19

انسانیت کی تلاش (تحریر:عمران محمود ای میل:manihemani@gmail.com)

انسانوں کے بے تحاشہ ہجوم میں انسانیت گم گئی ہے۔ ہر انسان خود غرض ہو چکا ہے۔ اپنے مقصد اور خوشی کے حصول کے لیئے دوسروں کی قربانی دینا عام معمول بن چکا ہے۔ جس دین نے ہمیں شناخت دی، اس دین پر ہم برائے نام چل رہے ہیں۔ ایسا کامل دین کہ زندگی کی ہر چیزاورہر ہر پہلو کے بارے میں ہماری رہنمائی فرمائی۔ جیسے اللہ یکتا، ویسے ہی اس کا حبیب ﷺ بھی مخلوقات میں اکیلا اور یکتا۔ اسی طرح دینِ محمدیﷺ بھی منفر، یکتا اور عظیم۔ لیکن، افسوس کرنے کے علاوہ کوئی بھی رستہ نہیں کہ ہم حضور پاکؐ کی پاکیزہ زندگی سے کوسوں دور ہیں۔ اسی لیئے ہماری زندگیاں اجیرن بن چکی ہیں۔
بابا جی واصف علی واصفؒ کا قول ہے کہ،اگر اللہ سے مانگنا پڑے تو اللہ کے محبوب ؐکی محبت مانگواور اللہ کے حبیب ؐ سے کچھ مانگنا پڑے تو اللہ کی یاد مانگو۔ ایک اور جگہ فرمایا کہ، جس شخص کو حضور پاکؐ کی محبت عطا ہو گئی تو یہی جنت ہے۔ افسوس صد افسوس، ہماری چاہت تو اس کے برعکس ہے۔ہمیں صرف دنیا کی چاہت ہی ہے۔ہم سب دنیاوی آسائشوں کے پجاری اور اسیر ہیں۔
اپنے سکون کے لیئے ہم نے اوروں کا سکون برباد کیا ہے۔ اپنی اور اپنے جیسے خاص لوگوں کی خوشی اور حصول ِ مقصد کے لیئے کبھی کس کمزور کو قربان کر دیا ہے تو کبھی کس کو۔ ہم نے طاقتوروں اور اپنوں کو آزاد چھوڑا ہوا ہے اور کمزور و غریب کوبوجھ تلے دبایا ہوا ہے۔ ہم نا انصافی کی تمام حدیں پار کر چکے ہیں۔ انسان کا درجہ مذہب سے بھی اوپر ہے اور انسانیت کا درجہ اس سے بھی۔ ہمیں ہر انسان کے ساتھ بھلائی کرنے کا حکم ہے۔ ہمارا یہی منفر عمل غیر مسلموں کو اسلام کی طرف لا سکتا ہے۔لیکن ہم نے انسان کو بھی شرمندہ کیا اور انسانیت کو بھی۔ مذہب سب کا ذاتی معاملہ ہے اور سب نے فرداََ فرداََ اس کا حساب دیناہے۔ انسانیت کا معاملہ سب کا سانجھا ہے اور سب نے اس کا حساب دینا ہے۔
ہم نے قانون کو ہاتھ میں لیا۔ ہم نے قانون توڑا۔ ہم نے غلط ڈرائیونگ کی۔ تیز رفتار رکھی۔ بے ترتیبی سے گاڑی چلائی جس سے اگلی اورارد گرد کی گاڑیوں کو لگی۔ اگلی گاڑیوں نے موٹر سائیکل سوار نوجوان کو کچل ڈالا۔ پیدل چلنے والے اور فٹ پاتھ کے قریبی لوگ بھی لقمہ ِ اجل بنے۔ کتنے ہی معصوم بچے اس حادثے کی زد میں آئے۔ اس حادثے میں سب سے زیادہ قصورہمارے اداروں کا ہے جنہوں نے برق رفتار گاڑی کو نہ روکا، اس کے ڈرائیور کو سزا اور جرمانے نہیں کیئے۔ اس کی غلط ڈرائیونگ نے کتنوں کی جان لے لی۔ کاش ہمارے ادارے مخلص اور مضبوط ہوتے۔ جہاں رش ہو وہاں ٹریفک وارڈن کم ہی دکھائی دیتے ہیں۔ یہ میرا مشاہدہ ہے جو کہ غلط بھی ہو سکتا ہے۔ لیکن اندرون ِ شہر گھنٹوں ٹریفک جام اور نظام مفلوج رہتا ہے۔کتنے ہی مریض رش کے باعث ایمبولینس میں ہی دم توڑ دیتے ہیں۔ اندرون شہر پنڈی میں عجیب بات دیکھنے میں آتی ہے کہ رش اور ٹریفک جام میں موٹر سائیکل سوار، موٹر سائیکل کو فٹ پاتھ پر چڑھا دیتے ہیں اور پیدل چلنے والوں کو ہارن پر ہارن دیتے ہیں۔سمجھانے یا منع کرنے پرلڑائی جھگڑے پر اتر آتے ہیں۔ اگر میرے ملک کا نظام مضبوط ہوتا تو ایسے قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کو جراٗت نہ ہوتی۔
ہم نے دفاتر میں ڈیلنگ کرتے ہوئے بھی غریب و کمزور کونظر انداز کیا۔ ان کو گھنٹوں انتظار کروایا۔ جبکہ امرا اور طاقتوروں کے کام گھر بیٹھے ہو جاتے ہیں۔ ہم بددعائیں اکٹھی کرتے جا رہے ہیں۔ کسی کی ایک بددعا اور آنکھ سے نکلا ہوا آنسو ہماری زندگی اور آخرت کا بیڑا غرق کر سکتا ہے۔ اس کے برعکس ہمارا لوگوں کے ساتھ اچھے برتاؤ اور کسی کی دعا، ہماری زندگی اور آخرت کا بیڑا پار کر سکتی ہے۔
مجھے یاد ہے کہ ایک بار کسی دفتر میں کام تھا۔دفتر سے چھٹی تھی تو گھر والے عام کپڑے پہن کر اس دفتر گیا۔ کسی نے سیدھے منہ بات تک نہ کی حتیٰ کہ باہر کھڑا گارڈ بھی بداخلاقی سے پیش آیا۔مجھے لگا کہ زندگی سے وہ سب بیزا ر ہیں۔ بطورِ بشر مجھے بڑا غصہ بھی آیا۔ دو تین دن بعد صاف ستھرے کپڑے اور ویسٹ کوٹ پہن کرمیں پھر اسی دفتر گیا۔ یقین جانیں سکیورٹی گارڈ اخلاق سے پیش آیا، عزت کے ساتھ اندر لے کر گیا، اندر جو سٹاف تھا اس نے بھی ایسے ڈیل کیا جیسے میں کوئی بہت بڑاآدمی تھا۔ہمارے نمازیں حج بھی جاری ہیں لیکن۔۔۔یہ ہے ہمارا انسانیت کے ساتھ برتاؤکا معیار۔ یہ ہے آج کا انسان۔
ہم نے جھوٹ بولے۔ بددیانتی کی۔ فرائض سے غفلت برتی۔ لوگوں کا حق مارا۔ حرام روزی کی طرف مائل رہے۔ کہاں ہے دین؟ کہاں ہے ہماری انسانیت۔ ہم نے کم تولا۔ ناقص مال بیچا۔ ناپ تول میں گڑ بڑ کی۔ اس ملک کو ہم نے نقصانات پر نقصانات پہنچائے۔ہم براہِ راست اپنا اور اپنی آنے والی نسلوں کے نقصان و تباہی کا باعث بن رہے ہیں۔ ایک بہت بڑا جھوٹ کہ ہم سب محب وطن ہیں۔ ہم نے کبھی اس ملک کے مفاد کا تو سوچا نہیں پھر محب ِ وطن کسے؟؟؟
ہم نے باپ کو مارا۔ ماں کو گالی دی۔ بہنوں کے حق کھائے۔ بیوی پر ہاتھ اٹھایا۔اووروں کو حقارت کی نظر سے دیکھا۔ خود کو سب سے افضل جاجان۔ ہم نے اپنی تھوڑی سی جلدی کے لیئے اوروں کا رستہ روکا۔ ہم نے بزرگوں پر ہاتھ اٹھائے۔ ہم نے بچوں کو ذبح کیا۔ہمارا کوئی بھی عمل حضور پاک ؐکی مبارک سیرت سے مطابقت نہیں رکھتا۔ کون سا جرم ہے جو ہم نہیں کر رہے؟ کس منہ سے سے ہم عاشقِ رسولؐ ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ ہم میں سے کوئی بھی اس کا سچا جواب نہیں دے سکتا۔ ہر طرف دین سے دوری ہے۔ آخری منزل موت ہے۔ لیکن کسے فکر؟ ہر انسان کسی نہ کسی شکل میں دوسرے انسان کو کاٹ رہا ہے۔ ہم نے بے گناہ معصوموں کی جانیں لیں۔ ہم نے اپنے پیارے آقاؐ کی زندگی اور سیرت مبارک نہیں پڑھی۔ ہمارا دین ایما ن صرف روپیہ پیسہ، گاڑی، بنگلے، بینک بیلنس، عہدے اور طاقت تک محدود ہو گیا ہے۔ ایک اوربہت بڑا جھوٹ کہ ہم سب عاشقِ رسول ؐ ہیں جبکہ ہم نے حضورپاکؐ سے بے وفائی کی ہے۔ہم خود کو دھوکہ دے رہے ہیں۔ ہر انسا ن دوسرے کو یہ باور کروانے میں لگا ہے کہ وہ صحیح اور پارسا ہے۔ اس سب میں دکھاوا بہت کردار ادا کر رہا ہے کیونکہ ہم کسی کا باطن نہیں جانچ سکتے۔ مشاہدات اور اللہ کی عطا سے ہم چیزوں کو پرکھ سکتے ہیں۔ اور یہ عطا اللہ اور اس کے حبیب ؐ کی محبت سی نصیب ہوتی ہے۔
انسانیت کی تلاش کے بعد ہی انسان رب تک پہنچ سکتا ہے۔ کائنات کا موضوع بھی انسان ہے اور قرآن کا بھی۔ انسا ن کے ساتھ اچھابرتاؤ ہی انسانیت ہے۔انسانیت کے درد سے نا آشنا انسان کائنات کے راز کبھی نہیں پا سکتا۔ اپنی طاقت کے مطابق انسانیت کے لیئے آسانیاں اور مدد فراہم کرنی چاہئیں۔ دوسروں کی مدد کرنے والوں کو ضرور اس کا صلہ لوٹا دیا جاتا ہے۔ مخلص کو سہارا بھیج دیا جاتا ہے۔ سچا، حق پا لیتا ہے۔ عاجزضرور، رب اور رسول پاکؐ کی محبت پاتا ہے۔ خدمتِ انسانیت ہی دراصل انسانیت کی معراج ہے۔ انسانیت کی معراج کو باکمال اور عظیم بنانے کے لیئے غلامیِ مصطفیٰؐ اختیار کرنا پڑتی ہے۔ یہی انسانیت کی تلاش کے سب اہم راز ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں