46

ہوگا کوئی ایسا بھی جو غالب کو نہ جانے

لوگ بھولیں نہ کبھی ایسا تخلص رکھیے
نام تو نام ہے بس نام میں کیا رکھا ہے
گُر کی یہ بات بتانے والے شاعر کا نام ’غوث محی الدین احمد‘ ہے، تاہم دنیا انہیں نام سے نہیں بلکہ اُن کے اچھوتے تخلص ’خواہ مخواہ‘ سے جانتی ہے۔
’خواہ مخواہ‘ کے لفظی معنی کیا ہیں اور عام بول چال میں یہ کن معنی میں برتا جاتا ہے، اس کا ذکر کسی اور نشست کے لیے اٹھا رکھتے ہیں، فی الوقت لفظ ’تخلص‘ پر بات کرتے ہیں۔
’تخلص‘ عربی زبان کا لفظ ہے، اس کے لفظی معنی ’نجات پانا یا آزاد ہونا‘ کے ہیں، پھر اسی رعایت سے ’جُدا ہونا‘ بھی اس کے مفہوم میں داخل ہے۔
’تخلص‘ بنیادی طور پر ’خالص‘ سے متعلق ہے، اور خالص کے معنی ’بے کھوٹ اور کھرا‘ کے ہیں۔ معنی کی یہی رعایت اِس سے مشتق الفاظ مثلاً خلوص، اخلاص اور مخلص میں بھی پائی جاتی ہے۔ اس سلسلے کا ایک لفظ ’خلاصہ‘ بھی ہے۔
’خلاصہ‘ کے معنی کسی بھی چیز کے مغز اور جوہر کے ہیں۔ کسی مضمون یا گفتگو کے خلاصہ کا مطلب اس کا ’حاصل کلام‘ بیان کرنا ہوتا ہے۔ ’خلاصہ‘ کے معنی میں ’ماحصل، لُبِ لُباب اور بہترین‘ بھی شامل ہیں۔
معنی و مفہوم کی مناسبت سے خلاصہ کو غلط طور پر ’ملخص و تلخیص‘ کا ہم جنس سمجھا آتا ہے۔ غور کریں تو ’خلاصہ‘ کا مادہ ’خلص‘ جب کہ ’تلخیص و ملخص‘ کا مادہ ’لخص‘ ہے۔ یعنی ان دونوں مادوں کے بنیادی لفظ یکساں تو ہیں مگر ان کی ترتیب میں اختلاف ہے۔
’ملخص اور تلخیص‘ کے معنی میں اختصار داخل ہے، اسی لیے عربی میں بات مختصر کرنا ’لَخَّصَ القَولَ‘ کہلاتا ہے۔ اس کے علاوہ جو گفتگو یا تحریر بصورت تلخیص بیان کی جائے وہ مختصر تو ہو سکتی ہے، تاہم ضروری نہیں کہ اس میں ’حاصل کلام‘ بھی پایا جائے۔
خلاصہ اور ملخص و تلخیص کے مابین اس جوہری فرق کے باوجود اردو میں یہ الفاظ باہم مترادف برتے جاتے ہیں۔ اس سے پہلے کہ واپس ’تخلص‘ پر آئیں ’خلاصہ‘ کی رعایت سے عبد الحمید عدم کا ایک خوبصورت شعر ملاحظہ کریں:
بس اس قدر ہے خلاصہ مری کہانی کا
کہ بن کے ٹوٹ گیا اک حباب پانی کا
اصطلاحی معنی میں ’تخلص‘ شاعر کا وہ مختصر نام ہوتا ہے جسے وہ اپنے اشعار میں اصل نام کی جگہ استعمال کرتا ہے۔ اس کے علاوہ شعر و ادب ہی میں خلاصۂ مقصد، گریزِ اور ایک مضمون سے دوسرے مضمون کی طرف منتقل ہونا بھی ’تخلص‘ کہلاتا ہے۔
شعراء کی ایک بڑی تعداد ایسی ہے جن کا نام ہی ان کا ’تخلص‘ ہے۔ ان میں نمایاں ترین نام انشاء اللہ خان، علامہ محمد اقبال اور فیض احمد کا ہے، جن کا تخلص بالترتیب ’انشاء، اقبال اور فیض‘ ہے۔ تاہم شعراء کی غالب اکثریت نام سے مختلف تخلص استعمال کرتی آئی ہے۔
کتنے ہی شعراء ایسے ہیں جن کا تخلص ان کی دلی کیفیت کا ترجمان ہے، اس بات کو ہم ’آبرو، آرزو، درد، بیخود، بسمل، فانی، داغ، جگر، ذوق، عدم، نشتر، شعور، مینائی، محروم، شفا، شاد، وجد، کیفی، قتیل، بے کل، ساحر اور ساغر‘ وغیرہ جیسے تخلص میں دیکھ سکتے ہیں۔
’تخلص‘ کے باب میں یہ بات بھی حیران کن ہے کہ بعض شعراء کا ایسا شہرہ ہوا کہ ان کا ’تخلص‘ ان کے اصل نام سے آگے نکل گیا۔ بے مثل شاعر بے مثال نثرنگار ابن انشاء سے سب واقف ہیں مگر کتنے لوگ ہیں جو یہ جانتے ہیں کہ ابن انشاء کا نام شیر محمد تھا۔ یہی معاملہ شبیر حسن خان اور سید احمد شاہ کا ہے جنہیں دنیا ان کے ناموں کے برخلاف بالترتیب ’جوش ملیح آبادی‘ اور ’احمد فراز‘ کے نام سے پہنچانتی ہے۔
شعراء میں کچھ ایسے بھی ہیں جنہوں نے پہلے ایک تخلص اختیار کیا اور پھر کسی بھی وجہ سے اسے ترک کردیا اور ایک نئے تخلص کے ساتھ طلوع ہوئے۔
ایسے شعراء میں ایک نام میرزا اسد اللہ خان غالب کا ہے، جو پہلے اپنے نام ہی کی رعایت سے ’اسد‘ تخلص کرتے تھے۔ اس تخلص کی یادگار کتنی ہی غزلیں آج بھی ان کے دیوان کا حصہ ہیں۔ مثلاً ایک شعر ملاحظہ کریں:
ہے اب اس معمورے میں قحطِ غم الفت اسدؔ
ہم نے یہ ماناکہ دلی میں رہیں کھاویں گے کیا؟
کہتے ہیں کہ میرزا کے سامنے کسی نے یہ شعر پڑھا:
اسد اس جفا پہ بتوں سے وفا کی
میرے شیر شاباش رحمت خدا کی
اور اسے میرزا سے منسوب کرتے ہوئے داد بھی دے ڈالی۔ میرزا نے فوراً اس نامعقول شعر سے اعلان برات کردیا بلکہ یہ بھی کہا کہ ’اگر یہ میرا مطلع ہو تو مجھ پر لعنت، بات یہ ہے کہ ایک شخص میر مانی اسد ہو گزرے ہیں اور یہ غزل انہی کے شاندار کلام کا نمونہ ہے۔‘
اس واقعہ کے بعد میرزا کو احساس ہوا کہ ایسی کتنی ہی واہیّات غزلیں جو ‘اسد’ کے تخلص سے مزّین ہیں، ان کے کھاتے میں ڈال دی جائیں گی، لہٰذا اس صورتحال سے بچنے کے لیے انہوں نے ’اسد‘ ترک کر کے ’غالب‘ تخلص اختیار کیا۔ جس کے بعد صورتحال یہ ہے کہ:
ہوگا کوئی ایسا بھی کہ غالبؔ کو نہ جانے
کم لوگ واقف ہوں گے کہ احمد فراز نے آغاز شاعری میں ’شرر برقی‘ تخلص اختیار کیا تھا، مگرایک چھوٹۓ سے واقعے نے انہیں اس تخلص سے دستبردار ہونے پر مجبور کردیا۔ واقعہ یہ ہے کہ ایک بار ان کے دوست نے کہا کہ ’آج رات بھر نیند نہیں آئی نلکا کُھلا ہوا تھا اور ساری رات پانی ’شرر شرر‘ بہتا رہا۔‘ احمد فراز کے لیے ‘شرر شرر’ کا صوتی اثر سوہان روح ثابت ہوا یوں اگلے ہی روز ‘شررؔ برقی’ احمد فراز بن گیا تھا۔
اب تخلص کی رعایت سے عہدِ مغلیہ کا ایک مختصر و دلچسپ واقعہ ملاحظہ کریں۔ یہ واقعہ ایک مکالمے کا ہے جو اکبر کے نورتن میں سے ایک ابوالفیض فیضی اور نامور ایرانی شاعر ’عرفی‘ کے درمیان ہوا۔
واقعہ یوں ہے کہ ایک دفعہ فیضی بیمار تھا، عرفی عیادت کو گیا۔ فیضی کو کتوں کا بہت شوق تھا، عرفی نے دیکھا کہ فیضی کے ارد گرد پلے سونے کے پٹے پہنے گھوم رہے ہیں۔ عرفی نے کہا، مخدوم زادوں کا کیا نام ہے۔ فیضی نے کہا ان کا نام ‘عرفی’ ہے یعنی کچھ خاص نہیں ہے۔ عرفی نے ترنت جواب دیا ‘مبارک’ ہو۔ واضح رہے کہ ‘عرفی’ شاعر کا تخلص اور ‘مبارک’ فیضی کے والد کا نام تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں