216

*سیلابی صورتحال اور ہماری ترجیحات*

تحریر۔۔وسیم الحسن
عزیز ہم وطنوں الفاظ نہیں میرے پاس کن الفاظ میں ان لوگوں کی آواز آپ تک پہنچا سکوں سب سے پہلے تو میں معزرت کرتا ہوں اس ماں سے جس کی بچی پانی میں ڈوب کر دم توڑ گئی ،اس باپ سے جس کے بچے بھوک سے بلکتے ہوئے اس کی آنکھوں کے سامنے دم توڑ گئے اور وہ وہ سوائے بے بسی کے اندر ہی اندر اپنی موت کو مدد کے لیے پکارنے لگا ،اس بہن سے جس کے ہاتھوں سے اس نے ڈولی میں بیٹھنا تھا اور وہ اس کی لاش کو بھی سہارا دینے کے لیے آہ و فغاں کرتی رہی ،
معافی چاہتا ہوں تمام ان سیلاب زدگان سے جن کی نگاہیں ہماری منتظر ہیں۔
اے میرے دیس کے حکمرانوں اگر اقتدار کی بانٹ بندر سے فارغ ہوگئے ہو وزیراعظم صاحب وفاقی وزرائ صاحبان صوبائی حکومتیں اگر آپ کی مشینری اقتدار حاصل کرنے کے بعد فری ہوگئی ہے ؟
میڈیا والوں اگر آپ کو اس بات سے فرصت مل گئی ہے کہ کون ہوگا پنجاب کا وزیراعلی ؟ عدالت عظمیٰ کے جج صاحبان اگر آپ آئین کی تشریح کرنے سے فارغ ہوگئے ہیں میرے 22 بائیس کروڑ بھائیوں دن رات ٹی وی پر بیٹھے اس انتظار میں کہ کون ہوگا پنجاب کا وزیر اعلی ، اگر انتظار ختم ہوگیا ہے تو ان ماں باپ کی کی طرف بھی دیکھ جن کے بچے ان کی آنکھوں کے سامنے پانی میں ڈوب کر مر رہے ہیں ، بھوک کی وجہ سے بے بس موت کو آوازیں دے رہے ہیں گھروں کے گھر اجڑ گئے ہیں۔
اللہ سب کے بچوں کو سلامت رکھے کسی ماں باپ کو اولاد کا دکھ نا دیں لیکن کیا ان بچوں کے ماں باپ نہیں ؟
کیا ان کے سینوں میں دل نہیں ؟
خدارا تھوڑا سوچیے ہم دن رات ان حکمرانوں کی اولاد کی فکر تو کرتے ہیں فلا کے بیٹے کو اقتدار مل جائے فلا کے بیٹے کو مل جائے لیکن جو ووٹر ہیں الیکشن کے دنوں میں جن کے گھر جا جا کر ووٹ کی بھیک مانگتے ہیں آج ان کو آپ کی ضرورت ہے آپ سے التجائیں کررہیں ہیں آپ سے اپنے بچوں کی زندگیوں کا سوال کررہیں۔
خدارا اپنی آنا اور سیاست کو پیچھے چھوڑ کر اپنے اسلاف کی یاد تازہ کیجیے اور انکی مدد کو پہنچیں عوام سے اپیل ہے اپنی آواز حکمرانوں تک پہنچائیں شائد کے ان کے کان میں جوں رینگ جائے شائد کہ ان کا مردہ ضمیر آپ کے قلم آواز سے جاگ جائے کسی بہن کا سہاگ کسی باپ کی اولاد بچ جائے۔
آج سوشل میڈیا کا دور ہے تقریباً ہر شہری تک یہ پیغام پہنچ چکا ہے کہ پاکستان کے بہت سے اضلاع بارش کی وجہ سے سیلابی صورتحال اختیار کر کے ہیں لوگوں کی فصلیں ہی نہیں بلکہ گھروں کے گھر گر چکے ہیں رہنے کے لیے ان کے پاس چھت نہیں رہی کھانے کے لیے خوراک نہیں اس ہنگامی صورتحال میں ملک میں ایمرجنسی نافذ کرکے تمام حکومتی مشینری کو زیر استعمال لانا ہوگا اور ویلفیئر تنظیموں سے بھی گزارش ہے کہ وہ بھی اپنا اس میں بھر پور کردار ادا کریں۔
اب جس کے جی میں آئے وہی پائے روشنی
ہم نے تو دیا جلا کے سر عام رکھ دیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں