18

اَن پڑھ نوجوان جو ’سلمٰی‘ کی کام یابی کی وجہ بنا!

پاکستان کی فلمی دنیا میں سن ساٹھ کے عشرے کا آغاز ایک دل چسپ فلم سے ہوا۔ مصنّف تھے نذیر اجمیری، فلم ساز اور ہدایت کار تھے اشفاق ملک اور فلم کا نام تھا ’سلمٰی۔‘

اس میں اگرچہ بہار، اعجاز، یاسمین، اے شاہ شکار پوری اور طالش جیسے ہِٹ اداکار موجود تھے لیکن بنیادی طور پر یہ علاؤالدّین کی فلم تھی جنھوں نے ایک بدھو اور اَن پڑھ نوجوان کا کردار ادا کیا تھا، لیکن ایسا بدھو جو کبھی کبھی بڑے پتے کی بات کہہ جاتا ہے۔

علاؤ الدّین کی تعلیم کے لیے منشی شکار پوری کو ملازم رکھا جاتا ہے، لیکن جب وہ الف۔ بے کی پٹی شروع کرتا ہے تو علاؤالدّین اُس سے کہتے ہیں ’ ماسٹر جی ’الف‘ سے لے کر ’ی‘ تک تو مجھے معلوم ہے، ذرا یہ بتائیے کہ الف سے پہلے کیا ہوتا ہے اور ’ی‘ کے بعد کیا آتا ہے۔‘

منشی یہ سُن کر چکرا جاتا ہے اور علاؤالدّین کی ذہانت کا ایسا قائل ہوتا ہے کہ ساری فلم میں اس کی عقل مندی کے گُن گاتا رہتا ہے۔ اس کے منہ سے تعریفیں سن کر ایک پڑھی لکھی معزّز خاتون کا رشتہ علاؤالدّین کے گھر پہنچ جاتا ہے۔

ظاہر ہے یہ ایک اَن مِل بے جوڑ رشتہ ہے، لیکن سلمٰی (بہار) فیضو (علاؤالدین) کی سادگی اور بھولپن سے بہت متاثر ہوتی ہے۔ شادی کے بعد پہلا منظر یہ دکھایا جاتا ہے کہ علاؤ الدّین تختی لکھ رہے ہیں اور بہار ان کی ٹیچر بنی ہوئی ہیں۔

مرکزی کردار کی سادگی اور بھولپن اس فلم کی اصل جاذبیت تھی۔ لطف کی بات یہ ہے کہ فلم سلمٰی اس سے پہلے ’شاردا‘ (1942ء) کے نام سے بھی بن چکی تھی اور ہٹ ہوئی تھی۔ اُس زمانے میں علاؤالدین والا کردار واسطی نے ادا کیا تھا۔

لیکن اس سے بھی زیادہ مزے کی بات یہ ہے کہ 1942ء اور 1960ء کی کام یابیوں کے بعد یہی کہانی 1974ء اور 1980ء میں بھی آزمائی گئی اور اسے دونوں مرتبہ زبردست کام یابی حاصل ہوئی۔

1974ء میں تو اشفاق ملک ہی نے اسے پنجابی کے روپ میں ڈھالا اور’بھولا سجن‘ کا نام دیا۔ اس میں بھولے سجن کا کردار اعجاز نے ادا کیا۔ 1980ء میں یہ کہانی ہدایت کار جاوید فاضل کے مشّاق ہاتھوں میں پہنچی۔ انہوں نے اسے’صائمہ ‘ کے نام سے فلمایا اور بھولے بھالے ہیرو کے لیے ندیم کا انتخاب کیا۔

اس کہانی کی متواتر کام یابیوں کا راز اس کے ہیرو کی شخصیت میں مضمر ہے۔ ایک ان پڑھ شخص، پڑھے لکھے لوگوں کے دُنیا میں اکیلا، بے سہارا اور بے یارو مددگار ہے اور اسی لیے ناظرین کی ہم دردی کا مستحق ہے۔ ساٹھ پیسنٹھ برس پہلے فلم بینوں نے ہم دردی کے جو پھول واسطی پہ نچھاور کیے تھے وہی بعد میں علاؤالدین، اعجاز اور ندیم پہ لٹائے گئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں