41

جڑواں شہرں کو ملانے والی مرکزی شاہراہ مری روڈ کے دونوں اطراف کئی روز سے معطل معمولات زندگی بحال ہوگئی۔

راولپنڈی(نیوزنیوزمارٹ ڈیسک) راولپنڈی میں دس روز بعد زندگی معمول پر آگئی۔ مرکزی شاہراہ مری روڈ سے تمام روکاٹیں ہٹنے پر شہریوں نے اطمینان کا اظہار کیا۔ تجارتی مراکز اور اسکول کھل گئے۔جڑواں شہرں کو ملانے والی مرکزی شاہراہ مری روڈ کے دونوں اطراف کئی روز سے معطل معمولات زندگی بحال ہوگئی۔

راولپنڈی ٹریفک پولیس نے گزشتہ رات ہی تمام روکاٹوں کو ہٹا دیا تھا جس کے بعد صدر مری روڈ تا فیض آباد تک ٹریفک بحال ہوگئی جبکہ راولپنڈی میں کئی روز سے بند میڑو بس سروس اور بین الضلاعی روٹس پر چلنے والی پبلک ٹرانسپورٹ بھی بحال ہونے سے عوام نے سکھ کا سانس لیا۔ دوسری جانب راولپنڈی سے لاہور اور لاہور سے راولپنڈی چلنے والی ٹرینیں تا حال بحال نہ ہو سکیں۔علما کے ساتھ مذاکرات کے بعد حکومت کے کالعدم ٹی ایل پی کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کے اہم نکات سامنے آگئے۔ معاہدے کے مطابق کالعدم ٹی ایل پی لانگ مارچ ختم کر دے گی جبکہ آئندہ لانگ مارچ یا دھرنا نہیں دیا جائے گا۔مذاکرات میں یہ بھی طے پایا کہ کالعدم ٹی ایل پی کے رہنما سعد رضوی کی رہائی سے متعلق فیصلہ عدالتیں کریں گی، اس معاملے میں حکومت کوئی رکاوٹ نہیں ڈالے گی، کارکنوں کی رہائی قانونی طریقہ کار کے تحت ہوگی۔معاہدے میں اتفاق کیا گیا کہ کالعدم ٹی ایل پی کو سیاسی سرگرمیوں کی اجازت ہوگی۔ کالعدم ٹی ایل پی کے کارکن آئندہ پر امن رہیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں