13

ملوٹ ایجوکیشنل ٹرسٹ اینڈ کمپیوٹر سینٹر

تحریر۔۔راجہ شہزاد معظم
اپنے لئے تو سبھی جیتے ہیںاس جہاں میں۔۔
مزہ تو تب ہے کہ اوروں کے کام آئے زندگی
محترم خواتین و حضرات شیکسپئر کہتے ہیں یہ دنیا ایک تھیٹرکی مانند ہے اس میں لوگ اپنی اپنی اپنی باری پر آتے ہیں اور اپنا کردار ادا کرتے ہیں اور اس جہان فانی سے ہمیشہ رہنے والی ابدی زندگی کی طرف کوچ کر جاتے ہیں۔اس کے بقول جس شخص نے اس مختصر سی آزمائش کے دورانیہ میں اچھے اور مثبت کام کئے وہ تاابد فانی ہو کر رہ جاتا ہے۔ اور جس نے شومئی قسمت سے برائیوں،حق تلفیوں اور اور دوسروں کی جان،مال عزت و آبرو کو نقصان پہنچایا وہ تاریخ کے صفحات سے مٹ کر رہ جاتا ہے۔حتیٰ کے اس کے عزیز و اقارب بھی اس کو چند مہینوں اور سالوں کے بعد فراموش کر دیتے ہیں اور وہ یوں قصی پارینہ بن جا تا ہے۔
تمہید اس لئے باندھنا پڑی کہ آج بھی ہمارے وطن عزیز میں بے شمار ایسے ملائکہ صفت اشخاص موجود ہین جو بنا کسی دنیاوی نمود و نمائیش اور بغیر کسی لالچ،طمع و حرس کے انسانیت کی خدمت کے عمل میں شب و روز مصروف ہیں۔ وہ بغیر اس پرواہ کے دنیا والوں سے اس کا کوئی creditلیں گے محض خدا وند تعالیٰ کی خوشنودی کے لئے دن و رات انسانیت کی خدمت کو اپنا شعار بنائے ہو ئے ہیں۔مجھے یہ قلمبند کرنے میں ہچکچاہٹ ہوتی ہے کہ ہمارے گاﺅں پیل،ٹحصیل دھیرکوٹ ضلع باغ کے ایک درویش منش انسان اعلی تعلیم یافتہ اور دور جدید کے کم و بیش تمام معاملات پر نظر عمیق رکھنے والے ایک مرد جری بیرسٹر محمد اسحٰق خان اس گاﺅں پیل کی ذرخیز مٹی میں تولد پذیر ہوئے۔ انہوں نے زندگی کے ابتدائی ایام انتہائی تنگ دستی اور کسمپرسی کے حالت میں گزارے ،لیکن اس مرد جری نے ہمت و حوصلے کو اپنا ہتھیار بنایا اور اور یہ ثابت کر دکھایا کہ حالات چاہے کتنے ہی ناگفتہ بہ کیوں نہ ہوں اگر لگن سچی ہو تو انسان جیسے سلیم الفطرت اور اشرف المخلوقات جیسی شخصیت کے لئے مشکلات کوئی معنی نہیں رکھتی۔
بیرسٹر محمد اسحٰق خان نہ صرف اس علاقے کی آئیڈیل شخصیت ہیں بلکہ اگر میں یہ کہوں کہ میرے لئے ان کی شخصیت زندگی کے ہر موڑ پر جب بھی میں کہیں بھٹکنے والا ہو تا ہوں تو چراغ کی مانند ہوتی ہے۔قارئین!۔۔۔تایا محترم (محمد اسحٰق خان) absolutelyسیلف میڈ انسان ہیں۔ انہوں نے کام ،کام اور کام کو اپنا منشور بنا اور یہی وجہ ہے کہ وہ آج نہ صرف راجپوت برادری،آزاد کشمیر بلکہ سارے پاکستان میں ایک پہچان رکھتے ہیں۔انتہائی معامل فہم،غریب پرور اور دوسروں کے دکھ درد کو ذاتی دکھ سمجھنا خدا نے ان کی فطرت میں ودیعت میں کر رکھا ہے۔
مجھے ان کے کار ہائے نمایاں تحریر کرتے ہوئے جھجک محسوس ہوتی ہے لیکن میں سمجھتا ہوں کی اگر ان کے چیدہ چیدہ فلاحی کاموں کا ذکر نہ کیا جائے تو یہ قلم و قرطاس کے ساتھ زیادتی ہو گی۔ یہ بات بالکل عیاں ہے کہ وہ جو بھی فلاحی کام کرتے ہیں وہ بغیر کسی نام و مود اور اور ریا کاری کہ کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک نیکی اور اچھے پراجیکٹس محض نوجواں نسل کو educate کرنے کے لئے اور غرباء،مساکین اور دکھ درد کے ماروں کو ایک اوسط شہری کے لیول تک پہچانا ہے۔
تا یا جہ موصوف نے سب سے پہلے جامعہ مسجد پیل جو کہ ڈوگرہ دور سے قائم تھی کی شاندار طریقے سے تعمیر کی ۔ جو اس وقت کی ایک ایسی مسجد تھی جو اگر میں مبالغہ نہیں کر رہا تو اس طرح کی مسجد تحسیل دھیرکوٹ میں کسی بھی جگہ موجود نہ تھی۔ لیکن بد قسمتی سے آٹھ اکتوبر 2005کے تباہ کن زلزلے میں شہید ہو گئی۔اس کے علاوہ انہوںنے یہاں کے لوکل سکولز اور ان تمام بچوں کی ذاتی طور پر کفالت کی جو تعلیمی اخراجات اور learning material کسی بھی صورت میں affordنہیں کر سکتے تھے۔ اس کے علاوہ ان کے بے تحاشہ فلاحی کام ہیں جن کا تعلق ان کی ذات اور سفید پوش لوگوں کی مالی اعانت سے ہے،جس کو قلمبند کرنا کسی صورت نا منا سب ہے۔
اس کے بعد انہوں نے سب سے پہلے آزاد کشمیر کی سب سے بڑی لائبریری اپنے استاد محترم سردار عبدالعزیز مرحوم ملوٹی کے نام سے تعمیر کرنا شروع کی جس میں اگر میں غلط نہی تو تین لاکھ سے زائد کتب جو کہ تقریبا دنای کے ہر موضوع پر موجود ہیں ،کا انتظام کیا گیا ہے۔اس لائبریری کے قیام سے بچے،بوڑھے،مرد و زن اور ہر طبقہءفکر سے تعلق رکھنے والے افراد مستفید ہو رہے ہیں۔یہ تایا جی مرحوم کے لئے رہتی دنیا تک صدقہ جاریہ رہے گا۔ہماری نوجوان نسل کتاب سے بہت دور ہو چکی تھی لیکن تایا جی نے صرف دو کلو میٹر کے فاصلے پر تمام مرد وزن کے لئے علم کی چاہے جو بھی جہت ہو اس پر مفید کتب مہیا کر کہ نوجوانوں کو دینا سے مقابلہ کرنے کے لئے علم کا ہتھیار مہیا کر دیا ہے تا کہ وہ نہ صرف نصابی معلومات حاصل کر سکیں بلکہ مقبلہ جات کے Examsمیں بھی ان کتب سے فیض حاصل کر کہ ملک کے کلیدی عہدوں پر فائز ہو سکیں۔
یہی نہیں بلکہ چونکہ آج دنیا گلوبل ویلج بن چکی ہے اس لئے بیرسٹر محمد اسح¾ق خان نے ایک شاندا کمپیوٹر لیب کا کام بھی شروع کر دیا ہے جو کہ اب تقریبا تکمیلی مراحل تک جا پہنچا ہے۔اب ہمارے بچوں اور صاحب ذوق افراد کو آئی ٹی اور کمپیوٹر کے متعلق بنیادی Knowledgeحاصل کرنے کے لئے،دھیرکوٹ،باغ،راولاکوٹاور مظفرآباد جیسی دور دراز جگہوں پر نہیں جانا پڑے گا۔انشاءاللہ امید کی جاتی ہے کہ تایا جی کی بے لوث خدمات کے صلے میں ہمارے بچے یہیں سے کمپیوٹر انجینئرز،ڈاکٹر،آرکیٹیکٹ،چارٹرد اکاﺅنٹنتساور سول سرونٹ کے امتحانات پاس کر کہ ملک کے اعلٰی عہدوں پر فائز ہو ں گے۔
Ladies and gentlemensocial workers help relief people,s suffering fight for social justice,and improves
lives and communication.
Most people think of social think of social workers when they think of poverty,alleviation,and child welfare.Many social worker do the kind of work.And we do much more.
Dear ladies nand gentle men I think the life of Uncle Mohtrem Barester Muhammad Ishaq Khan devoted his full life for acheiving followin goals in his whole life for performing social goals and for the prosperity and welfare of human kind.
He always asses his client.
he create and impliment treatment plan.
Then secure and refer need resorces.
Serve as a client Advocate.
An overview of the social work profession.
Make more then a difference
خواتین و حضرات ہمارے تایا محترم بیرسٹر محمد اسحٰق خان کم و بیش زندگی کی نوے بہاریں دیکھ چکے ہیں اس میں کوئی شبہ نہیں کہ انہوں نے اس دنیاوی زندگی کو بہت قریب سے جان پرکھ کر دیکھا ہے۔وہ بلا شبہ نہ صرف ہمارے خاندان کے عظیم المرتبت انسان ہیں بلکہ ساری ریاست جموں و کشمیر اور پاکستان کے انتہائی معتبر تر
lives and communication.
Most people think of social think of social workers when they think of poverty,alleviation,and child welfare.Many social worker do the kind of work.And we do much more.
Dear ladies nand gentle men I think the life of Uncle Mohtrem Barester Muhammad Ishaq Khan devoted his full life for acheiving followin goals in his whole life for performing social goals and for the prosperity and welfare of human kind.
He always asses his client.
he create and impliment treatment plan.
Then secure and refer need resorces.
Serve as a client Advocate.
An overview of the social work profession.
Make more then a difference
خواتین و حضرات ہمارے تایا محترم بیرسٹر محمد اسحٰق خان کم و بیش زندگی کی نوے بہاریں دیکھ چکے ہیں اس میں کوئی شبہ نہیں کہ انہوں نے اس دنیاوی زندگی کو بہت قریب سے جان پرکھ کر دیکھا ہے۔وہ بلا شبہ نہ صرف ہمارے خاندان کے عظیم المرتبت انسان ہیں بلکہ ساری ریاست جموں و کشمیر اور پاکستان کے انتہائی معتبر ترین اژخاص میں ان کا شما ر ہو تا ہے۔ یہ ہمارے لئے اعزاز کی بات ہے کہ ان جیسی شخصیتوںکا شمار رب ذوالجلال کی جانب سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے فانی اور ابدی لوگوں مین ہوتا ہے۔
بیرسٹر صاحب کا شمار بھی انہیںاشخاص میں ہو تا ہے۔ یہ ہمارے لئے اعزاز کی بات ہے کہ ان جیسی شخصیت جو سراپا پیا ر ہی پیار اور خلوص سے سرشار ہے وہ ہم میں موجود ہیں۔اللہ رب رحیم سے دعا ہے کہ وہ ان کی گھنی چھاﺅں تا دیر ہمارے سروں پر قائم و دائم رکھے۔ اللہ سے دعا ہے وہ انہیں عمر خضر عطا کرے اور میری زندگی بھی ان کے حصے میں قلمبند کرے۔
لکھنے کو تو ابھی بہت کچھ تھا لیکن اب مزید ہمت ساتھ نہی دے رہی پھر یہی دعا ہے کہ اللہ تایا محترم محمد اسح¾ق خان کی چھتری ہمارے سروں پر تا دیر قائم رکھے۔آمین۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں