17

مری: برفباری تھم گئی، اہم شاہراہیں کلیئر

ملکۂ کوہسار مری میں برف باری تھمنے پر امدادی کاموں میں تیزی آ گئی ہے، مری کی تمام اہم شاہراہوں کو ٹریفک کے لیے کلیئر کر دیا گیا ہے۔

ترجمان پولیس کے مطابق مری سے رات گئے 600 سے 700 گاڑیوں کو نکالا گیا۔

مری میں شدید برف باری کی وجہ سے 20 سے 25 بڑے درخت گرے، تمام سیاحوں کو رات سے پہلے ہی محفوظ مقامات پر پہنچا دیا گیا تھا۔

گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 500 سے زائد فیملیز کو محفوظ مقام پر پہنچایا گیا۔

سانحہ مری میں جاں بحق افراد کی تعداد 23 ہوگئی

جھیکا گلی سے لوئر ٹوپہ ایکسپریس ہائی وے، لارنس کالج اور کلڈانہ تک ٹریفک کلیئر کر دیا گیا ہے۔

حکام کے مطابق کلڈانہ میں تمام شہریوں کو ریسکیو کر لیا گیا ہے۔

گلیات کی مختلف سڑکوں سے ہیوی مشینری کی مدد سے برف ہٹانے کا کام جاری ہے۔

مری کے علاقے باڑیاں میں اب بھی بڑی تعداد میں گاڑیاں پھنسی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

راولپنڈی پولیس اور ٹریفک پولیس کے 1 ہزار سے زائد اہلکار و افسران نے ریسکیو آپریشن میں حصہ لیا۔

راولپنڈی اسلام آباد سے مری آنے والے راستوں پر پولیس موجود ہے، راستے آج بھی بند رہیں گے۔

مری میں امدادی کاموں میں تیزی آئی ہے لیکن سیاح انتظامیہ کے اقدامات سے مطمئن نہیں ہیں۔

ادھر ملکۂ کوہسار مری میں برف باری کے دوران گاڑیوں میں پھنس کر انتقال کر جانے والوں کی تعداد 22 سے بڑھ کر 23 ہو گئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں