15

آئی ایم ایف سے کب آزاد ہونگے تحریر: منظور احمد طاہر

ہر آنے والی حکومت نے پچھلی حکومت سے زیادہ ملکی قرضوں میں اضافہ کیا۔ موجودہ حکومت جب سے برسر اقتدار آئی تو اس کا بھی دعوی یہی تھا کہ ہم آئی ایم ایف سے قرضہ نہیں لیں گے۔ خودکشی کر لیں گے۔ لیکن یہ حکومت بھی آئی ایم ایف سے پیچھا نہ چھڑا سکی اور قرض لینے کا اثر یہ ہوا کہ آج ملک میں مہنگائی تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہے روپے کی قیمت روز بروز گرتی جا رہی ہے آئے روز بجلی گیس کی قیمتوں میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ حکومت مجبور ہے اس کے پاس آئی ایم ایف کی کڑی شرائط ماننے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔ عوام مفلسی کی چکی میں پس رہے ہیں۔ مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ وہ جو تین وقت کا کھانا کھاتے تھے وہ ایک وقت کی سوکھی روٹی پر آگئے ہیں۔ سفید پوشی کا بھرم ٹوٹ گیا ہے لوگ خودکشیوں پر مجبور ہو رہے ہیں۔ سونے پر سہاگہ یہ حکومت منی بجٹ لا رہی ہے جس میں 360ارب کے مزید ٹیکس لگانے کا پروگرام ہے نیز تمام سبسڈیز کا خاتمہ کیا جائے گا۔ آج سے تین سال قبل اشیاء ضروریہ اور یوٹیلٹی چارجز کا موازنہ آج کی قیمتوں سے کریں تو ہر چیز ڈبل یا اس سے اوپر نظر آئے گی عوام نے وزیر اعظم سے بہت امیدیں وابستہ تھیں کہ شاہد اپنے کئے ہوئے الفاظ پر عمل کرتے ہوئے ہمیں قرضوں سے نجات دلوا دیں گے مگر ایسا کرنے میں ناکام ہو کر رہ گئے۔ موجودہ حکومت بڑے بڑے بلند و بالا دعوے کرتے رہے جو کہ ایک بھی دعوی پورا نہ کر سکے۔ عوام سے بار بار جھوٹ بول کر ایک ہی رٹ لگا رکھی ہے۔ پوری دنیا میں مہنگائی ہے دوسرے ملکوں کا موازنہ کرتے ہیں۔ اپنے ملک کی عوام خوردونوش سے تنگ ہو چکی ہے دوسرے ملکوں کی سہولتوں اور تنخواہوں کا موازنہ نہیں کرتے صرف اپنے غریب عوام کو کیا سہولیات دے رہے ہیں ملک میں نہ گیس نہ بجلی، ضروریات زندگی کے لئے گھریلو صارفین کے لئے سوئی گیس سرے سے بند کر رکھی ہے۔ سلنڈروں کی قیمتوں میں ہر ماہ اضافہ کر رہی ہے۔ پٹرول کی قیمتیں بھی عوام کی پہنچ سے بہت دور ہو چکی ہیں۔ گزر اوقات کرنا بہت مشکل ہو چکا ہے۔ یہ حکومت نالائق ہے صرف عوام پر پہاڑ گرا کر وقت گزار رہی ہے۔ حکومت چلانے کا کوئی تجربہ نہیں۔ یہ حکومت بھی پچھلی حکومتوں کا تسلسل ہی نکلی قوم منتظر ہے ایسی نیک اور صالح قیادت کاجو ملک کو قرضوں سے نجات دلا دے جو آئی ایم ایف کی غلامی سے نجات دلا دے جو عوام پر صحیح معنوں میں حکمرانی کر سکے۔ اور عوام کو حقیقی طور پر خوشحال کر دے۔ جو بھی حکومت بر سر اقتدار آتی ہے وہ جانے کا نام نہیں لیتی ملک کو قرضوں میں جکڑتی جاتی ہے وہ کہتے ہیں کہ مجھ سے اچھی حکومت کوئی نہیں کر سکتا ہے۔ جنرل پرویز مشرف آیا تھا وہ بھی یہی کہہ رہا تھا کہ ڈنڈا میرے پاس ہے فوج میرے ساتھ اللہ کی لاٹھی بے آواز ہے وہ خود بخود غلطی پر غلطی کرتا گیا۔ آخر جانے پر مجبور ہو گیا۔ آج بھی عدالتوں کے کیس بھگتنے پر مجبور ہو کر بھاگ گیا۔ آج کے دور میں حکومتی نمائندے بھی اسی کا گن گائے جا رہے ہیں عوام کا کوئی فکر نہیں مرتے ہیں مریں۔ عمران خان اپنا پنج سالہ لگانے کے چکر میں غریب عوام صبح و شام بد دعائیں دے رہے ہیں۔ اللہ کرے کب اس حکومت سے چھٹکارا ہو گا کیونکہ ملازم طبقہ کم تنخواہ پانے کیسے گزر کریں اس حکومت نے اپنی تنخواہ ہیں تو بڑھا رکھی ہیں۔ ہر ایم این اے ایم پی اے لاکھوں روپے ماہانہ لے رہا ہے۔ انکو غریب کا کوئی احساس نہیں جو حکومتی رٹ احساس پروگرام کی مد میں 12ہزار روپے فی کس دے رہے۔ صحیح معنوں میں حقدار کو حق نہیں ملتا۔ یہ بھی ملک پر قرض بڑھ رہا ہے۔ حکومتی نمائندے سابقہ حکومتوں پر الزام تراشی پر لگے ہوئے ہیں۔ انکو عوام کا کوئی احساس نہیں اپنے دن گزارنے پر لگی ہوئی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں