36

عدالتیں سعد رضوی کو رہا کرتی ہیں تو کوئی اعتراض نہیں ہوگا،وزیراعظم عمران خان

اسلام آباد(نیوزمارٹ ڈیسک) وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ عدالتیں سعد رضوی کو رہا کرتی ہیں تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔وزیراعظم سے 31 سے زائد علماء نے ملاقات کی۔ ملاقات میں ثروت اعجاز قادری، پیر خالد سلطان باہو، پیر عبدالخالق، ڈاکٹر محمد زبیر، حامد سعید کاظمی، پیر محمد امین، پیر خواجہ غلام قطب فرید، پیر نظام سیالوی، صاحبزاہ حافظ حامد رضا ، مفتی وزیر قادر، میاں جلیل احمد شرقپوری، پیر مخدوم عباس بنگالی، پیر سید علی رضا بخاری، صاحبزادہ حسین رضا سمیت دیگر علماء بھی شریک تھے۔ ملاقات کے دوران وزیر داخلہ نے موجودہ ملکی صورتحال سے متعلق آگاہ کیا گیا، وزیراعظم نے رحمت اللعالمین اتھارٹی سے متعلق آگاہ کیا۔ ملاقات کے دوران کالعدم ٹی ایل پی کے احتجاج سے متعلق اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان کے ساتھ ملاقات کے دوران علماء نے وفاقی وزراء کے بیانات پر اعتراضات کرتے ہوئے کہا کہ بیانات مذاکرات کو سبوتاژ کرسکتے ہیں، وزیراعظم وزراء کو اس معاملہ پر سخت بیانات دینے سے روکیں۔ ذرائع کے مطابق ملاقات کے دوران علماء کرام نے سعد رضوی کی رہائی سے متعلق بات کی تو حکومت نے فیصلہ عدلیہ پر چھوڑ دیا۔وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ اگر عدالتیں سعد رضوی کو رہا کرتی ہیں تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہوگا، فرانس کے سفیر کو نکالنا مسئلے کا حل نہیں، دنیا کو توہین رسالتﷺ سے متعلق سمجھانا ہوگا، دنیا کو بتانا ہوگا توہین رسالت سے اربوں مسلمانوں کے دل دکھتے ہیں، عشق رسول سارے مسلمانوں میں موجود ہے، حکومت لانگ مارچ پر تشدد نہیں کرنا چاہتی، فائرنگ مظاہرین کی جانب سے کی گئی، پولیس نے تشدد کا راستہ نہیں اپنایا۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے مذہبی امور نور الحق قادری نے کہا کہ 12 رکنی کمیٹی بنا دی گئی ہے، جو حکومت اور کالعدم ٹی ایل پی کے ساتھ مذاکرات کو آگے بڑھائے گی۔ تمام علماء کرام ملک کی بڑی شخصیات ہیں۔ علمائے کرام نے پر امن حل کے لیے بھرپور تعاون کا اعلان کیا۔ مظاہرین سے درخواست ہے صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں۔ ریاست کی عملدراری پر سمجھوتہ نہیں ہو گا۔ن کا کہنا تھا کہ وزیراعظم ہر کرائسس سے نکلنا جانتے ہیں، ان کی باڈی لینگویج میں ہمیشہ سکون ہوتا ہے، وہ پر امید ہیں جلد کوئی راستہ نکلے گا، رٹ کی بحالی کے لئے ریاست کا اپنا موقف ہے، مظاہرین کے نقصان اور پولیس کے شہداء کے ساتھ ہیں۔ وزیراعظم نے امید کا اظہار کیا مذکرات کا نتیجہ نکلے گا۔صاحبزادہ حامد رضا نے کہا کہ وزیراعظم سے ملاقات ہوئی ہے، وزیراعظم نے بتایا ہے وہ کوئی خون خرابا نہیں چاہتے لیکن ملکی سلامتی اور حکومتی رٹ پر بھی کمپرومائز نہیں کیا جا سکتا، مظاہرین سے درخواست ہے وہ تشدد کا راستہ اختیات نہ کریں، مذاکرات کی کامیابی تک اگر آگے نہیں بڑھتے تو کوئی تشدد نہیں ہوگا۔پنجاب حکومت کے ترجمان حسان خاور نے کہا ہے کہ ٹی ایل پی کے احتجاج سے ملکی معیشت کو اربوں کا نقصان ہو رہا ہے، امسال دھرنے سے تاحال پونے 4 ارب کا نقصان ہو چکا ہے، کالعدم تنظیم 2017 سے تاحال 35 ارب سے زائد کا نقصان پہنچا چکی ہے، جب کہ مسلح افراد کی فائرنگ سے ڈیوٹی پر موجود 4 پولیس اہل کار شہید اور ڈھائی سو سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ مظاہرین نے تاحال تقریباً 360 گاڑیوں کو شدید نقصان پہنچایا، سڑکوں کی بندش سےسبزیوں اور پھلوں کی منڈیوں تک ترسیل معطل ہے، اربوں کاسامان سڑکوں پر کھڑے ٹرکوں میں خراب ہو رہا ہے۔ شر پسند عناصر کے خلاف 620 ایف آئی آرز درج کی جا چکی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں