11

نیب ترامیم، حکومت نے اپنے گناہ معاف کرالیے، جسٹس اعجازالاحسن

اسلام آباد(نیوزمارٹ ڈیسک) چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے ہیں کہ نیب قانون میں کی گئی ترامیم اچھی بھی ہیں۔سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کیخلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت ہوئی۔ سپریم کورٹ نے نیب ترامیم پر نیب سے تحریری جواب طلب کر لیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ نیب قانون میں بہت ساری ترامیم کی گئی ہے، نیب قانون میں کی گئی ترامیم اچھی بھی ہیں۔وکیل پی ٹی آئی خواجہ حارث نے کہا کہ موجودہ ترامیم آئینی مینڈیٹ کی خلاف ورزی ہے، تو یہ بنیادی حقوق کی خلاف ورزی میں آتا ہے، آئین میں طے شدہ ضابطوں کے تحت قوانین کا جائزہ لے سکتے ہیں۔جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ قانون بننے وقت پارلیمنٹ میں اپوزیشن اس کی مخالفت کرتی ہے، اگر آپ سمجھتے ہیں کہ نیب قانون غلط ہے تو اسمبلی میں بل کیوں نہیں لاتے؟ قانون کا ڈھانچہ عدالت کے بجائے اسمبلی میں زیر بحث آنا چاہیے، جب ایک حلقے کا منتخب نمائندہ مستعفی ہوتا ہے تو کیا وہ اپنی عوام سے اجازت لیتا ہے؟۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں