدالقدوس بزنجو سے ملاقات ہوئی، جس میں صوبے کی موجودہ سیاسی صورتحال سمیت مختلف امورپرتبادلہ خیال کیا گیا۔بلوچستان میں نئی حکومت سازی کیلئے سیاسی جوڑ توڑکاسلسلہ جاری ہے، ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی نے بی اےپی قدوس بزنجوگروپ کی حمایت کا اعلان کیا جبکہ بلوچستان عوامی پارٹی کا ایک دھڑا بزنجو کو وزیر اعلیٰ بنانے کا مخالف ہے۔رپورٹ کے مطابق بی اے پی کے ناراض اراکین سعیدہاشمی،قدوس بزنجو اور دیگرنے ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنماؤں سےملاقات کی اور وزیراعلیٰ کے انتخاب کے معاملے پر حمایت مانگی۔ترجمان بی اےپی عبدالرحمان کھیتران اورمحمدخان لہڑی بھی اس موقع پر موجود تھے۔ ہزارہ ڈیموکریٹک کے رہنما قادر نائل نے بتایا کہ پارٹی کے ایگزیکٹیو کونسل کی منظوری کے بعد عبدالقدوس بزنجوں کی حمایت کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کی بلوچستان اسمبلی میں2نشستیں ہیں۔دوسری جانب وفاقی حکومت نے نئے وزیراعلیٰ کیلئے بلوچستان عوامی پارٹی امیدوارکی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ وزیر دفاع پرویز خٹک نے کہا کہ بلوچستان عوامی پارٹی کے امیدوار کی حمایت کریں گے۔علاوہ ازیں جام مخالف بی اے پی اراکین اور اتحادی عبدالقدوس بزنجو کے نام پر متفق نہ ہوسکے ، نئے قائد ایوان کے لئے نوابزادہ طارق مگسی کا نام بھی سامنے آیا جبکہ اپوزیشن کی جانب سے بھی اب تک کوئی فیصلہ نہ کرسکی ۔سرداریارمحمد رندکے گھر جام کمال اوراتحادیوں کی بیٹھک ہوئی جس میں ناراض اراکین، اپوزیشن اور سابق وزیر اعلیٰ کے اتحادیوں کی الگ الگ مشاورت کی گئی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں